دین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
دین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

تبدیلی کی سرشت اور فتویٰ جدید

on 2016-04-26


انسان کی سرشت تبدیل ہو جانا ہے، اس کے لیے اسے کسی خارجی دباؤ کی ضرورت نہیں پڑتی- مثلاً آپ کسی ایک ہی جوتے کو سالہ سال پہننے کو پسند نہیں کرتے، سال دو کے بعد ہی اسے تبدیل کرنے کی خواہش آپ میں جنم لینے لگتی ہے چاہے اس جوتے کی حالت بہتر ہی کیوں نہ ہو- اس تبدیلی پر اثر انداز ہونے والے خارجی عناصر میں آپ کی تنخواہ ہے یا آپ کا شیخ و میمن ہونا- آپ ہفتے کے سات دن اور ہر دن کے تین اوقات میں فقط روٹی کھانا پسند نہیں کرتے، اگر بہت ہی برے حالات بھی ہوں تو ہفتہ میں ایک آدھ دن آپ چاول بھی تناول کرتے ہیں- پھر خود روٹی کے ساتھ سالن کو تبدیل کرتے رہتے ہیں- آپ روز بینگن کے ساتھ روٹی کھا کے دکھائیں- ایسا تو حکماء مریضوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ صبح دوپہر شام کدو چھیل کے کچا کھانا ہے- ہم اپنے گھروں میں اپنی خواتین کو دیکھتے ہیں کہ ہر سال وہ کمرے کی سینٹنگ تبدیل کر دیتی ہیں، بیڈ بھی وہی ہوتا ہے، صوفہ بھی وہی ہوتا ہے، الماری اور شو کیس بھی وہی ہوتا ہے لیکن تبدیل ہونے کی سرشت مجبور کرتی ہے کہ کچھ آگے پیچھے کر کے ہی حلیہ بدل دیا جائے- اس کار جہاں میں باریک بینی سے جائزہ لیجئے تبدیل ہونے کی یہ اندرونی خواہش آپ کو پورے معاشرے میں نظر آئے گی- لیکن آپ نے دیکھا کہ کبھی انسان نے سوچا ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا جو طریقہ بتایا ہو انسان کی جبلت نے اسے بدلنے کی خواہش ظاہر کی ہو، خدا کو سجدہ ہی کرنا ہے نا، تو کیا مغرب میں خدا ہے مشرق میں نہیں ہوگا؟ کیوں نہ رخ بدل لیا جائے؟ چلیں ایک ہی سورۃ فاتحہ بار بار پڑھنے سے اکتاہت پیدا ہو گئی ہو، قرآن مجید تو پورا معتبر اور فصیلت والا ہے سورۃ فاتحہ کی جگہ کوئی اور سورت پڑھ لیتے ہیں؟ ایسی سوچ نہیں آتی کیوں کہ یقین ٹوٹنے لگتا ہے، تعلق کمزور ہونے لگتا ہے- یہاں دین کی تقریبا ساری ہی تعلیمات اور اعمال رکھے جا سکتے ہیں اور صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ الہام خود ایک خارجی عنصر ہے جسے ایمان کی طاقت بہم پہنچ رہی ہے، انسان کی دماغی ارتقاء سے ان کا مادی وجود بدل رہا ہے، ایسے میں شریعت کے فروع میں تبدیلی کا فطری جذبہ پیدا ہوتا ہے لیکن وہ اپنے ایمان کے بچاؤ کے لیے اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے- اور اگر ایمان پر اس کی گرفت کمزور پڑ گئی تو پھر وہ اگلا سوال کرتا ہے کہ مصافحہ درست تو پھر معانقہ بھی درست ہونا چاہیے- اور اگر لونڈی حلال تھی تو گرل فرینڈ بھی حلال کرو- اور پھر کوئی اس کو اجتہاد کا نام دے تو ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ خواہش کو پورا کرنے کا نام اجتہاد ہوگا؟ اب ہم سوچنے لگیں گے کہ کیا مذہب کو جامد بنانے والی سوچ پیدا کی جا رہی ہے- نہیں انسان کو بنانے والا خالق اپنی کاریگری سے خوب واقف ہے، اس لیے اپنی تعلیمات اور ہدایات کی روشنی میں بدلنے کی آزادی دیتا ہے لیکن اس آزادی کو خواہش کے تابع رکھنے کے بجائے ایمان کے تابع بناتا ہے- لیکن اکثر ایسا ہوا ہے کہ حد درجہ انتہا پسندی، مسلمان کو مادی وسائل جیسے لاوڈ اسپیکر کو برتنے سے بھی روکتی ہے اور حد درجہ آزاد روی، خواتین سے مصافحے کی اجازت دے دیتی ہے

گنجائشِ ترجمہ و تفسیر پر ایک چھوٹا سا مکالمہ

on 2016-01-29


ڈاکٹر خضر یاسین صاحب، صاحبِ فکرو دانش ہیں، حقیقی سچ کی تلاش میں ان کی جدوجہد اور کوشش کو تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ایک بارعامر ہاشم خاکوانی صاحب نے اپنی پوسٹ میں ان کا ذکرِ خیر کیا تو ان کے حلقہِ دوستانِ فیس بک میں شامل ہونے کا شوق پیدا ہوا، خوش قسمتی سے ڈاکٹر عاصم اللہ بخش صاحب نے انہیں اگلے دن اسی پوسٹ کے کمنٹ میں ٹیگ کیا تو یہ شوق پورا ہو گیا- ان سے وقتاً فوقتاً کمنٹ باری چلتی رہتی ہے، ان سے بات کر کے ہمیشہ چیزوں کو دیکھنے کے مختلف زاویے پیدا ہوتے ہیں، ان سے آج ایک چھوٹا سا مکالمہ ہوا جسے بحثِ عامہ کیلئے یہاں پیش کر رہا ہوں 


ڈاکٹر صاحب:
قرآن مجید کے ترجمہ, تفسیر اور خلاصہ کو قبول کرنا درحقیقت حضرت رسول اللہ علیہ السلام کی نبوت پر غیر کے تصرف کو قبول کرنا ھے.
خبر بگیر کہ آواز تیشہ و دل است



راقم:
ترجمہ، تفسیر کو قائم مقام نہیں قبول کیا جا سکتا، لیکن فہم میں اس موقف کو تسلیم کر لینا گویا سمجھ اور علم کے دائرے کو حد درجہ تک محدود کرنا ہے



ڈاکٹر صاحب:
آپ بالکل درست سمجھے ھیں, یہاں سمجھ اور علم وھی ھے جو کچھ کتاب اللہ میں ھے بس وھی سمجھا جائے تو علم ھے ورنہ بے کار ھفوات ھیں.



راقم:
لیکن ایک سمجھ یا فہم کا نام ہی تفسیر ہے، کیونکہ تمام عقل انسانی برابر نہیں، اس لیے تفسیر و ترجمہ کی موجودگی کی گنجائشیں خود بخود پیدا ہو جاتی ہین



ڈاکٹر صاحب:
جس معنی کا ابلاغ متن نے کیا ھے اسی معنی کو دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت فقط اس وقت پیش آتی ھے جب متن کو ابلاغ معنی میں ناکافی فرض کر لیا جاتا ھے. از سرے نو اسی معنی کو بیان کرنا اس بات کی علامت ھے کہ متن ناکام ھے یا از سرے نو بیان کرنے والا غلط ھے.



راقم:
اگر آپ کی بات کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ متن کو معنی دینے سے اس از سر نو بیان کی شکل پیدا ہو جاتی ہے تو فہم اور سمجھ کو آپ کس جگہ ٹھہرائیں گے؟ یا متن کے ابلاغ کی حیثیت کیا ہوگی؟



ڈاکٹر صاحب:
متن بالذات ابلاغ ھے, آپ میری اس تحریر کو سمجھ رھے ھیں اور میرے مدعا کو از سرے نو بیان کرنے کی ضرورت نہیں. فہم انسانی کے لیے تحریر اور تقریر وسائل ابلاغ ھیں. تحریر و تقریر کو از سرے جدید تصنیف و تقریر میں لے آنا الگ شے ھے.



راقم:
میں آپ کی بات بالکل سمجھ چکا ہوں، اس کے باوجود فہم انسانی کو ضبط تحریر میں لانے کی گنجائش پھر بھی محسوس کرتا ہوں اس قطعی شرط کے ساتھ کہ وہ متن کا قائم مقام نہیں ہوتا چاہے جتنا مرضی قریب ہو جائے-



ڈاکٹر صاحب:
جزاک اللہ الخیر, انسان کے ذھنی محصولات ایک حقیقت ھیں, میں اس کا انکار نہیں کر رھا. مشکل یہ ھے کہ انہیں کس اعتبار اور لحاظ سے کلام اللہ کا آسان تر ابلاغ قبول کیا جائے؟



راقم:
دیکھیں جی آپ کا مقدمہ یہ ہے کہ ایک ہے متن جو انسان کو ایک فہم عطا کرتا ہے، پھر ایک فہم یا ترجمہ، تحریر کی شکل میں ڈھال دیا جائے تو وہ دوبارہ ویسا ہی عامل بن جاتا ہے جیسا کہ متن تھا- لیکن میں فہم یا ترجمے کو متن کے بجائے ایک فہم کی تحریری شکل تک محدود رکھ رہا ہوں جو کسی دوسرے انسان کے فہم میں معاون بن سکتی ہے- اس کی گنجائش تو خود صفہ کے چبوترے سے پیدا ہو گئی تھی اور وہ بھی ایسی صورت کہ قرآن کی زبان اور انسان کی زبان میں بھی کوئی فرق نہیں تھا- آخر ایک دوسری زبان کے حامل انسان کے لیے یہ گنجائش کیسے نا معقول کہی جا سکتی ہے

