دن میں اک زلزلہ آیا

on 2015-10-27

دن میں زلزلہ آیا

میں ڈیسک پر ہی موجود تھا
پہلے دماغ گھومنے لگا پھر پوری زمین ہلنے لگی
گاڑے سے چُنی اینٹوں اور مٹی کی چھت کے نیچے گویا مجھے قیامت کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی گئی
سوچا موت سے بھاگ نکلوں 
صرف دس قدموں کے فاصلے پر ایک خالی میدان مجھے پناہ دینے کو تیار تھا
اگر میری موت کا فیصلہ ہو چکا تو کہاں تک بھاگ سکتا تھا؟ دوسرے قدم پر منہ کے بل گرتا اور اپنی جان پیش کر دیتا---- آہ اتنی سی تو وقعت ہے میری
جنہیں خوشیوں میں خدا بھول جاتا ہے، انہیں مشکل میں خدا یاد آ ہی جاتا ہے، جسم تو زمین کے ساتھ ہی کانپ اٹھا تھا، گریہ و زاری کی کہ رب العالمین یہ نظام ہستی تیری ہی تخلیق ہے، اس کی رگوں میں دوڑتے قانون اور اصول تیرے ہی بنائے ہوئے ہیں، یہ سب تیرے اختیار میں ہے مولا رحم فرماء، ہم گنہگار اور ذلت خوار واقع ہوئے ہیں ہم مشکلات سے دوچار مت کرــــــ
میری مسکین سے صورت پر، ٹوٹے پھوٹے لفظوں پر، واپس لوٹنے اور اسے یاد کرنے پر ایک بار پھر اسے ترس آ گیا
وہ لچکتی دیوار، وہ جھولتی چھت جو چند لمحے پہلے اپنے نیچے میرا مدفن بنانے کے لیے انگڑایاں لے رہی تھیں، تھم گئیں 
جیسے جیسے زمین کی حرکت رکی، میرے دل کی دھڑکنوں کو ثبات آنے لگا، گہرا سانس لیا جیسے اپنے زندہ ہونے کو خود محسوس کرنا چاہتا تھا، بیس قدم اٹھائے اور جا کر پانی پیا 
واپس ڈیسک پر آن بیٹھا وہی کی بورڈ کی ٹھک ٹھک اور وہی اینٹر کی ٹھاہ، فقط موضوع ہی بدلا تھا
کبھی لکھنے لگا کہ زلزلہ تو اس لیے آیا ہے کہ سپریم کورٹ نے سود کی حمایت میں بیان دئیے تھے
کبھی لکھتا کہ کل غم حسین رضی اللہ عنہ سے آسمان پھٹ پڑا تھا، آج گریہ زہرہ سے زمین کانپ اٹھی ہے
کبھی کہنے لگتا کہ اس زمین پر زنا اور بدکاری عام ہو چکی ہے اسی لیے زمین ہلا ماری گئی کہ ہوش کے ناخون لو
کبھی کہتا کہ اللہ تعالیٰ نے میٹرو بس منصوبے کو عیاں کرنا تھا اس لیے زلزلے سے دکھا دیا کہ پاکستانیو شرم کرو اور آئندہ نواز شریف کو ووٹ نہ دینا
غرض میں نے ہر بار منہ بدلا اور ہر بار نئی بات سنی ، مجھے باتیں اس لیے آ رہی تھیں کہ میں زندہ بچ گیا تھا، اگر مجھے بھاگتے ہوئے پٹخ کر گرا مارا جاتا یا وہ جھولتی دیوار میرے اوپر آن گرتی تو میں یوں منصف بن کر رنگ برنگی باتیں نہ کر رہا ہوتا بلکہ میرے سامنے میری زندگی کے رجسٹر اکھٹے کرکے مجھے کسی بڑے منصف کے سامنے پیش کرنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہوتیں، لیکن میں بھول چکا ہوں وہ چند لمحے جو مجھ پر ابھی ابھی بیتے تھے ہاں بھول چکا ہوں، شاید یہ چھوٹے موٹے زلزلے بس اتنا ہی ہلا سکتے تھے جتنی دیر مجھے ہلا گئےـ



سانحہ مکہ اور دور جدید کے ابوجہل

on 2015-09-15



خانہ کعبہ میں ہونے والے حادثے پر دکھ کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے لیکن وہ مسلمان کہ جس کی خواہش ہو کہ اس کی پوری زندگی اپنے رب کی بندگی میں گزرے، جس کی دعاؤں میں ہو کہ مرتے دم بھی اس رب العالمین کے معبود ہونے کی شہادت دوں اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اس دنیا سے کوچ کروں اس مسلمان کے لیے یہ سعادت بہت بڑی ہے کہ وہ طواف کعبہ کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہو جائے، بندگی کی اس سے بڑی شہادت بھلا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک مسلمان مرکز اسلام میں ایک عظیم عبادت میں مصروف ہو اور اچانک اس کی جان، جان آفریں کے سپرد ہو جائے- لیکن ظاہر ہے کہ کسی بھی تمنا اور خواہش کے لیےخودکشی نہیں کی جا سکتی۔


مرنے والے الفت میں جان دے گئے اور سعادت کی موت پا گئے لیکن دنیا کے چند ایسے لوگ کہ جن کے دل و دماغ میں ٹیڑھ واقع ہو چکا ہے، انہوں نے تمام فطری اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے، اس حادثے سے خدا کے وجود پر تشکیک پھیلانا شروع کردیا- بہت سے افراد نے انکے الٹے سیدھے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی لیکن ان ٹیڑھے دماغوں میں دلیل کی سیدھی میخیں نہیں گاڑی جا سکتیں- لیکن عام مسلمانوں کو تشکیک سے دور رکھنا ہم تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔


اگر ہوتا یوں کہ مکہ معظمہ میں تمام ابدی فطری قوانین شل کر دیے جاتے یا پھر کوئی کرین گرنے لگتی تو فرشتے دوڑ کر اسے سنبھال لیتے کہ ان کے نیچے خدا کے پرہیزگار بندے ایک عظیم عبادت میں مصروف ہیں، پھر اللہ رب العالمین یہ کلیہ عام کر دیتے کہ جو بھی رب کا بندہ بنے گا وہ اپنے ابدی قوانین توڑ کر اسے اپنے اکرام سے نوازے گا تو بھلا اس دنیا میں کون احمق کافر رہتا، جب اس کی بندگی میں واضح طور پر اس کی جانبداری اس دنیا میں ہی ملنا شروع جاتی تو یہ مادیت پرست ملحدین اور سیکولر لبرل جو آج تمسخر اڑا رہے ہیں، شاید اس کی عبادت میں پہلی صف میں کھڑے ہوتے- لیکن ایسا نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو یہ کائنات سجانے کا جواز ہی ختم ہو جاتا، فرد کی آزادی ہی مقید ہو جاتی، آخرت کا تصور ہی گم ہو جاتا- اس لیے اس نے یہ جواز باقی رکھا، فرد کی آزادی کو قائم رکھا اور آخرت کے تصور کو مضبوطی بخشی، اس صلائے عام کے ساتھ کہ وہ اپنے بندوں کو پسند کرتا ہے، اسے غیر جانبدار نہ سمجھو، وہ تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کرتا ہے اور صرف پسندیدگی کی نگاہ ہی نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے بندوں کی دعاؤں اور التجاؤں کو سنتا بھی ہے۔ پھر اس کی تائید و نصرت اور رحمت و نعمت اور اس کا اجر صرف اور صرف اس کے حکم پر چلنے والوں کے لیے ہے-

عورت، سائنس اور اسلام

on 2015-07-19

اسلام کی بنیاد عدل پر ہے جبکہ جدید نظریات مساوات پر عورت کے حقوق کی بات کرتے ہیں- خود اس جدید انسان کی سائنس کہتی ہے کہ مرد اور خاتون میں کاپر اور زنک کے تناسب کا فرق ہے جس کی وجہ سے دونوں اصناف کی ساخت، بیالوجی اور فزیولوجی میں فرق ہے، یہ تو خود سائنس تسلیم کرتی ہے کہ عورت کمزور ہے، جلد خوفزدہ ہو جاتی ہے، مشکل حالات میں عدم توازن کا شکار ہو جاتی ہے- جب یہی بات اسلام کہے اور اس بنیاد پر عورت کو مرد کے برابر مگر مختلف حقوق دے تو ہمارے اپنے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں، کچھ اس کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اسلام کو بالکل جدیدیت کا عکس ثابت کر دیں پھر کسی غور و فکر کی ضرورت پڑے گی اور نہ تدبر سے اسلام سے مختلف رحجانات و نظریات کو چھانٹی کرنے کے مشکل عمل سے گزرنا پڑے گا، اس سے بڑھ کر عام مسلمانوں کو مشکل حالات میں استقامت اور قربانی سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا اسکے برعکس وہ اس آزاد ذہن کو پکڑنے کی کوشش نہیں کرتے جو خود سائنس سے بھی راہ فرار اختیار کر رہی ہے اور مرد اور عورت کو مساویانہ حقوق دینے کی بات کرتی ہے- عدل کا تقاضا ہے کہ مرد اور عورت کو ان کی ساخت کے لحاظ سے حقوق دیئے جائیں اور اگر عورت فطری طور پر کمزور واقع ہوئی ہے تو اس کو تھوڑے زیادہ حقوق دئیے جائیں- اس پس منظر کو سامنے رکھ کر جب ہم خالق کی طرف سے دئیے گئے احکامات کا جائزہ لیں تو صاف نظر آئے گا کہ بنانے والا اپنی تخلیق کو بہتر حقوق دیتا ہے-