دن میں اک زلزلہ آیا

on 2015-10-27

دن میں زلزلہ آیا

میں ڈیسک پر ہی موجود تھا
پہلے دماغ گھومنے لگا پھر پوری زمین ہلنے لگی
گاڑے سے چُنی اینٹوں اور مٹی کی چھت کے نیچے گویا مجھے قیامت کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی گئی
سوچا موت سے بھاگ نکلوں 
صرف دس قدموں کے فاصلے پر ایک خالی میدان مجھے پناہ دینے کو تیار تھا
اگر میری موت کا فیصلہ ہو چکا تو کہاں تک بھاگ سکتا تھا؟ دوسرے قدم پر منہ کے بل گرتا اور اپنی جان پیش کر دیتا---- آہ اتنی سی تو وقعت ہے میری
جنہیں خوشیوں میں خدا بھول جاتا ہے، انہیں مشکل میں خدا یاد آ ہی جاتا ہے، جسم تو زمین کے ساتھ ہی کانپ اٹھا تھا، گریہ و زاری کی کہ رب العالمین یہ نظام ہستی تیری ہی تخلیق ہے، اس کی رگوں میں دوڑتے قانون اور اصول تیرے ہی بنائے ہوئے ہیں، یہ سب تیرے اختیار میں ہے مولا رحم فرماء، ہم گنہگار اور ذلت خوار واقع ہوئے ہیں ہم مشکلات سے دوچار مت کرــــــ
میری مسکین سے صورت پر، ٹوٹے پھوٹے لفظوں پر، واپس لوٹنے اور اسے یاد کرنے پر ایک بار پھر اسے ترس آ گیا
وہ لچکتی دیوار، وہ جھولتی چھت جو چند لمحے پہلے اپنے نیچے میرا مدفن بنانے کے لیے انگڑایاں لے رہی تھیں، تھم گئیں 
جیسے جیسے زمین کی حرکت رکی، میرے دل کی دھڑکنوں کو ثبات آنے لگا، گہرا سانس لیا جیسے اپنے زندہ ہونے کو خود محسوس کرنا چاہتا تھا، بیس قدم اٹھائے اور جا کر پانی پیا 
واپس ڈیسک پر آن بیٹھا وہی کی بورڈ کی ٹھک ٹھک اور وہی اینٹر کی ٹھاہ، فقط موضوع ہی بدلا تھا
کبھی لکھنے لگا کہ زلزلہ تو اس لیے آیا ہے کہ سپریم کورٹ نے سود کی حمایت میں بیان دئیے تھے
کبھی لکھتا کہ کل غم حسین رضی اللہ عنہ سے آسمان پھٹ پڑا تھا، آج گریہ زہرہ سے زمین کانپ اٹھی ہے
کبھی کہنے لگتا کہ اس زمین پر زنا اور بدکاری عام ہو چکی ہے اسی لیے زمین ہلا ماری گئی کہ ہوش کے ناخون لو
کبھی کہتا کہ اللہ تعالیٰ نے میٹرو بس منصوبے کو عیاں کرنا تھا اس لیے زلزلے سے دکھا دیا کہ پاکستانیو شرم کرو اور آئندہ نواز شریف کو ووٹ نہ دینا
غرض میں نے ہر بار منہ بدلا اور ہر بار نئی بات سنی ، مجھے باتیں اس لیے آ رہی تھیں کہ میں زندہ بچ گیا تھا، اگر مجھے بھاگتے ہوئے پٹخ کر گرا مارا جاتا یا وہ جھولتی دیوار میرے اوپر آن گرتی تو میں یوں منصف بن کر رنگ برنگی باتیں نہ کر رہا ہوتا بلکہ میرے سامنے میری زندگی کے رجسٹر اکھٹے کرکے مجھے کسی بڑے منصف کے سامنے پیش کرنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہوتیں، لیکن میں بھول چکا ہوں وہ چند لمحے جو مجھ پر ابھی ابھی بیتے تھے ہاں بھول چکا ہوں، شاید یہ چھوٹے موٹے زلزلے بس اتنا ہی ہلا سکتے تھے جتنی دیر مجھے ہلا گئےـ



عورت، سائنس اور اسلام

on 2015-07-19

اسلام کی بنیاد عدل پر ہے جبکہ جدید نظریات مساوات پر عورت کے حقوق کی بات کرتے ہیں- خود اس جدید انسان کی سائنس کہتی ہے کہ مرد اور خاتون میں کاپر اور زنک کے تناسب کا فرق ہے جس کی وجہ سے دونوں اصناف کی ساخت، بیالوجی اور فزیولوجی میں فرق ہے، یہ تو خود سائنس تسلیم کرتی ہے کہ عورت کمزور ہے، جلد خوفزدہ ہو جاتی ہے، مشکل حالات میں عدم توازن کا شکار ہو جاتی ہے- جب یہی بات اسلام کہے اور اس بنیاد پر عورت کو مرد کے برابر مگر مختلف حقوق دے تو ہمارے اپنے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں، کچھ اس کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اسلام کو بالکل جدیدیت کا عکس ثابت کر دیں پھر کسی غور و فکر کی ضرورت پڑے گی اور نہ تدبر سے اسلام سے مختلف رحجانات و نظریات کو چھانٹی کرنے کے مشکل عمل سے گزرنا پڑے گا، اس سے بڑھ کر عام مسلمانوں کو مشکل حالات میں استقامت اور قربانی سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا اسکے برعکس وہ اس آزاد ذہن کو پکڑنے کی کوشش نہیں کرتے جو خود سائنس سے بھی راہ فرار اختیار کر رہی ہے اور مرد اور عورت کو مساویانہ حقوق دینے کی بات کرتی ہے- عدل کا تقاضا ہے کہ مرد اور عورت کو ان کی ساخت کے لحاظ سے حقوق دیئے جائیں اور اگر عورت فطری طور پر کمزور واقع ہوئی ہے تو اس کو تھوڑے زیادہ حقوق دئیے جائیں- اس پس منظر کو سامنے رکھ کر جب ہم خالق کی طرف سے دئیے گئے احکامات کا جائزہ لیں تو صاف نظر آئے گا کہ بنانے والا اپنی تخلیق کو بہتر حقوق دیتا ہے-


سائنسی دعویٰ کی وضاحت

یہ قطعہ تحریر پڑھتے ہوئے بہت سی خواتین کو مشکل ہو گی، لیکن اچھے اور بُرے سے بیگانہ یہ چند ایسے حقائق ہیں جنہیں تسلیم کرنا پڑے گا۔ ان میں سے چند تو ایسے ہیں جن کے لیے کسی سائنسی حوالے کی ضرورت نہیں 
جسمانی ساخت:ــــــ
عورت جسمانی طور پر چھوٹی، کم وزن اور کمزور عضلات کی مالک ہے اسی لیے یہ اللہ تعالیٰ کی پر کشش اور نازک تخلیق کہلائی جاتی ہے۔ دوسری طرف مرد سے نسبتا کم چوکس ہے شاید بہت سے لوگ ایسا خیال نہیں رکھتے لیکن کبھی خوف سے بھاگتے ہوئے یا لڑتے ہوئے مشاہدہ کرنے سے بخوبی پہچان سکتے ہیں۔ 
ہارمونز:ـــــــ
ماہواری کا عمل عورت کے انگ ڈھنگ پر بہت حد تک اثر انداز ہوتا ہے، خاص طور پر جوانی میں اس دوران مختلف دن، سوچنے اور محسوس کرنے میں عورت کے لیے مختلف ہوتے ہیں. سائنس اسے ہارمونل پرسیپشن پرابلمز کا نام دیتی ہے۔ مرد کو اس قسم کے ہارمونل احساسات سے نہیں گزرنا پڑتا۔
مرد کا غالب ہارمون ٹیسٹو سٹیران (testosterone) ہے جو نہ صرف اعتماد اور تحفظ کا احساس دیتا ہے بلکہ احساس برتری (superiority) کا مظہر بھی ہے۔ عورت کا غالب ہارمون ایسٹروجن (estrogen) ہے جو عورت میں کاپر کی مقدار بڑھا اور زنک کو گھٹا دیتا ہے جو نہ صرف اعتماد میں کمی باعث بنتا ہے بلکہ عدم فیصلہ سازی کا احساس دیتا ہے۔ اس کی میں مزید وضاحت کیے دیتا ہوں
حیاتیاتی کیمیا گری:ــــــ
عورت کے جسم میں مرد کی نسبت زیادہ کاپر جبکہ کم زنک موجود ہوتا ہے۔ کاپر جسم میں موجود حیاتیاتی مرکب امائنز کو تحرک دیتا ہے جس کے زیر اثر عورت کے جذبات (emotions) نہ صرف نمایاں ہوتے ہیں بلکہ بھڑکتے ہیں۔ مرد میں زنک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو جذبات کو نہ صرف نرم رکھنے کو موجب بنتا ہے بلکہ عمل میں توازن پیدا کرتا ہے۔ 
عمومی طور پر خواتین میں عمل تکسید (oxidation) کی شرح مرد سے کم ہوتی ہے۔ عمل تکسید ایسا عمل ہے جس میں آکسیجن کیمیائی طور پر نامیاتی مرکبات سے ملتی ہے اور توانائی کی کافی مقدار حاصل ہوتی ہے۔اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ عورت مرد کی نسبت کم توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سہل انگار ہارمونل بہاؤ سے عورت ہمیشہ مشکلات میں مرد کی نسبت زیادہ خوف زردہ ہو جاتی ہے۔
یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرے رخ میں عورت کو کئی لحاظ سے مرد پر برتری حاصل ہے لیکن حیرتناک طور پر ان عوامل کے تعلق عورت کی تخلیقی صلاحیتوں سے ہے۔ جیسے کہ عورت میں خون کے سرخ خلیات کی تعداد مرد سے زیادہ ہوتی ہے۔ بہرحال ان عوامل کی تفصیل میں نہیں جائیں گے