سائنسی دعویٰ کی وضاحت

یہ قطعہ تحریر پڑھتے ہوئے بہت سی خواتین کو مشکل ہو گی، لیکن اچھے اور بُرے سے بیگانہ یہ چند ایسے حقائق ہیں جنہیں تسلیم کرنا پڑے گا۔ ان میں سے چند تو ایسے ہیں جن کے لیے کسی سائنسی حوالے کی ضرورت نہیں 
جسمانی ساخت:ــــــ
عورت جسمانی طور پر چھوٹی، کم وزن اور کمزور عضلات کی مالک ہے اسی لیے یہ اللہ تعالیٰ کی پر کشش اور نازک تخلیق کہلائی جاتی ہے۔ دوسری طرف مرد سے نسبتا کم چوکس ہے شاید بہت سے لوگ ایسا خیال نہیں رکھتے لیکن کبھی خوف سے بھاگتے ہوئے یا لڑتے ہوئے مشاہدہ کرنے سے بخوبی پہچان سکتے ہیں۔ 
ہارمونز:ـــــــ
ماہواری کا عمل عورت کے انگ ڈھنگ پر بہت حد تک اثر انداز ہوتا ہے، خاص طور پر جوانی میں اس دوران مختلف دن، سوچنے اور محسوس کرنے میں عورت کے لیے مختلف ہوتے ہیں. سائنس اسے ہارمونل پرسیپشن پرابلمز کا نام دیتی ہے۔ مرد کو اس قسم کے ہارمونل احساسات سے نہیں گزرنا پڑتا۔
مرد کا غالب ہارمون ٹیسٹو سٹیران (testosterone) ہے جو نہ صرف اعتماد اور تحفظ کا احساس دیتا ہے بلکہ احساس برتری (superiority) کا مظہر بھی ہے۔ عورت کا غالب ہارمون ایسٹروجن (estrogen) ہے جو عورت میں کاپر کی مقدار بڑھا اور زنک کو گھٹا دیتا ہے جو نہ صرف اعتماد میں کمی باعث بنتا ہے بلکہ عدم فیصلہ سازی کا احساس دیتا ہے۔ اس کی میں مزید وضاحت کیے دیتا ہوں
حیاتیاتی کیمیا گری:ــــــ
عورت کے جسم میں مرد کی نسبت زیادہ کاپر جبکہ کم زنک موجود ہوتا ہے۔ کاپر جسم میں موجود حیاتیاتی مرکب امائنز کو تحرک دیتا ہے جس کے زیر اثر عورت کے جذبات (emotions) نہ صرف نمایاں ہوتے ہیں بلکہ بھڑکتے ہیں۔ مرد میں زنک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو جذبات کو نہ صرف نرم رکھنے کو موجب بنتا ہے بلکہ عمل میں توازن پیدا کرتا ہے۔ 
عمومی طور پر خواتین میں عمل تکسید (oxidation) کی شرح مرد سے کم ہوتی ہے۔ عمل تکسید ایسا عمل ہے جس میں آکسیجن کیمیائی طور پر نامیاتی مرکبات سے ملتی ہے اور توانائی کی کافی مقدار حاصل ہوتی ہے۔اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ عورت مرد کی نسبت کم توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سہل انگار ہارمونل بہاؤ سے عورت ہمیشہ مشکلات میں مرد کی نسبت زیادہ خوف زردہ ہو جاتی ہے۔
یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرے رخ میں عورت کو کئی لحاظ سے مرد پر برتری حاصل ہے لیکن حیرتناک طور پر ان عوامل کے تعلق عورت کی تخلیقی صلاحیتوں سے ہے۔ جیسے کہ عورت میں خون کے سرخ خلیات کی تعداد مرد سے زیادہ ہوتی ہے۔ بہرحال ان عوامل کی تفصیل میں نہیں جائیں گے

نوٹ: یہ سائنسی حوالہ اسلام کے حقوق کی کسوٹی یا معیارحق ہونے کی دلیل کے طور پر نہیں بلکہ ان حقوق میں چھپی حکمت کو سمجھنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

ہم جنس پرستی: لبرل ازم کی جدید پروڈکٹ

on 2015-07-09



میں پولیس سے جھگڑرہا تھا، موٹر بائیک میری ہے، بھلے ٹھیک کہ اس کے دو پہیے لگے ہیں لیکن رقم خرچ کرنے کے بعد اب یہ اختیار میرا ہے کہ میں جیسے چاہوں اسے بھگاؤں لیکن پولیس والا بھی بضد تھا کہ جب تک ون ویلنگ پر پابندی موجود ہے، آپ یہ حرکت نہیں کر سکتے، اگر کریں گے توآپ کو جیل جانا پڑ ے گا۔آپ کی ریاست تو انسان کی آزادی سلب کر رہی ہے، موٹر بائیک بھی میری اور چلانے کا حقدار بھی میں تو بھلا ریاست کو کیا اختیار کہ وہ میرےون ویلنگ کی خواہش کو روک سکے۔ میں ایک لبرل انسان ہوں جو اپنی آزادی پر یقین رکھتا ہوں۔ میں اپنے آپ کو بہتر سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں اپنے آپ کو بہتر جانتا ہوں، میں خود پسند ہوں ، مجھے پاگل سمجھیے یا جاہل اب اگر میں ون ویلنگ سے مر بھی جاؤں تو آپ کو کیا؟ یہ زندگی تو میری اپنی ہے۔ تمہاری ریاست مذہبی ہے، تمہارا بیانیہ قرار داد مقاصد ہے، تم انسانوں پر قدغن لگاتے ہو، ان کی خواہشات پر اور ان کی آزادیوں پر۔ وہ دیکھو دنیا کی سپر پاور انسانوں کی لذت کیلئے انہیں ہم جنسوں سے شادی کا اختیار دے رہی ہے، ارے "گے" تو پھر بھی انسانی نسل سے تعلق رکھتا ہے، اگر مجھے ایک کتیا سے لذت مل سکتی ہے تو مجھے اس بھی شادی کا حق ملنا چاہیے کیوں کہ میری زندگی پر کسی کو قدغن لگانے کا اختیار نہیں ۔ 


اچھا تو تم لبرل انسان ہو، اگر تم اپنی آزادی کے قائل ہوتو مجھے جسمانی ساخت کے علاوہ انسان اور حیوان می فرق سمجھا دیجئے ،تمہاری خواہش تمہیں گھاس کھانے پر اکسا سکتی ہے لیکن حضرت حیوان بھی شاید آزادیوں میں آپ سے پیچھے رہ گیا کہ گوشت کھانے والا جانور، چارے کی خواہش نہیں کرتا۔ہاں وہ اپنی آزادیوں کے لیے قرار دادیں اور قوانین پاس نہیں کرواتا، لیکن ماڈرن لبرل ازم نے تو اس فرق کو بھی غیر منطقی سمجھا۔ تمہاری آزادی، مذہب اور ریاست سے آزادتو تھی ہی، سائنس اور فطرت سے بھی فرار اختیار کر رہی ہے اور انفرادیت پسندی ایسی کہ جس معاشرے میں زندہ ہیں اسی سے بیگانہ ہو رہے ہیں، لذتوں کی چاہت میں تم اپنے تو اپنے ، معاشرے کے نفع و نقصان سے بھی دور ہو گئے۔ہم جنس پرستی جیسی آزادی سے تم نےفطرت کے ساتھ غداری و خیانت کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ فطرت نے جس صنف کو لذت کی نوع اور تمدن کی خدمت کا صلہ بنایا تھا اور جس کے حصول کو فرائض اور ذمہ داریوں اور حقوق کے ساتھ وابستہ کیا تھا، ہم جنس پرست اسے کسی خدمت کی بجا آوری اور کسی فرض اور حق کی ادائیگی اور کسی ذمہ داری کے التزام کے بغیر چرا لیتا ہے۔ہم جنس پرست انسانی معاشرے کے ساتھ کھلی بددیانتی کرتا ہے کہ نظام کے قائم کیے ہوئے تمدنی اداروں سے فائدہ تو اٹھا لیتا ہے مگر جب اس کی اپنی باری آتی ہے تو حقوق اور فرائض اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی بجائے اپنی قوتوں کو پوری خود غرضی کے ساتھ ایسے طریقہ پر استعمال کرتا ہے جو اجتماعی تمدن و اخلاق کے لیے صرف غیر مفید ہی نہیں بلکہ ایجاباً مضرت رساں ہے۔ وہ اپنے آپ کو نسل اور خاندان کی خدمت کے لیے نااہل بناتا ہے، اپنے ساتھ کم از کم ایک مرد کو غیر طبعی زنانہ پن میں مبتلا کرتا ہے، اور کم از کم دو عورتوں کے لیے بھی صنفی بے راہ روی اور اخلاقی پستی کا دروازہ کھول دیتا ہے(تفہیم القرآن)۔ 1840ء سے 1973 تک ہم جنس پرستی ایک مرض کے طور پر دیکھی جاتی رہی، نفسیاتی علاج بھی دریافت ہوئے اور ایلو پیتھک علاج بھی آزمائے گئے جس میں کاسٹریشن اور انزائم تھراپی شامل تھی لیکن سائنس اس کے کامیاب علاج میں ناکام رہی، بہتر علاج کے لیے اس پر ریسرچ جاری رہیں اور اس کی بائیولوجیکل اور جینیاتی وجوہات کی تلاش جاری رہی۔1956ء میں ایک خاتون نے شگاگو میں ریسرچ کی جس میں دونوں اقسام کے جنس پرستوں میں طبی بنیادوں پر کوئی فرق ثابت نہ ہوا اسی ریسرچ کی بنیاد پر لبرل گروپس نے خود کو تحریک دی اور سیاسی بنیادوں پر 1973ء میں "ہم جنس پرستی" کو طبی ادارے نے بیماریوں کی لسٹ سے خارج کر دیا۔ لیکن دوسری طرف ڈی این اے میں اس کے فزیولوجیکل وجود نہ ملا، خود سائنس دان کہتے ہیں کہ ہم جنسی پرستی پر ریسرچ کا سب بڑا موٹیو سیاسی تحرک تھا چاہے اس کے نتائج ہم جنس پرستی کے حق میں آئے ہوں یا مخالفت میں۔ حال میں اسے ایپی جینٹکس کا حصہ مانا گیا ہے۔ ایپی جینٹکس جدید سائنس ہے خوش قسمتی سے میں خود اسی شعبہ سے تعلق رکھتا ہوں، آج سے ایک عشرہ پہلے یہ سمجھا جاتا رہا کہ انسان وہی کچھ کرتا ہے جو اس کے ڈی این اے میں کوڈ کی شکل میں موجود ہو اور موجود ماحول میں ایکسپریس ہو۔ لیکن ایپی جینٹکس نے اس تصور کو تھوڑا بدلا ہے کہ انسان وہ کچھ کرتا ہے جس کا شعور اسے حاصل ہوتا ہے۔ مطلب سارا کا سارا ڈی این اے ہی کام نہیں کرتا بلکہ انسان کی سوچ بھی اس کا حصہ بنتی ہے۔ اس سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ ہم جنس پرستی کا تعلق انسان کی اپنی سوچ سے ہے نہ کہ فزیکل سائنس سے۔ دوسری چیز انسان کے اعضاء کی بناوٹ اور ساخت ہے وہ ہم جنس پرستی کو سپورٹ نہیں کرتی، ہم جنس پرست دراصل اپنی اور اپنے معمول کی طبعی ساخت اور نفسیاتی ترکیب سے جنگ کرتا ہے اور اس میں خلل عظیم برپا کر دیتا ہے جس سے نہ صرف اس کے اخلاق بلکہ دونوں کے جسم اور نفس پر نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔۔ مرد کا عضو خاص عورت کے حساب سے بنایا گیا ہے، پھر اس کی غدود جسے مادہ منویہ کہا جاتا ہے، ہم جنس پرستی میں اس کی اہمیت پیشاب سے زیادہ کی نہیں رہتی۔ ہم جنس پرستی میں ہم اس کا فنکشن گم کر دیا جاتا ہے۔ یہ سراسر انسانی ساخت اور بناوٹ اور بائیو لوجی سے انحراف ہے۔ اس لیے ہم جنس پرستی کو نہ تو فطری کہا جا سکتا ہے اور نہ سائنسی ۔۔۔۔ جہاں تک ہم جنس پرستی کے دائمی اور ناقابل تبدیل کا تعلق ہے ہاں یہ ایسا ہی ہے لیکن اس کا تعلق نفسیات اور معاشرت سے ہے۔ مغرب کے پاس اس کا کوئی سوشل حل نہیں تھا اور تھا بھی تو وہ فرد کی آزادی کا قائل ہے۔ جب تک اسے بیماری قرار دیا جاتا رہا اس کا نفسیاتی علاج کیا جاتا رہا حتی کہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کے لیے "چینجنگ آور مائنڈز" نامی فلمیں بھی تیار کی گئیں۔ لیکن یہ ایسا معاملہ نہیں تھا، یہ بالکل مشت زنی جیسا عمل ہے جس کا علاج نہ سائنس کے پاس ہے اور نہ ہی نفسیات کے پاس۔ہاں اس کا علاج معاشرت میں موجود تھا، مذہب کی الہامی حدود و قیود میں موجود تھا جس سے لبرل حلقے آزاد رہنا چاہتے ہیں