نوٹ: یہ سائنسی حوالہ اسلام کے حقوق کی کسوٹی یا معیارحق ہونے کی دلیل کے طور پر نہیں بلکہ ان حقوق میں چھپی حکمت کو سمجھنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

فریب زدہ جدید ذہنی رجحان

on 2013-11-06
یہ تحریر "عقلیت کا فریب 1" کے نام سے سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب تنقیحات سے لی گئی ہے، اس عام  ذہنی رجحان کو سید کے قلم نے جس طرح کھول کر سامنے رکھا ہے اسے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے
تحریر سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

اسلامی تعلیم وتربیت کے لحاظ سے نیم پختہ یا بالکل خام نوجوان کے مذہبی خیالات پر مغربی تعلیم اور تہذیب کا جو اثر ہوتا ہے اس کا اندازہ ان تحریروں اور تقریروں سے ہوسکتا ہے جو اس قسم کے لوگوں کی زبان وقلم سے آئے دن نکلتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں صوبہ متحدہ کے ایک مسلمان گریجویٹ صاحب کا ایک مضمون ہماری نظر سے گزرا ۔ جس میں انہوں نے اپنی سیاحت چین وجاپان کا حال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :۔
”ہمارے ساتھ جو چینی مسافر ہیں وہ انتہا کے بلانوش اور شراب خور ہیں۔ سور کا گوشت تو ان کی جان ہے۔ اب میں نے عسائیت کی ترقی کا راز سمجھا‘ چینی اب قدیم مذہب کی پیروی کو نئی تعلیم کے ساتھ عار پاتا ہے۔ اس کو اسلام قبول کرنے میں تامل نہ ہوتا اگر وہ اس کو سمجھا ہوتا مگر اسلام اس کو اس کی تمام مرغوب عذاوں سے محروم کردیتا ہے۔ چارو ناچار عیسائی ہوجاتا ہے۔ کچھ عجیب نہیں کہ آئندہ چین کا سرکاری مذہب عیسائیت ہوجائے۔ میں سور کے گوشت کے معاملہ میں اہل یورپ اور اہل چین کے نو مسلموں کے ساتھ ذرا ڈھیل دینا پسند کرتا ہوں قرآن سے بھی مجھے اس کے قطعی حرام ہونے میں شک ہے۔ زیادہ بریں نیست کہ اہل عرب کے لیے کسی خاص وجہ سے حرام کردیا گیا ہو۔ مگر ایسے ممالک جہاں ان کے بغیر (فمن اضطر غیر باغ ولاعاد) ہوجائے تو کیاحرج ہے۔؟”

 ”بہرحال قرآن کا یہی ایک حکم ہے جس کی ممانعت عمومی کی علت میری سمجھ میں اب تک نہیں آئی ورنہ اصولاً معدہ اور محرکات اخلاق میں اس قدر بعد ہے کہ مذہب ہمارے کھانے کا مینو بھی تیار کرے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہم کو آہن گری اور زرگری وخیاطی وغیرہ کاکام بھی کیوں نہ سکھائے۔ میرا خیال ہے کہ دنیا میں اسلام کے ترقی نہ کرنے کا راز اسی میں پنہاں ہے کہ وہ آدمی کے تمام حقوق سلب کرکے اس کو ایک لاشہ بے جان اور ایسا بے حس بچہ بنادیتا ہے کہ وہ اپنی دنیاوی ترقی کی راہیں سب بھول جاتا ہے۔ ور مذہب درحقیقت اسی قدر ہونا چاہیے جیسا کہ عیسائیوں نے سمجھ رکھا ہے۔”

اس کے بعد وہ شنگھائی کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ 

خدا کی اس بے شمار خلقت کو خوش وخرم و خوشحال دیکھ کر دل گواہی نہیں دیتا کہ یہ تمام کے تمام چند سال کے بعد دوزخ کا ایندھن بنائے جائیں گے گویا ان کی پیدائش کا یہی ایک مقصد خدا کے پاس رہ گیا ہے۔ پھر وہ سب کے سب الاماشاءاللہ چند نفوس کے علاوہ اگر بت پرست اور کافر ہیں تو انہوں نے دوزخ میں رکھے جانے کا کیا یہی ایک قصور کیا ہے۔ کہ انہوں نے خدا کی زمین کو معمور کردیا ہے۔ نہ وہ حاجیوں کو قتل وغارت کرتے ہیں۔ نہ ان میں قوم لوط کا عمل ہے۔ نہ وہ کسی مال کو ہضم کرلیتے ہیں اور نہ اس کو جائز کرنے کے لیے تاویلیں کرتے ہیں۔ خاموشی سے اس زندگی کو بحسن وخوبی طے کررہے ہیں۔ پھر بھی ومستحق دوزخ ہیں آخر کیوں؟ یقیناً مشرکانہ عقیدہ ایک سودائے خام ہے۔ لیکن یہ تو بتاو کہ اگر ایک شخص ایک ایسی ہستی کا فطرتاً قائل ہوجاتا ہے جو اس کو مارتی اور جلاتی ہے تو محض اس لیے کہ اس کی ماہیت اس کی سمجھ سے اتنی ہی باہر ہے جتنی ہماری سمجھ سے۔ یا وہ عربی کو خدا کی زبان نہیں سمجھتا۔ تم اس کے دشمن ہو اور وہ تمہارا دشمن ہوجاتا ہے۔ مگر نہیں تمہارے نزدیک یہ سب کچھ ضروری نہیں ہے۔ ضروری تو یہ ہے کہ پائجامہ خاص وضع کا ہو۔ کرتے کی کاٹ ایسی ہو۔ فلاں قسم کا کھانا کھائے۔ منہ پر چار انگلی کی داڑھی ہو۔ کبھی اپنے ملکی مدرسوں میں قدم نہ رکھے۔ اس واسطے کہ وہاں مذہب کی زبان اور مذہب کا فن تم کو نہیں سکھایا جاتا۔““ 

جاپان کی بندرگاہ کوبے کے متعلق فرماتے ہیں۔
”دو گھنٹہ تک میں کوبے میں پھرتا رہا ایک بھیک مانگنے والا مجھ کو نہ ملا اور نہ کوئی پھٹے پرانے کپڑوں میں بدحال۔ یہ ہے اس قوم کی ترقی کا حال جو نہ مذہب کو جانتی ہے اور نہ خدا کو۔““ پھر وہ بقول خود”موعظئہ حسنہ“” شروع کر تے ہیں۔”یاد رکھو کو احسان اصل دین ہے اور احسان کسی زبان اور فن کا محتاج نہیں اس کا فطری مقصود یہ ہے کہ ہم آئندہ زندگی میں یا خود اس زندگی میں اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں اور ہوں گے۔ یہی دراصل مذہب اسلام ہے۔ اس سے زیادہ جس چیز کو تم نے مذہب کا نام دے رکھا ہے وہ محض تمہارے نفس کا دھوکا ہے۔ یا تمہارے دماغ کا خلل ہے۔ جس روز ان دونوں باتوں پر مذہب کو محدود کردو گے اور اپنی ساری بیڑیاں شریعت کی توڑ ڈالو گے توتم بھی قوموں کے ساتھ بام ترقی پر پہنچو گے۔ بلکہ یوں کہو کہ تم قوموں میں ضمیر پیداکردو گے جن کے ہاتھ سے اگر دنیا نہیں گئی ہے تو آسمانی بادشاہت بھی نہ جائے گی۔ تم خود کوئی قوم نہیں ہو بلکہ قوموں کے مصلح ہو۔ مگر خدارا اس کے کہنے کا موقع تو نہ دو کہ فلاح قوم برسراوج ہے مگر جو ان میں مسلمان ہیں۔ ان کی حالت زبوں ہے۔ اور یقیناً اس زبونی کا ذمہ دار ان کا عجیب وغریب مذہب ہے۔““