سانحہ پشاور کے چند غورطلب پہلو

on 2014-12-18
اس اندوہناک واقعہ نے پاکستانی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر دئیے ہیں جو 14 سالہ اس جنگ میں کسی موقع پر نہیں پڑ ے۔میں نے اس واقعہ کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا اور چند نتائج اخذ کئے جنہیں آپ کے حوالے کئے دیتا ہوں
مجھ سمیت بہت سے ایسے لوگ جو چند تحفظات کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اس امریکی جنگ میں اپنی ہمدردی امریکہ مخالف پلڑے میں ڈالتے تھے سوچنے پر مجبور ہوئے۔ بلاشبہ اس خطہ جسے ہم زمین کہتے ہیں اس پر بسنے والے انسانوں کے مختلف گروہ چاہے جتنے ہی حق و سچ کے شیدائی اور برحق گردانے جاتے ہوں، ان میں فطری طور پر کم یا زیادہ بُرائیاں اور غلطیاں پائی جاتی ہیں، خود ہم جس پارٹی یا گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اگر اس کے بارے انصاف کے ساتھ سوچیں تو ہمیں یہ سب نظر آئے گا۔ اسی طرح میری اور مجھ جیسے بہت سے لوگوں کی رائے تھی جس کا مختلف جگہوں پر اظہار بھی کیا گیاکہ تحریک طالبان میں غلطیاں موجود ہیں لیکن مقصد، خلوص اور عدل وانصاف کے پیش نظر وہ اس قابل ہیں کہ امریکہ کے مقابلے میں اس کے لیے نرم گوشہ رکھا جائے۔ اس دوران وہ غلطیاں کرتے تو مذمت اور افسوس بھی کیا جاتا رہا۔ لیکن جب کوئی گروہ یا پارٹی پےدرپے اپنی غلطیوں کو دوہراتی جائے تو اس کا مجموعی تاثراس کے بقیہ عناصر پر حاوی ہو جاتا ہے۔ تحریک طالبان کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے، اسلام جنگ وجدل کے بارے جو ہدایات جاری کرتا ہے وہ مسلسل اس کے نافرمان بن چکے ہیں۔ لہذٰا اب وہ اس درجہ سے خود بخود گر چکے ہیں جس پر ان سے کسی سطح پر ہمدردی کا رویہ رکھا جائے۔ بظاہر اس معاملے پر امریکہ اور اسلام دشمن قوتوں کی جیت ہوئی ہے، لیکن اس شکست میں خود تحریک طالبان کے اپنے ہاتھ ہیں کہ ان کی اس جنگ کے حامی اب مشکل سےملیں گے۔
دہشت گردی کی اس نام نہاد جنگ میں پاکستان کی شرکت مبنی بر انصاف نہیں رہی، یہ شراکت محض ایک فون کال پر قبول کر لی گئی تھی اور سالہ سال گزر گئے کسی حکمران کو اس پر غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ ہی جرات پیدا ہو سکی کہ اپنی خارجہ پالیسی کو از سر نو مرتب کر سکے۔ اس جنگ کے لیے پاکستان نے نہ صرف اپنی زمین اور اڈے فراہم کئے بلکہ تمام تر لاجسٹک سپورٹ سمیت عسکری طور پر نان نیٹو اتحادی کا اعزاز بھی حاصل کیا، پاکستان بھر سے افغان طالبان کے عملی  حمایتوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کو بیچنا شروع کردیا حتی کہ اس مد میں ایک سال کے بچوں کا ریٹ بھی لگایا گیا۔ ان سہولتوں کے ساتھ امریکہ نے افغانستان پر ایک جنگ مسلط کی۔ اس اندھی جنگ کی کارپٹ بمباری سے لاکھوں معصوم افغانی شہید ہوئے بلکہ پہاڑتک ریزہ ریزہ ہو گئے۔ پاکستان کی مکمل حمایت کے باوجود امریکی معیشت کی کمر دوہری ہو گئی، اور کہا جاتا ہے کہ اگر پاکستان کی مدد شامل جنگ نہ ہوتی تو امریکہ اور اس کی معیشت کے لیے یہ جنگ لڑنا اتنا آسانی سے ممکن نہ ہوتا۔ باوجود اس کے یہ جنگ افغانستان کے جنگی ماحول میں ناکام ہو گئی۔ حال حال میں اس کا مختلف جگہوں پر اقرار بھی کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران پاکستان میں موجود افغان طالبان کے دوستوں نے پاکستان کی اس مدد کے ردعمل میں پاکستان کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔ پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا، اس نے بھی وہی طریقہ کار اختیار کیا جو امریکہ افغانستان میں آزما رہا تھا، اس کا مشاہدہ حال ہی کے آپریشن ضربِ عضب سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں کارپٹ جیٹ بمباری سے کئی بستیاں ملیا میٹ کر دی گئیں جو مختلف وجوہات کی بناء وہاں سے نقل مکانی نہیں کر سکے تھے۔ ان میں بھی معصوم بچے شامل تھے لیکن سچ پر پہرہ بھی تھا اس لیے ہماری نظریں یہ مناظر دیکھنے سے بچی رہیں۔
قانون فطرت ہے کہ جو قوم عدل و انصاف نہیں کر سکتی ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا، ظلم کے مقابلے میں ظلم ہی ملا کرتا ہے آپ شاید اس بات سے اختلاف کریں لیکن یہ بات کیرن آرمسٹرانگ نے اپنی کتاب "خدا کے لیے جنگ " میں بھی لکھی ہے' دنیا میں ہمیشہ شدت پسندی سے ہی شدت پسندی وجود میں آئی ہے'۔ 
اس قوم کو بہت چاہ تھی اور امریکہ سمیت بہت سے ممالک کی خواہش بھی پاکستان اپنےملک کے اندر آپریشن کے نام پر جنگ کا آغاز کرے، نتیجتاً ضرب عضب کے نام سےایک آپریشن شروع کیا گیا، یہ اسی دہشتگردی کیخلاف جنگ کے تسلسل میں تھی۔ 6 ماہ مسلسل بمباری کی گئی اور خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہیں کہ روزانہ درجنوں کے حساب سے دہشتگردوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔آرمی چیف نے اعلان کیا کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے اور تمام نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا ہے۔ آپریشن کی 80 فیصد کامیابی کا اعلان بھی ہوا، ابھی حال ہی میں آرمی چیف امریکہ تشریف لے گئے، اس آپریشن کی کامیابی کی داد سمیٹ لائے۔ لیکن آرمی پبلک اسکول پر حملے نے اس آپریشن کی کامیابی کا پول کھول دیا۔ 2008 سے 2014 تک 20ہزار دہشتگرد مارے گئے، ضرب عضب میں 1800 دہشتگرد اڑائے گئے باوجود اس کے تحریک طالبان نے اپنے زندہ ہونے کاثبوت دیا ، پشاور کے حساس ترین علاقے اور آرمی میس سے چند کلومیٹر دور آرمی کے ہی ایک اسکول میں کامیاب کاروائی کر کے دل چھلنی چھلنی کر دئیے۔ اس قوم کی اکثریت اب زیادہ شدت کے ساتھ ان دہشتگردوں کا تباہ و برباد کرنا چاہتی ہو گی لیکن اس آپریشن کے جو نتائج سامنے آرہے ہیں ان کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا اور افغانستان جنگ میں امریکہ کی ناکامی پر غور بھی کرنا ہوگا۔
اس واقعہ کا سب سے خوف زدہ پہلو یہ ہے کہ اس واقعے کو ملالہ واقعہ کی طرز پر 'سمبلائز' کر کے نہ صرف جہاد بلکہ مدرسوں، مذہبی لٹریچر اورخود اسلام اور مسلمانیت پر حملہ آور ہوا جا رہا ہے۔ جو دوست احباب ٹوئٹر پر موجود ہیں وہ اس کو لائیو دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی چلا رہا ہے کہ یہ نتیجہ دیکھ لیا اسلام کے جہاد کا، اسلام اس دور میں چلنے کے قابل نہیں، کوئی کہہ رہا ان مدرسوں کو ختم کر دیا جائے، کوئی پکار رہا ہے کہ مذہبی لٹریچرکو آگ لگا دی جائے، مذہبی اداروں پر پابندی لگا دی جائے۔ اور ان آنکھوں نے ایک شخص کو یہ کہتے دیکھا کہ آج تو خود کو مسلمان کہتے شرم آرہی ہے۔ اللہ رحم فرما، آج یہ حال ہوا کہ جن لوگوں نے اسلام کے احیا کے لیے جہاد کرنا شروع کیا، وقت نے ان کو اپنے ہاتھوں ایسا استعمال کیا کہ وہ خود اسلام کی راہ سے دور بھٹکے تو بھٹکے پاکستان میں اسلام کی سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا۔ آج اسلام اور جہاد کو جرات کے ساتھ بیان کرنے والے مارے شرم کے منہ نیچے کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