یہ تحریر ہماری نئی نسل کی عام دماغی حالت کا ایک واضح نمونہ ہے۔ مسلمان گھر میں پیدا ہوئے۔ مسلم سوسائٹی کے رکن کی حیثیت سے پلے بڑھے‘ مسلمانوں کے ساتھ معاشرت وتمدن کی بندوشوں میں بندھے۔ اس لیے اسلام کی محبت‘ مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور مسلمان رہنے کی خواہش گویا ان کی گھٹی میں پڑی اور ان کے دلوں میں اس طرح بیٹھ گئی کہ اس میں ان کے ارادے اور اپنی عقل وفکری قوتوں کا دخل نہ تھا۔ مگر قبل اس کے کہ اس اضطراری و غیر شعوری اسلام کو تعلیم و تربیت کے ذریعہ سے اختیاری اور شعوری اسلام بنایا جاتا ، اور ان میں یہ صلاحیت پیدا کی جاتی کہ وہ اسلامی تعلیمات کو پوری طرح سمجھ کر مسلمان ہوتے اور عملی زندگی میں اس کے احکام وقوانین کو برت کر بھی دیکھ لیتے۔ انہیں انگریزی مدرسوں اور کالجوں میں بھیج دیا گیا جہاں ان کے قوائے ذہنی وفکری کی پرورش بالکل غیر اسلامی تعلیم وتربیت میں ہوئی اور ان کے دماغوں پر مغربی افکار اور مغربی تہذیب کے اصول اس طرح چھا گئے کہ ہر چیز کو وہ مغرب کی نظر سے دیکھنے اور ہر مسئلہ پر مغرب ہی کے ذہن سے غور کرنے لگے اور مغربیت کے اس استبلا سے آزاد ہوکر سوچنا اور دیکھنا ان کے لیے ناممکن ہوگیا۔ مغرب سے انہوں نے عقلیت (Rationalism) کا سبق سیکھا مگر خود عقل ان کی اپنی نہ تھی بلکہ یورپ سے ہی حاصل کی ہوئی تھی۔ اس لئے ان کی عقلیت فرنگی ہوگئی نہ کہ آزاد عقلیت۔ انہوں نے مغرب سے تنقید کا درس بھی لیا مگر یہ آزاد تنقید کا درس نہ تھا بلکہ اس چیز کا درس تھا کہ مغرب کے اصولوں کو برحق مان کر ان کے معیار پر ہر اس چیز کو جانچو جو مغربی نہیں ہے۔ لیکن خود مغرب کے اصولوں کو تنقید سے بالاتر سمجھو۔ اس تعلیم وتربیت کے بعد جب یہ لوگ کالجوں سے فارغ ہوکر نکلے اور زندگی کے میدان عمل میں انہوں نے قدم رکھا تو ان کے دل ودماغ میں بعد المشرقین واقع ہوچکا تھا۔ دل مسلمان تھے۔ اور دماغ غیر مسلم۔ رہتے مسلمانوں میں تھےِ ‘ شب وروز کے معاملات مسلمانوں کے ساتھ تھے۔ اپنے گردو پیس کے مسلمانوں کے مذہبی وتمدنی زندگی کے اعمال دیکھ رہے تھے۔ ہمدردی و محبت کے رشتے مسلمانوں سے وابستہ تھے۔ مگر سوچنے اور سمجھنے اور رائے قائم کرنے کی جتنی قوتیں تھیں وہ سب مغربی سانچوں میں ڈھلی ہوئی تھیں۔ جن سے نہ اسلام کا کوئی قاعدہ مطابقت رکھتا تھا۔ اور نہ مسلمانوں کا کوئی عمل۔ اب انہوں نے مغربی معیار کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کی ہر چیز پر تنقید شروع کی اور ہر اس چیز کو غلط اور قابل ترمیم سمجھ لیا جسے اس معیار کے خلاف پایا خواہ اسلام کے اصول و فروع میں سے ہو یا محص مسلمانوں کا عمل ہو۔ ان میں سے بعض نے تحقیق حال کے لیے کچھ اسلام کا مطالعہ بھی کیا۔ مگر تنقید وتحقیق کا معیار وہی مغربی تھا۔ ان کی ذہنیت کے ٹیڑھے سوراخ میں اسلام کی سیدھی میخ آخر بیٹھتی کیوں کر؟

مذہبی مسائل پر جب یہ حضرات اظہار خیال کرتے ہیں تو ان کی باتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے تقریر فرما رہے ہیں۔ نہ ان کے مقدمات درست ہوتے ہیں نہ منطقی اسلوب پر ان کو ترتیب دیتے ہیں اور نہ صحیح نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ کلاس کرتے وقت خود اپنی پوزیشن بھی متعین نہیں کرتے۔ ایک ہی سلسلہ کلام میں مختلف حیثیتں اختیار کرجاتے ہیں ابھی ایک حیثیت سے بول رہے تھے کہ دفعتاً ایک دوسری حیثیت اختیار کرلی اور اپنی پچھلی حیثیت کے خلاف بولنے لگے۔ سستی فکر (loose thinking) ان کے مذہبی ارشادات کی نمایاں خصوصیت ہے۔ مذہب کے سوا دوسرے جس مسئلے پر بھی بولیں گے ہوشیار اور چوکنے ہوکر بولیں گے۔ کیونکہ وہاں اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ہوگئی تو جانتے ہیں کہ اہل علم کی نگاہ میں کوئی وقعت باقی نہیں رہے گی۔ لیکن مذہب چونکہ ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور اس کو وہ اتنا وزن ہی نہیں دیتے کہ اس پر کلام کرتے وقت اپنے دماغ پر زور دینا ضروری سمجھیں اس لیے یہاں وہ بالکل بے فکری کے ساتھ ڈھیلی ڈھالی گفتگو فرماتے ہیں۔ گویا کھانا کھاکر آرام کرسی پر دراز ہیں اور محض تفریح کے طور پر بول رہے ہیں۔ جس میں ضوابط کلام کو ملحوظ رکھنے کی کوئی حاجت ہی نہیں۔

دوسری بات جو ان کی تحریروں میں نمایاں نظر آتی ہے وہ خیالات کی سطحیت اور معلومات کی کمی ہے مذہب کے سوا کسی اور مسئلے میں وہ اتنی کم معلومات اور اس قدر کم غورو فکر کے ساتھ بولنے کی جرات نہیں کرسکتے۔ کیونکہ وہاں اگر تحقیق کے بغیر ایک کلمہ منہ سے نکل جائے تو آبرو جاتی رہتی ہے لیکن مذہب کے معاملہ میں وہ تحقیق اور مطالعہ اور غورو فکر کو ضروری نہیں سمجھتے۔ سرسری طور پر جو کچھ معلوم ہوگیا اس پر رائے قائم کرلی اور بے تکلف اس کو بیان کردیا۔ اس کے لیے کہ کسی گرفت کا یہاں خوف ہی نہیں گرفت اگر کرے گا تو مولوی کرے گا اور مولوں کے متعلق یہ بات پہلے ہی اصول موضوعہ کے طور پر داخل مسلمات ہوچکی ہے کہ وہ تاریک خیال‘ دقیانوسی اور تنگ نظر ہوتا ہے۔

فاضل مضمون نگار کی زیر نظر تحریر جشم بد دور ان دونوں خصوصیات کی حامل ہے سب سے پہلے تو ان کے مضمون سے یہی نہیں معلوم ہوتا کہ وہ مسلم کی حثیت سے کلام کررہے ہیں یا غیر مسلم کی حیثیت سے۔ اسلام کے متعلق گفتگو کرنے والے کی دو ہی حیثیت ہوسکتی ہیں۔ مسلم ہوگا یا غیر مسلم۔ جو شخص مسلم کی حیثیت سے کلام کرے گا عام اس سے کہ وہ خوش عقیدہ (Orthodox) ہو یا آزاد خیال یا اصلاح طلب بہرحال اس کے لیے لازم ہوگا کہ دائرہ اسلام کے اندر رہ کر کلام کرے یعنی قرآن کو منتہائے کلام (Final Authority) سمجھے اور ان اصول دین و قوانین شریعت کو تسلیم کرے جو قرآن نے مقرر کیے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ قرآن کو سند نہ مانے گا اور کسی ایسی بات میں کلام کی گنجائش سمجھے گا جو قرآن سے ثابت ہو‘ تو دائرہ اسلام سے باہر نکل آئے گا۔ اور اس دائرے سے نکلنے کے بعد اس کی مسلمانہ حیثیت باقی ہی نہ رہے گی کہ وہ اس میں کلام کرسکے۔ رہی دوسری حیثیت یعنی یہ کہ بولنے والا غیر مسلم ہو تو اس حیثیت میں اسے پورا حق ہوگا کہ قرآن آصول اور اس کے احکام پر جیسی چاہے تنقید کرے اس لیے کہ وہ اس کتاب کو مستنہا کلام نہیں مانتا۔ لیکن یہ حیثیت اختیار کرنے کے بعد اسے مسلم کی حیثیت سے گفتگو کرنے اور مسلمان بن کر مسلمان کو اسلام کے معنی سمجھانے اور اسلام کی ترقی وسائل بتانے کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ ایک صاحب عقل وشعور آدمی جب سوچ سمجھ کر اسلام کے متعلق گفتگو کرے گا تو وہ سب سے پہلے یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ ان دونوں حیثیتوں میں سے کون سی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ پھر وہ جو حیثیت بھی اختیار کرے گا۔ اس کے عقلی شرائط کو ملحوظ رکھے گا۔ کیونکہ بیک وقت اپنے آپ کو مسلمان بھی کہنا اور قران کے مقرر کیے ہوئے اصول وقوانین پر نکتہ چینی کا حق بھی استعمال کرنا قرآن کی سند میں کلام بھی کرنا اور مسلمانوں کو موعظہ حسنہ بھی سنانا کسی عاقل کا فعل نہیں ہوسکتا۔ یہ نقیضین کو جمع کرنا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص بیک وقت مسلم بھی ہو اور غیر مسلم بھی۔ دائر اسلام کے اندر بھی ہو اور باہر بھی۔مضمون نگار صاحب کی عملی قابلیت اور ان کی معقولیت کی طرف سے اہم اتنے بدگمان نہیں ہیں کہ ان سے یہ امید رکھیں کہ اگر وہ اسلام کے سوا کسی مسئلہ پر کلام فرماتے تو ان میں بھی اس طرح دو مختلف حیثیتوں کو بیک وقت اپنے اندر جمع کرلیتے۔ ہم ان سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ قیصر ہند کی عدلات میں بیٹھ کر قیصر ہند کے منظور کیے ہوئے قوانین پر نکتہ چینی کرنے کا حق استعمال فرمائیں گے نہ ہم ان سے اس جرات کی امید رکھتے ہیں کہ وہ کسی مسلک فکر (School of thought) کی پیروی کا دعویٰ کرنے کے بعد ان اصولوں پر مخالفانہ نکتہ چینی کریں گے جن پر وہ مذہب قائم ہے۔ لیکن طرفہ ماجرا ہے کہ اسلام کے معاملہ میں انہوں نے دو بالکل مختلف حیثییں اختیار کی ہیں اور یہ محسوس تک نہیں کیا کہ وہ بار بار اپنی پوزیشن بدل رہے ہیں۔ ایک طرف وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں مسلمان کا سا نام رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی زبوں حالی پر رنج فرماتے ہیں۔ اسلام کی ترقی کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو ”احسان“” یعنی ”اصل دین”“ کا وعظ سناتے ہیں۔ دوسری طرف اس کتاب کے مقرر کیے ہوئے اصول اور قوانین پر نکتہ چینی بھی کرتے ہیں۔ جس پر اسلام کی بنیاد قائم ہے اور جس کر آخری سند تسلیم کرنا مسلمان کے لیے لازمی شرط ہے۔

قرآن ایک نہیں چار جگہ بالتصریح سور(1) کے گوشت کو حرام قرار دیتا ہے۔ مگر آپ اس معاملہ میں ڈھیل دینا پسند فرماتے ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ ڈھیل دینے کی یہ خواہش بھی ”ترقی اسلام“” کے لیے ہے۔ گویا ترقی اسلام کی فکر آپ کو قرآن سے بھی زیادہ ہے! یا کوئی اسلام قرآن سے باہر بھی ہے جس کی ترقی آپ چاہتے ہیں۔ قرآن فی الواقع انسان کے لیے کھانے کا مینو تیار کرتا ہے کھانے کی چیزوں میں حرام وحلال خبیث و طیب کا فرق قائم کرتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ تم اپنے اختیار سے کسی شے کو حلال اور حرام قرار دینے کا حق نہیں رکھے۔ مگر آپ کو اپنے حق پر اصرار ہے اور خود قرآن کا یہ حق تسلیم کرنے میں تامل ہے کہ وہ کھانے پینے میں مذہب کو دخل دے۔ قرآن مذہب کو ان حدود میں نہیں رکھتا۔ جن میں سینٹ (نہ کہ مسیح) متبعین نے اس کو محدود کیا ہے۔ وہ لباسِ اکل وشربِ‘ نکاح وطلاقِ‘ وراثت‘ لین دین‘ سیاست‘ عدالت‘ تعزیرات وغیرہ کے قوانین وضع کرتا ہے۔ مگر آپ اس قسم کی قانون سازی کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس کو ترقی اسلام میں مانع قرار دیتے ہیں۔ اس پر الزام رکھتے ہیں کہ وہ انسان کو ایک لاشہ بے جان اور بے بس بچہ بنا دیتا ہے۔ اور تجویز کرتے ہیں کہ مذہب اسی قدر ہونا چاہیے جس قدر عیسائیوں (دراصل پولوسیوں) نے سمجھا ہے۔ قران نے خود قوانین شریعت بنائے ہیں اور ان کو حدود اللہ سے تعبیر کرکے ان کی پابندی کا حکم دیا ہے۔ مگر آپ شریعت کی ان حدود کو بیڑیوں سے تعبیر کرتے ہیں اور سینٹ پال کی طرح مذہب کی توسیع وترقی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ کہ ان بیڑیوں کو توڑ ڈالا جائے۔ قرآن کے نزدیک ایمان نجات کی پہلی اور لازمی شرط ہے اور جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے ان کے متعلق بالفاظ صریح کہتا ہے کہ وہ دوزخ کا ایندھن بنائے جائیں گے۔ (1) خواہ وہ بے شمار ہوں یا شمار میں آجائیں۔ خوشحال ہوں یا بدحال‘ مگر اپ کا یہ حال ہے کہ کافروں اور بت پرستوں کی بے شمار خلقت کو خوش وخرم وخوشحال دیکھ کر آپ کا دل گواہی نہیں دیتا کہ چند سال بعد وہ سب دوزخ کا ایندھن بنائے جائیں گے۔ اور آپکی سمجھ میں نہیں آتا کہ انہوں نے خدا کی زمین کو معمور کردینے کے سوا اور کون سا قصور کیاہے سوال یہ ہے کہ قرآن سے اتنا کھلا اختلاف رکھتے ہوئے آپ مسلمان کیسے رہ سکتے ہیں۔ اور مسلمان ہوتے ہوئے آپ قران سے اختلاف کیونکر کرسکتے ہیں۔؟ اگر آپ مسلمان ہیں تو قرآن سے اختلاف نہ فرمائیے اور اگر قرآن سے اختلاف کرنا چاہتے ہیں تو دائرہ اسلام سے باہر کھڑے ہوکر اختلاف کیجئے۔جو شخص کسی مذہب کے اصول اور احکام وقوانین سے مطمئن نہ ہو‘ جس کا دل ان کی صداقت پر گواہی نہ دیتا ہو جو ان کی علت و مصلحت کو سمجھنے سے عاجز ہو اور جس کے نزدیک ان میں سے بعض یا اکثر زبانیں قابل اعتراض ہوں ‘ اس کے لیے دو راستے کھلے ہوئے ہےں یا تو وہ مذہب سے نکل جائے ‘ پھر اس کو حق ہوگا کہ اس مذہب کے جس قاعدے اور جس حکم پرچاہے نکتہ چینی کرے یا اگر وہ اس عدم اطمینان کے باوجود اس مذہب میں رہنا چاہتا ہے تو اس کے خلاف مظاہرہ کرنے سے احتراز کرے اور مجتہد بن کر اس کے قواعد وضوابط پرتیشہ چلانے کے بجائے طالب علم بن کر اپنے شکوک وشبہات حل کرنے کی کوشش کرے۔ عقل و دانش کی رو سے تو اس حالت میں یہی دو طریقے ہوسکتے ہیں اور مرد عاقل جب کبھی ایسی حالت میں مبتلا ہوگا تو انہی میں سے کسی ایک طریقے کو اختیار کرے گا۔ لیکن فاضل مضمون نگار اور ان کی طرح بہت سے فرنگی تعلیم وتربیت پائے ہوئے حضرات کا حال یہ ہے کہ پہلا طریقہ اختیار کرنے کی اخلاقی جرات ان میں نہیں اور دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہوئے انہیں شرم آتی ہے۔ اس لیے انہوں نے بیچ کا ایک غیر معقول طریقہ اختیار کررکھا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک طرف مسلمانوں میں شامل بھی ہوتے ہیں۔ ترقی اسلام کی آرزو مند بھی بنتے ہیں‘ اسلام اور مسلمانوں کے درد میں تڑپتے بھی ہیں اور دوسری طرف اسلام کے خلاف وہ سب کچھ کہتے اور کرتے ہیں جو ایک غیر مسلم کہہ اور کرسکتا ہے۔ حدیث وفقہ تو درکنار قرآن تک پر نکتہ چینی کرنے سے باز نہیں رہتے اور ان تمام بنیادوں پر ضرب لگا جاتے ہیں جس پر اسلام قائم ہے۔ ان حضرات کو دعویٰ ہے کہ اہم ارباب عقل (Rationalists) ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم کوئی ایسی بات نہیں مان سکتے جو عقل کے خلاف ہو۔ ملاؤں پر ان کا سب سے بڑا الزام یہی ہے کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ مگر خود ان کا حال یہ ہے کہ مذہب کے معاملہ میں صریح متناقض باتیں کرتے ہیں‘ متضاد طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور اپنی ایک بات کی تردید خود اپنی ہی دوسری بات سے کرجاتے ہیں۔ آخر یہ ریشنلز کی کون سی قسم ہی۔ جس کی ایجاد کا شرف ان روشن خیال محقیقین کو حاصل ہوا ہے۔ اب ذرا ان کی معلومات کی وسعت اور فکر کی گہرائی ملاحظہ فرمائیے۔ اسلام کی ترقی کے لیے آپ ضروری سمجھتے ہیں کہ مسیحیت کی طرح اسلام سے بھی شرعی حدود اٹھا دی جائیں اور اسلام صرف ایک عقیدہ کی حیثیت میں رہ جائے۔ کیونکہ مسیحیت کی ترقی کا راز جو آپ نے سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں حلال وحرام کی قیود نہیں ہیں۔ اخلاقی پابندیاں نہیں ہیں۔ اس میں آدمی کے انسانی حقوق سلب کرکے اس کو ایک لاشہ بے جان اور بے بس بچہ نہیں بنایا گیا ہے۔ بلکہ اس کو آزادی دے دی گئی ہے کہ مسیح پر ایمان رکھ کر جو چاہے کرے مگر آپ نے یہ غور نہیں فرمایا کہ اسلام جس چیز کا نام ہے وہ قرآن میں ہے اور قرآن نے ایمان وعمل صالح کا مجموعہ کا نام اسلام رکھا ہے۔ عمل صالح کے لیے حدود و قیود مقرر کیے ہیں۔ قوانین بنائے ہیں اور انفرادی واجتماعی زندگی کے لیے ایک مکمل نظام عمل مقرر کیا ہے۔ جس کے بغیر اسلام بحیثیت ایک دین اور ایک تہذیب کے قائم نہیں ہوسکتا۔ اس نظام اور اس کی حدود کو منسوخ کرنے کا اختیار کسی مسلمان کو نہیں ہے کیونکہ اس کا نسخ قرآن کا نسخ ہے اور قرآن کا نسخ اسلام کا نسخ ہے اور جب اسلام خود ہی منسوخ ہوجائے تو اس کی ترقی کے کیا معنی؟ آپ خود کسی مذہب کو ایجاد کرکے اس کی اشاعت فرما سکتے ہیں مگر جو چیز قرآن کے خلاف ہے اس کو اسلام کے نام سے موسوم کرنے اور اس کی ترقی کو اسلام کی ترقی کہنے کا آپ کو کیا حق ہے۔؟ آپ اسلام صرف اس عقیدہ کا نام رکھتے ہیں کہ ۔”ہم آئندہ زندگی میں یا خود اس زندگی میں اپنے اعمال کے جوابدہ ہیں اور ہوں گے۔“” یہ بات غالباً آپ نے اس امید پر فرمائی ہے کہ اگر اسلام اس حد میں محدود ہوجائے تو بالکل نرم اور آسان ہوجائے گا اور خوب پھیلتا چلاجائے گا۔ لیکن اگر آپ اس عقیدہ کے معنی پر غور فرماتے تو آپ کو معلوم ہوجاتا کہ حد میں محدود ہونے کے بعد بھی اسلام آپ کی مرضی کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ اس عقیدے کو مذہب قرار دینے کے لیے سب سے پہلے تو حیات اخروی پر ایمان لانا ضروری ہے۔ پھر جواب دہی کا مفہوم تین باتوں کا متقاضی ہے۔ ایک یہ کہ جس کے سامنے جواب دہی کرنی ہے اس کو متعین کرلیا جائے۔ اور اس کی بالادستی تسلیم کرلی جائے۔ دوسرے یہ کہ جواب دہی کی نوعیت متعین کی جائے اور زندگی کے اعمال میں اس لحاظ سے امتیاز کیا جائے کہ کن اعمال سے اس جواب دہی میں کامیابی نصیب ہوگی اور کون سے اعمال ناکامی کے موجب ہوں گے۔ تیسرے یہ کہ جواب دہی میں کامیابی اور ناکامی کے جدا جدا نتائج متعین کیے جائیں کیونکہ اگر ناکامی کا نتیجہ بھی وہی ہو جو کامیابی کا ہے یا سرے سے دونوں کا کوئی نتیجہ ہی نہ ہو تو جواب دہی بالکل بے معنی ہے۔ یہ اس عقیدہ کے عقلی لوازم ہیں جس کو آپ اصل دین قرار دے رہے ہیں اگر آپ کی تجویز کے مطابق اسی عقیدہ پر اسلام قائم کردیا جائے تب بھی وہی مصیبت پیش آئے گی جس سے آپ بچنا چاہتے ہیں۔ پھر وہی خدا کو ماننا لازم آئے گا جس کے بغیر جاپان آپ کو ترقی کے بام پر چڑھتا نظر آرہا ہے۔ پھر وہی شریعت کی بیڑیاں اور اخلاق کی زنجیریں تیار ہوجائیں گی جس کو آپ توڑنا چاہتے ہیں۔ اور جن کے وجود میں آپ کے نزدیک اسلام کے ترقی نہ کرنے کا راز پوشیدہ ہے۔ پھر وہی عذاب و ثواب کا جھگڑا نکل آئے گا اور خدا کی بے شمار خلقت کو اس عقیدے کے بغیر خوش وخرم حال دیکھ کر آپ کا دل پھر اس بات پر گواہی دینے سے انکار کردے گا کہ چند سال بعد یہ سب عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ براہ کرم اب ذرا غور کرکے کسی ایسی چیز کا نام اسلام رکھیے جس میں کسی قسم کی قید وبند نہ ہو۔ جس کو ماننے اور نہ ماننے کا نتیجہ یکساں ہو‘ جس میں صرف خدا کی زمین کو معمور کردینا دنیاو آخرت کی کامیابی کے لیے کافی ہو‘ اور جس پر ایمان نہ لانے والی بے شمار خلقت کو خوش وخرم و خوشحال دیکھ کر آپ کا دل گواہی دے سکے کہ وہ سب جنت کی بلبلیں بنائی جائیں گی۔ قرآن کی رو سے سور کے گوشت کا قطعی حرام ہونا آپ کے نزدیک مسلم نہیں ہے۔ آپ شک فرماتے ہیں کہ شاید اہل عرب کے لیے کسی خاص وجہ سے حرام کردیا گیا ہو۔ لیکن اگر آپ اس رائے کو ظاہر کرنے سے پہلے قرآن کھول کر پڑھ لیتے تو اس شک کی تحقیق ہوجاتی اس کتاب میں صاف لکھا ہوا ہے کہ

قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّكُوۡنَ مَیۡتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوۡحًا اَوْ لَحْمَ خِنۡزِیۡرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴۵﴾ (الانعام , 145)

اے پیغمبر کہو کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں سے کسی چیز کو جسے کوئی کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا الایہ کہ وہ مردار ہو‘ یا بہایا ہوا خون‘ یا سور کا گوشت کیونکہ وہ بہ تحقیق ناپاک ہے۔ یا نافرمانی کے طور پر اللہ کے سوا کسی اور نام سے ذبح کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہوگیا بغیر اس کے کہ وہ نافرمان اور حد ضرورت سے تجاویز کرنے والا ہو تو تیرا رب بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

اس آیت میں سور کے گوشت کو ہر ”طاعم”“ یعنی کھانے والے کے لیے حرام قرار دیا گیا ہے اور حرمت کی علت یہ قرار دی گئی ہے کہ وہ ”رجس“ (ناپاک)” ہے۔ کیا یہاں طاعم سے مراد عرب کا طاعم ہے اور کیا ایک ہی چیز عرب کے لیے رجس اور غیر عرب کے لیے طیب وطاہر ہوسکتی ہے اور کیا اسی طریقہ سے آپ مردار کھانے والوں کے لیے بھی ذرا ڈھیل دینا پسند فرمائیں گے۔ آپ سور کے معاملہ میں ڈھیل چاہتے ہیں تو خود اپنی طرف سے دے دیجئے مگر قرآن کے صریح الفاظ کے خلاف آپ کو یہ کہنے کا کیا حق ہے کہ قرآن سے اس کی قطعی ممانعت مشکوک ہے۔؟

آج کل کے نئے مجتہدین نے اجتہاد کے جو اصول وضع کیے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام کے جس حکم کی خلاف ورزی کرنا چاہتے ہیں اس کے متعلق بلا تکلف کہہ دیتے ہیں کہ یہ خاص اہل عرب کے لیے تھا۔ خواہ قرآن میں اس تخصیص کی طرف کوئی ذرا سا اشارہ بھی نہ ہو اور تخصیص کے لیے وہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہ رکھتے ہوں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بعید نہیں کہ ایک روز قرآن ہی کو اہل عرب کے لیے مخصوص کردیا جائے ۔اور فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ سے استدلال تو اتنا لطیف ہے کہ صاحب سفر نامہ کے علم و فضل کی داد دینے کو جی چاہتا ہے غالباً اس آیت کا ترجمہ انہوں نے یہ کیا ہوگا کہ جب سور کا گوشت کھانے کو بے اختیار جی چاہے تو کھالو مگر باغ میں بیٹھ کر نہ کھانا اور نہ اس کی عادت ڈالنا۔ سور کے گوشت میں اہل یورپ اور اہل چین کے ڈھیل دینے کی گنجائش اس آیت سے وہی شخص نکال سکتا ہے جو نہ اضطرار کے معنی جانتا ہو‘ نہ باغی کا مفہوم سمجھتا ہو اور نہ عادی کا۔ ورنہ جاننے والے کے لیے تو اتنی جرات کرنا بہت مشکل ہے۔ آیت کا مفہوم یہ نہیں کہ جن لوگوں کو مردار خوری یا خون آشامی کا چسکا لگا ہوا ہے جو لوگ سور کے گوشت پر جان دیتے ہوں یا جن کے ہاں ما اھل بہ لغیر کے کھانے کا عام دستور ہو‘ وہ سب مجبوروں میں داخل ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو تحریم کا حکم ہی بے معنی ہوجاتا۔ کیونکہ اگر تحریم ان لوگوں کے لیے تھے جو ان چیزوں کے خوگر تھے تو استثناءسے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی عادت کے مطابق انہیں کھاتے رہتے اور اگر تحریم ان لوگوں کے لیے تھی جو خود ہی ان سے مجتنب تھے تو ان کے لیے اس حکم کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اضطرار(مجبوری( کے ساتھ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا کی شرط لگا کر جو استثناءکیا گیا ہے اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ جو شخص بھوک سے مررہا ہو اور حرام چیز کے سوا کوئی چیز اس کو نہ ملتی ہو ‘ وہ جان بچانے کے لیے حرام چیز کھا سکتا ہے۔ بشرطیکہ حد رخصت سے تجاوز نہ کرے۔ یعنی جان بچانے کے لیے جتنی مقدار ناگزیر ہو اس سے زیادہ نہ کھائے اور حدود اللہ کے تورنے کی خواہش اس کے دل میں نہ ہو۔ اسی بات کو ایک دوسری جگہ سور اور مردار وغیرہ چیزوں کی تحریم کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

فَمَنِ اضْطُرَّ فِیۡ مَخْمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ(المائدہ , 3)