نوٹ: یہ خیالات ذاتی آراء اور معلومات پر مشتمل ہیں جومخصوص واقعے کے پش منظر میں پیدا ہوئے، راقم سمیت کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

بنگلہ دیش کے دہشت گرد؛ ماحولیات کے لیےکوشاں

on 2014-12-04

مادہ مچھلی کو پانیوں میں چھوڑنا، ترقی یافتہ ممالک میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن ترقی  پذیر ممالک میں اس سے دوہرا فائدہ لیا جا سکتا ہے۔اس کی وجوہات درج ذیل ہیں
الف:
 یہ عمل ترقی پذیر ممالک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور ویسے بھی مچھلی اور مچھلی سےپیدا کردہ اشیاء، بیف اور مٹن سے نسبتاً سستی ہوتی ہیں۔
ب:
 انسانی اور غیر انسانی استعمال سے آبی مخلوق کم ہوتی جا رہی ہیں جو فلورا میں بے ترتیبی پیدا کر کے آبی ماحولیاتی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس عمل سے پیدا شدہ خلا کو پُر کیا جا سکتا ہے۔

بنگلہ دیش کا قومی میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اس کی ذیلی طلبہ تنظیم شبر کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

 بنگلہ دیش اسلامی چھاترا شبر قیام بنگلہ دیش کے بعد مسلسل اپنے ایجنڈے پر کاربند ہے کہ ایک روشن خوشحال بنگلہ دیش کے لیے ایماندار، باصلاحیت اور محب وطن شہری تیار کرتی رہے گی۔ اس تسلسل میں 24 ستمبر سے 30 ستمبر 2014، ایک ہفتہ پر محیط مہم چلائی گئی جس کے دوران ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں مادہ مچھلی کے بچوں کوپانیوں کے اندر چھوڑا گیا۔ مرکز سے ملک بھر کے تمام ممبران کو ہدایات پر مشتمل ایک خط روانہ کیا گیا اور زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو اس کارخیر میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ تمام مقامات پر اس ضمن میں خصوصی سیمینار، ورکشاپس اور آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ اس ہفتہ کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ کیجئے