یعنی جو شخص بھوک کی شدت سے مجبور ہوجائے بجائے اس کے کہ گناہ کی طرف کوئی میلان اس کے دل میں ہو وہ ایسی حالت میں حرام چیز کھا سکتا ہے کہاں یہ بات اور کہاں وہ کہ اہل یورپ اور اہل چین چونکہ سور کے گوشت پر جان دیتے ہیں لہٰذا فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ سے فائدہ اٹھا کر ان کے لیے سور کو جائز کردیا جائے اور وہ بھی اس لیے کہ وہ اسلام میں داخل ہوسکیں اگر کسی طریقہ سے ہر قوم کی رغبتوں اور خواہش کا لحاظ کرکے اسلام کے قوانین میں ڈھیل دینے کا سلسلہ شروع ہوجائے تو شراب‘ جوا‘ زنا‘ سود اور ایسی ہی دوسری تمام چیزوں کو ایک ایک کرکے حلال کرنا پڑے گا۔ سوال یہ ہے کہ جولوگ خدا کے احکام ماننے اور اس کے قائم کیے ہوئے حدود کی پابندی کرنے اور اس کے حرام کو حرام سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کو اسلام میں داخل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اسلام ان کا محتاج کب ہے کہ وہ ان کو راضی کرنے کے لیے کم وبیش پر سودا کرے؟ پہلے تو صرف سورہی کے حرام ہونے کی علت آپ کی سمجھ میں نہیں آئی تھی مگر پھر جو آپ نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اصولاً معدہ اور محرکات اخلاق میں بون بعید ہے لہٰذا آپ نے یہ رائے قائم فرمائی کہ مذہب کو کھانے پینے کی چیزوں میں حلال و حرام کا امتیاز قائم کرنے کا سرے سے کوئی حق ہی نہیں ہے اس ارشاد سے یہ راز فاش ہوگیا کہ آپ جتنا قران کے متعلق جانتے ہیں حکمت طبیعی کے متعلق بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔ قرآن سے ناواقف ہونا تو خیر ایک ”روشن خیال” تعلیم یافتہ آدمی“ کے لیے شرمناک نہیں ہے مگر سائنس سے اتنی بے خبری البتہ شرمناک ہے۔ آپ کو اب تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ انسان کی نفس اور اس کی ترکیب جسمانی کے درمیان کیا تعلق ہے۔ اور اس کی ترکیب جسمانی غذا سے کیا تعلق رکھتی ہے جو چیز جسم کو اس کے ضائع شدہ اجزائے ترکیبی فراہم کرتی ہے‘ جس سے بدن کے تمام ریشے اور اعصاب از سر نو بنتے ہیں جو چند سال کے اندر پرانے جسم کی جگہ نیا جسم پورا پورا بنادیتی ہے۔ اس کی خصوصیات کا اثر نفس اور روح پر ہونا نہیں بلکہ نہ ہونا قابل تعجب ہے۔ اس حقیقت سے سائنٹیفک دنیا پہلے عموماً غافل تھی۔ مگر فن تغذیہ (Dietetics) پر حال میں جو تحقیقات ہوئی ہیں ان سے یہ راز منکشف ہوگیا ہے کہ انسان کے اخلاق اور اس کی ذہنی قوتوں پر اس کی غذا کا اثر ضرور مترتب ہوتا ہے۔ چنانچہ آج کل کے حکماءاس تجسس میں لگے ہوئے ہیں کہ مختلف قسم کی غذاوں سے ہمارے نفس اور قوائے فکری پر کیا اثرات ہوئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے گریجویٹ دوست کی سائینٹفک معلومات تازہ (Up-to-date) نہیں ہیں‘ ورنہ وہ اتنی جرات کے ساتھ یہ دعویٰ نہ کردیتے کہ اصولاً معدہ اور محرکات اخلاق میں بعد ہے 

ہلاکت یا شہادت؟!

on 2013-11-05

بیورو آف انوسٹی گیٹو جنزلزم انٹر نیشنل نے 2012ء میں پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی اور ثابت کیا کہ ان حملوں کی زد میں معصوم لوگ نشانہ بنتے ہیں۔ اس رپورٹ میں مختلف حملوں کی تفصیلات بھی بتائی گئیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ ہے کہ 23 جون 2009ء کو طالبان کے ایک اہم رہنما خواز ولی محسود کو نشانہ بنایا گیا اور ایک شرمناک پلان ترتیب دیا کہ جیسے ہی ولی محسود کے نماز جنازہ میں بیت اللہ محسود آئیں گے نماز جنازہ پر ڈرون سے حملہ کر دیا جائے گا ایسا ہی کیا گیا 5000 سے زائد لوگ نماز جنازہ میں شریک ہوئے جس میں ایک بڑی تعداد عام قبائلیوں کی بھی تھی پھرحملہ کر کے 83 افراد کو شہید کر دیا گیا جس میں غالب اکثریت عام شہریوں کی تھی جبکہ 12 طالبان بھی شامل تھے، امریکہ کو اس حملے میں حزیمت اس صورت بھی اٹھانی پڑی کہ بیت اللہ محسود محفوظ رہا۔

حکیم اللہ محسود کو جب سے نشانہ بنا یا گیا ہے ، ایک بار پھر یہ موضوع سامنے آیا ہے کہ حکیم اللہ محسود شہید ہوا یا ہلاک۔ایک طبقہ اوپر لکھے واقعے کی جب رپورٹنگ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ امریکہ کا ڈرون حملہ، 83 افراد نشانہ بن گئے جن میں سے 12 ہلاک جبکہ باقی شہید ہو گئے۔ اس رپورٹنگ پر بے اختیار ہنسی نکل جاتی ہے کہ کل تک جو جنت کی ٹکٹوں پر دوسروں کو طعنہ دیتے تھےآج اپنے ہاتھوں سے جنتیں بانٹ رہے ہیں جیسے جنت کا ٹھیکہ انہوں نے سنبھال لیا ہو اور حکیم اللہ محسود کے اوپر پہنچنے پر زور زور سے چیخ رہے ہوں"چل اوے حکیم اللہ محسودچل کھبی سائیڈ تے نکل جا، دوزخ وچ ای تیرا ٹکانہ ہے۔۔۔۔ سانوں سارا پتا توں جہڑیاں ذمہ داریاں قبول کردا سی۔۔۔۔۔۔، تینوں تے جنت دی ہوا ای نہیں سنگھن دینڈی "۔(ہیلو حکیم اللہ محسود چل ابے بائیں طرف چل تیرا ٹھکانہ تو جہنم ہے۔۔۔۔ ہمیں سب معلوم ہے جو تو ذمہ داریاں قبول کرتا رہتا تھا۔۔۔۔ تجھے تو جنت کی ہوا تک نہیں سونگھنے دیں گے)۔

عجب بے وقوفی کا عالم ہے اگر ہم تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ پاکستان اور اسلام کا دشمن ہے جیسا کہ اس نے خود ثابت کیا ہے اور پھر ہم ڈرون حملوں کو اپنے ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی اور اپنی سرزمین پر حملے سمجھتے ہیں تو ظاہر ہے دشمن کے ہتھیار کے نیچے جو بھی آئے گا وہ جتنا بڑا مجرم ہو، ناحق ہی مرے گا اور شہید ہی کہلائے گا۔ یہ "تھم رول" ہے جو ہمیں بنانا پڑے گا کہ ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے ہلاک کہلائیں گے یا شہید ، یا تو ہمیں 83 افراد کو ہلاک لکھنا پڑے گا یا پھر 83 کو شہید کا درجہ دینا پڑے گا چہ جائیکہ ان میں کوئی بڑا مجرم ہی کیوں نہ شامل ہو تب بھی کسی دشمن کو منصفی کا حق حاصل نہیں۔ البتہ پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے مجرم کو نشان عبرت بنا دے لیکن بالفرض ہم حکیم اللہ محسود کو مجرم تصور کر بھی لیں تو ڈورن حملے کے وقت تو وہ آپ سے مذاکرات کرنے پر آمادہ ہو چکا تھا ایسے وقت میں تو اسلام کسی دشمن پر بھی تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا ۔جب کسی غزوہ یا جنگ میں دشمن کا کوئی بڑے سے بڑا فرد بھی سفید پرچم تھامے آتا تو اسے پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا اور عزت و احترام دیا جاتا۔ مسلمانوں کے لشکر چاہتے تو ایسے لمحات میں ان بڑوں بڑوں کو قتل کر کے فتح کے جھنڈے گاڑ سکتے تھے اور خوشیوں کے شادیانے بجا سکتے تھے لیکن یہ عدل و انصاف کے برخلاف ہوتا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ امریکہ نے حسب معمول نہ صرف ڈرون حملہ کر کے پاکستان کی آزادی پر کاری ضرب لگائی بلکہ مذاکرات پر آمادہ ایک باغی کو نشانہ بنا کر نہایت ظالمانہ حرکت کرتے ہوئے شہید کر دیا ہے۔