  ڈھاکہ اور ڈھاکہ ڈویژن


باریسل ڈویژن

چٹاگانگ ڈویژن

کومیلا ڈویژن

کھلنا ڈویژن



راجشاہی ڈویژن

رنگ پور ڈویژن


سہلٹ ڈویژن









تنقید و تفکر کا قتل عام

on 2014-01-14

تنقید اور تفکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

تنقید اور تفکر ارتقائےِ انسانی کے ماخد کہلائے جاتے ہیں۔ اگر ان کے لفظی مطالب کی طرف جائیں تو تنقید عربی لفظ نقد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب "کھرے اور کھوٹے کو الگ کرنا" ہے۔ تفکر، فکر سے ماخوذ ہے جس کا مطلب "غور کرنا اور جاننا" ہے۔ 

جدید رجحانات میں ایک عرصے تک دونوں کی اہمیت برقرار رہی اور کسی حد تک اب بھی مروج ہے۔ ایک آلے کے طور پر اس کا استعمال نظریاتی، سماجی، عمرانی اور نفسیاتی علم و فلسفہ میں کیا جاتا رہا لیکن لبرل ازم نے اس پر ایسی کڑی لگائی کہ ایک بڑی تعداد میں جدید اور مابعد جدید ادباء و شعراء اور صد فیصدی معاشرتی و سیاسی پنڈت اب خود کو اس سے آزاد تصور کرتے ہیں اور آزاد تفکر اور ماروائے تنقید پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ جب ہم اس کی وجوہات کی طرف دھیان دیں تو لبرل ازم کے انفرادیت پسندی کے بعد دوسرے بڑے اصول آزادی کو علیحدہ بھی رکھ دیں تو تنقید و تفکر کے اصول کو بھلائے دینا اور تنقید و تفکر کے بجائے طنز و مخالفت کو متحرک پاتے ہیں۔

تنقید و تفکر کی بنیادوں میں یہ اصول و ضوابط کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں کہ عدل و انصاف کی کسوٹی پر ذاتی نظریات و اعتقادت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان دونوں آلات کا استعمال کیا جائے اسی سے وہ ارتقا ممکن ہے جو انسانی فلاح کا موجب بن سکتا ہے۔

لیکن افسوس صد افسوس دائیں اور بائیں دونوں طرف تنقید کے نام پر طنز اور شدید مخالفت کی جاتی ہے ۔ تفکر کے نام پر ذاتی آراء کے لیے دائرۃ المعارف میں نقب لگائی جاتی ہے ۔ اس کے بعد اس بات پر بھی زور دیا جاتاہے کہ ان کی ان کاروائیوں کو تنقید و تفکر کے اصل درجہ پر رکھ کر قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

نوٹ: یہ راقم کا ذاتی تجزیہ ہے اور عمومی تناظر میں لکھا گیا ہے لہذا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

دہشتگردوں کے چند اقوال زرّیں

on 2013-12-27
یہ بلاگ اُن امن پسندوں اور اُن کے حواریوں کے نام
جن کی امن پسندی اور حسن اخلاق سے متاثر ہو کر
تُورا بُورا کے سخت پہاڑ بھی رائی بن گئے۔
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ۔۔۔ان کا نام ہے دنیا بھر کے امن پسند انہیں موجودہ دہشت گردی کا بانی لکھتے ہیں۔ اِنہوں نے دہشت گردوں کی ایک منظم جماعت بھی تشکیل دی جسے "اُم الارھابین" مطلب دہشت گردوں کی ماں کا خطاب   دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ انہیں چورپسندبھی کہتے ہیں اسکے پیچھے بھی ایک عجیب واقعہ    روایت کیا جاتا ہے کہ ایک بار اُن کے گھر چور گھس آئے اور چھوٹا موٹا سامان اٹھا کر بھاگ نکلے ، جب اگلے دن اپنے دہشت گرد ساتھیوں کو چوری کی واردات  سنا رہے تھے تو جہاں جہاں چور کا نام آتا  چہک چہک کر چور صاحب  بولتے جاتے۔ ایک  معصوم امن دوست  شخص دنیا کو اس دہشت گرد سےپاک کرنے کیلئے ان کے گھرآن ٹپکا،  سفید چمکدار باریش چہرہ  اور چند لمحوں کی باتیں سن کر  ایسی دہشت چھائی کہ قتل کرنے کی غرض سے چھپایا ہوا چاقو ، روتے ہوئے نکالا اور  ان کی جھولی میں رکھ دیا۔



یہی دہشت گرد اپنے پیرو کاروں کو ہدایات دیتے ہوئے کہتا ہے کہ:

آپ کسی حال میں مشتعل نہ ہوں اپنی زبان اور مزاج پر قابو رکھیں اور جب کبھی اشتعال کی کیفیّت ابھرتی محسوس ہو اسے نزع شیطانی سمجھ کر اللہ کی پناہ مانگیں۔۔۔۔۔ مخالفین سے خواہ آپ کو کتنا ہی رنج پہنچے، آپ اسے رنج و افسوس تک محدود رکھیں اور نفرت تک ہرگز نہ پہنچنے دیں۔۔۔

ایک اور جگہ ہدایت کرتے ہیں کہ:
جسے  ہمارے ساتھ اسلام کے راستے پر چلنا ہو اس کے لیے بہترین حکمت یہ ہے کہ اگر راستے میں کسی کانٹے سے اس کا دامن الجھ جائے تو ایک لمحہ ٹھہر کر دامن چھڑانے کی کوشش کرے اور جب وہ چھوٹتا نظر نہ آئے تو اپنا راستہ کھوٹا کرنے کے بجائے دامن کا وہ حصّہ پھاڑ کر کانٹے کے حوالے کرے اور آگے روانہ ہو جائے۔


ان سے کون واقف نہیں  ثابت اور تصدیق شدہ دہشت گرد  اعظم۔۔۔۔۔ کراچی کے چند گز مکاں کا مالک ، دہشت گردوں کے گڑھ منصورہ ، لاہور کے مہمان خانے میں ایک چھوٹے 
سے کمرے کا باسی سید منور حسن۔۔۔۔۔۔ 
چند دن پہلے کی بات ہے کہ نذیر احمد کاظمی   فکری و نظریاتی مخالف  ۔۔۔۔ دبئی میں انتقال کر گیا۔ اخبار میں خبر پڑھی تو پریشان ہو گئے، اپنے احباب سے کہا کہ کاش  مجھے اس کے خاندان کا رابطہ نمبر مل جائے کیوں کہ ان کے خاندان سے مرحوم کے فکر و نظریاتی ہمسفرتعزیت نہیں کرنےوالے۔۔۔   دہشت گردوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
شب و روز بدلتے رہیں گے،  مشاغل کے اندر تبدیلی آتی رہے گی، زندگی اپنی ترجیحات کو تبدیل کرتی رہے گی، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اندر نصاب بھی بدلتے رہتے ہیں نظام کی تبدیلی کی بات بھی کی جاتی رہے گی اساتذہ اپنے کردار کے اعتبار سے اگر کسی  کا خیال  ہے کہ پہلے جیسے نہیں رہے تو یہ آپ کا موضوع نہیں ہے ،آپ کا موضوع یہ ہے کہ آپ جوکل تھے وہ آج ہیں یا نہیں، جیسا ہونا چاہیے ویسےہیں یا نہیں۔


یہ بھی دنیا کا ایک دہشت گرد اعظم گردانا جاتا ہے، قاہرہ کی ایک سڑک پر امن پسندوں نے اسےاس وقت قتل کر دیا گیا جب یہ دہشت گرد مسجد سےنماز پڑھ کر اپنے گھر جا رہا تھا۔ اپنے دہشت گرد ساتھیوں سے  ہیبت زدہ باتیں کرتے ہوئےکہتا ہے:
اے اخوانیو! کیا تم اس وقت کے فاقوں کے لیے تیار ہو جب تمام لوگوں کے پیٹ سیر ہو کر ڈھلک رہے ہوں۔۔۔ ۔۔کیا سرد راتوں  میں پہرہ دینے کے لیے تیار ہو جب تمام لوگ گرم بستروں میں نیند کے مزے اڑا رہے ہوں ۔۔۔۔۔ کیا اس وقت دھوپ میں کٹھن کام کرنے کے لیے تیار ہو جب باقی لوگ ٹھنڈی چھاؤں میں آرام کر رہے ہوں۔۔۔۔۔ اور آخری بات کہ کیا تم ایسے لمحات میں مرنے کے لیے تیار ہو جب لوگ ایک مزیدار زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے جی رہے ہوں۔۔۔
ابھی بھی اس دہشت گرد کا من ٹھنڈا نہیں ہوا تھوڑے وقفے کے بعد پھر لب کھلتے ہیں اور دہشت گردوں کو ترغیب دیتے ہوئے کہتا ہے:

اے اخوانیو! لوگوں کے ساتھ ایک پھلدار درخت کی طرح پیش آؤ ۔۔۔۔۔ جس پر لوگ پتھر مارتے ہیں  ۔۔۔۔ اور وہ    ۔۔۔ ان کی جانب لذید مٹھاس سے بھرے پھل پھینکتا ہے۔
اے اخوانیو! جب تم دیکھو کہ لوگ نفرتوں اور مخالفتوں کی چھونپڑیاں تعمیر کر رہے ہیں تو ان کو مسمار کرنے  سے پہلے ان کے سامنے برداشت اور کردار کے  عالیشان محل بنا کر کھڑے کردو۔۔۔۔ ان کی پرواز کے الٹ اڑو ۔۔۔۔ چاہے وہ اپنے باطل پن میں جیسے ہی کیوں نہ پیش آئیں۔



یہ  وقت کا ایک اور دہشت گرد  جو دہشت گردوں کا مرشد عام بھی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر محمد بدیع ۔۔۔۔ جسے مصر کی فوج نے  گرفتار کیا اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا۔ اس دہشت گرد نے اپنی گرفتاری کے خلاف کوئی ہتھیار تو کجا لفظی مزاحمت تک نہ کی ۔۔۔۔۔ میدان رابعہ العدویہ میں لاکھوں دہشت گردوں سے  مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے:
ہمارا انقلاب پر امن انقلاب ہے اور پرامن ہی رہے گا
اور ہمارا امن ان کے ٹینکوں سے زیادہ طاقت ور ہے

مصر کے امن پسندوں بغیر کسی ذاتی جانی و مالی  نقصان کے  8000 سے زائد دہشت گردوں کو  صفحہ ہستی سے مٹا کر جماعت  اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پابندی لگا دی ہے صرف پابندی ہی نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو اس سے اپنا تعلق استوار کرے گا، اس کی مالی مدد کرے گا یا اس جماعت کے حق میں لکھے گا وہ بھی دہشت گرد کہلائے گا۔ پاکستان میں بھی کراچی کے نامعلوم امن پسندوں کی پھرپور کوششیں جاری ہیں کہ جماعت اسلامی جیسی دہشت گرد تنظیم پر پابندی لگائی جا سکےتاکہ ان کی امن پسندی کو سکون کا سانس ملے۔