شاہ دولہ کے سائنسی چوہے اور ڈی این اے کی شہادت

on 2013-06-09

نیشنل انسٹیوٹ فار بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ فیصل آباد میں ہمارا تیسرا ماہ شروع ہو چکا تھا، اپنی یونیورسٹی کے ہم چار طلباء و طالبات تھے جو ایک خصوصی اکیڈمک ٹریننگ کے سلسلے میں یہاں مختلف لیبارٹریز میں مختلف قسم کے ٹیسٹ اور تجربات کر رہے تھے، اسی سلسلے کی کڑی میں اب ہم ہیلتھ ڈویژن میں آئے تھے ، ہیلتھ ڈویژن پنجاب بھر میں ایک عرصے سے نبجی کی مقبولیت کا باعث بنا رہا کیونکہ جینیٹک سائنس کے ابتدائی دنوں میں یہاں کا ہیپا ٹائٹس پی سی آر بہت زیادہ معروف تھا۔ یوں ہمارا پہلا پالا ہی یہاں اسی ٹیسٹ سے پڑا۔ ہم چار طلباء و طالبات کو کہا گیا کہ آپ میں کوئی دو افراد اپنے خون کے نمونے دیں تاکہ اس پر پی سی آر تجربہ کیا جائے۔ دو طالبات نے اپنے خون کی قربانی دی اور یوں سارا دن مختلف مراحل کے ساتھ پی سی آر کا عمل چلتا رہا۔ آخر کار نتیجہ خیز مرحلے میں جب ہماری نظر جیل ڈاک سسٹم کی اسکرین پر پڑی تو نتائج حیران کن تھے دو میں سے ایک طالبہ کا رزلٹ پوزیٹو اور ایک کا نیگٹو تھا، فورا سینئر پروفیسر صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ پی سی آر دوبارہ رن کیا جائے۔ اگلے دن دوبارہ عمل دوہرایا گیا لیکن نتائج کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی اور وہ پوری ڈھڈائی کے ساتھ ایک پوزیٹو اور ایک نیگٹو کے ساتھ برقرار رہا۔ لڑکیوں کی نیچر کا تو آپ کو معلوم ہی ہو گا باقی بھی ہم سب پریشان تھے کہ یونہی لیبارٹریز میں سیکھتے سیکھتے مفت میں ایک مریض بنوا بیٹھے ہیں۔ پروفیسر صاحب سے دوبارہ مشورہ کیا تو انہوں نے پی سی آر کٹس کا ایک باکس اٹھا دیا کہ اس پر چیک کر کے دیکھیں اگر اس پر یہی نتائج آئیں تو سمجھیں حاصل یہی ہے۔ کٹ پی سی آر کم وقت لیتا ہے اور جلد نتائج ملتے ہیں اس بار نتائج کچھ زیادہ ہی ہوش اڑا دینے والے تھے ہوا یہ کہ جن محترمہ کا پہلے پوزیٹو تھا ان کا نیگٹو اور نیگٹو والی کا پوزیٹو نتیجہ نکلا۔ کافی غور و فکر اور مشوروں کے بعد فیصلہ ہوا کہ خون کے نمونے دوبارہ لیے جائیں اور دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے تیسرے دن کے اختتام پر ہم اس سسنسی خیز تجربے کا بھی اختتام کر چکے تھے اور سب شکر ادا کر رہے تھے کہ اس بار نتیجہ دونوں کا نیگٹو نکلا ہے۔ ان طالبات نے اپنے اطمینان اور تسلی قلب کے لیے بیس کے قریب کٹس پر بار بار ٹیسٹ کیا لیکن نتائج برقرار رہے۔

آج اس سسپنس سے پھرپور واقعے کو ہوئے تیسرا سال گزر رہا ہے اور میں یاسر پیر زادہ کا ایک کالم پڑھ رہا ہوں۔ آج یاسر پیر زادہ  صاحب"عالمی جینیاتی سائنسدان" لگ رہے ہیں صاف محسوس ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہ حیثیت ہائی اسکول کی سائنس کی کتاب پڑھ کر حاصل کی ہے ۔ اپنی اسی "سائنس دانی" کی بنیاد پر وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اسلامی اور نظریاتی علماء کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑ پڑے ہیں جنہوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کو زنا کے کیسسز میں بنیادی شہادت ماننے سے انکار کر دیا ہے ۔ اس قبیل کے ایک اور "سائنسدان" محمد حنیف صاحب کا ایک "سائنٹفک آرٹیکل" نما بلاگ بھی میرے سامنے موجود ہے جو بی بی سی نامی معروف نیوز ایجنسی نے اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہوئے شائع کیا ہے۔ میں اپنی کم علمی اور نا تجربہ کار معلومات کے باوجود پوری ذمہ داری اور وثوق سے کہتا ہوں کہ موصوف بنیادی طور پر زنا بالرضا کے کیسسز کے وکالت کرتے ہوئے سائنس کے ٹھیکیدار بن رہے ہیں لیکن افسوس اوپر سے انصاف کا راگ بھی الاپے جاتے ہیں اور ان علماء پر غیر منصفی کا الزام بھی دھر رہے ہیں

قرآن و سنت اور اسلامی قانون سے ناواقف ہونا تو خیر اس "روشن خیال تعلیم یافتہ لبرل طبقہ" کے لیے شرمناک نہیں ہے مگر ان کی "سائنس دانی" پانچویں کی سائنس سے آگے نہ بڑھ سکے یہ ضرور ان کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے ڈی این اے ٹیسٹ کس طرح کا عمل ہے اس کا اندازہ تو آپ کو واقعہ بالا سے ہو چکا ہو گا اس کا معیاری ہونے پر کوئی دو رائے نہیں رکھی جا سکتیں کیونکہ ہر انسان جینیاتی طور پر منفرد ہے اوراس کو ڈی این اے ٹیسٹ ہی پڑھ سکتا ہے لیکن یہ ٹیسٹ اسی صورت میں معیاری کہلاتا ہے جب تمام مراحل یوری ذمہ داری اور ایمانداری سے کنڈکٹ کیےجائیں زنا کے کیسسز میں اسلامی قانون سخت سزا دینے کا قائل ہے لہٰذا ڈی این اے ٹیسٹ ایسے میں ایک کمزور شہادت ہے اس پرکلی طور پر اسلامی قانون متفق ہے، غیر ترقی یافتہ سے ترقی پذیر ممالک بہت حد تک اور کسی حد تک خود سائنس بھی متفق ہے آئیے اس کا جائزہ لیں

ڈی این اے ٹیسٹ کا پہلا مرحلہ سیال مادے کے نمونے حاصل کرنا ہوتے ہیں آپ کے ڈی این اے ٹیسٹ کی کامیابی کا انحصار اسی پر ہوتا ہے کہ آپ نے جو نمونہ حاصل کیا اس میں واقعی وہ جنسی جرثومے اپنی اصل حالت میں موجود ہیں جس پر آپ ٹیسٹ کرنے والے ہیں یہ مختلف کیفیات پر منحصر ہے جس میں طریقہ واردات،ذانی کی جسمانی و جنسی صحت، نمونہ حاصل کرنے کا وقت اور نمونہ حاصل کرنے کا طریقہ کار و تجربہ کاری۔ طریقہ واردات کو میں علیحدہ بحث کے لیے رکھ چھوڑتا ہوں اور باقی چیزوں کا سرسری جائزہ لیے چلتے ہیں یہ ممکن ہے کہ ذانی کی جنسی و جسمانی صحت ایسی ہو کہ وہ سیال مادہ تو پیدا کرے مگر اس میں بہت کم جنسی جرثومے ہوں جس پر نمونہ حاصل کرنا مشکل ہو جائے اور بعض صورتوں میں ایسے بھی ممکن ہے کہ کوئی جرثومہ ہی نہ ہو خود یورپی ممالک میں ایسے بہت سے کیسسز سامنے آئے جس میں ظاہری جسمانی جائزہ سے مزنیہ (جس عورت کے ساتھ زنا کیا گیا ہو) پر تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے شوائد موجود تھے لیکن ڈی این اے ٹیسٹ نیگٹو آ رہا تھا۔ وہیں یہ بات بھی بہت زیادہ اہم ہےکہ مزنیہ زنا کے بعد کتنے وقت میں نمونہ کے لیے پہنچی ہے کیونکہ محدود وقت کے بعد ممکن نہیں کہ نمونہ حاصل کر کےٹیسٹ کیا جائے ایسی ہی  صورت حال حالیہ گینگ ریپ کیس انڈیا میں بھی دیکھی گئی جب بوجوہ ڈی این اے ریپ کٹ کی عدم دستیابی کے نمونہ حاصل کر کے محفوط کرنا تین دن تک ممکن نا ہو سکا پاکستان جیسے ملک جہاں مریض ایمبولینس کا انتظار کرتے کرتے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا ایمبولینس ان کی میت لیے ہسپتال پہنچتی ہے ایسی صورت حال میں زنا کے بروقت نمونے کا حصول مشکل تر ہے

 ڈی این اے ٹیسٹ کا دوسرا مرحلہ حاصل کیے جانے والے نمونے کو لیبارٹری کے عمل سے گزارنا ہے یہاں مختلف اشیاء اثر انداز ہو سکتی ہیں جس میں لیبارٹری عوامل بھی ہیں اور غیر لیبارٹری عوامل بھی۔ لیبارٹری عوامل میں لیبارٹری کی ڈویلپمنٹ  اور ٹیکنیشن کی تجربہ کاری کے علاوہ مخصوص کیس اسٹڈی پر منحصر ہے کہ ٹیسٹ پوزیٹو آتا ہے یا نیگیٹو۔ یورپی ممالک کی لیبارٹریز تو بہت حد تک جدید اور ڈویلپڈ ہیں مگر پاکستان میں یہ معقولیت سے کم سطح پر ہوں گی اس سترہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک میں صرف ایک فارینزک لیب ہے اور شور الاپا جا رہا ہے کہ علماء نے ڈی این اے ٹیسٹ کو شرعی شہادت تسلیم نہیں کیا۔ غیر لیبارٹری عوامل کا ٹیسٹ پر اثر انداز ہونا بھی خارج از امکان نہیں ایسی صورت میں ایک جھوٹی ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کی جرح ہی کیسے ممکن ہے عدالت زیادہ سے زیادہ دوبارہ ٹیسٹ کنڈکٹ کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے جبکہ جھوٹے گواہان کی جرح با آسانی عدالتیں کرتی چلی آ رہی ہیں ایسے میں ڈی این اے ٹیسٹ کو کیسے بنیادی شہادت تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی بتانا بہت ضروری ہے کہ سائنس نہایت بے ثبات علم ہے اس میں ٹھہراؤ نہیں ہے اس کا اقرار خود بدل سائنس بھی کرتی ہے آج جس کو پوجا جا رہا ہے کل ہو سکتا ہے کہ کوئی سائنسدان اٹھے اور سب کچھ بدل کر رکھ دے بشرطیکہ وہ محمد حینف یا یاسر پیرزادہ جیسا "سائنسدان " نہ ہو جو مغرب کی اندھی تقلید کے خوگر ہیں۔ یہاں میڈیکل کے شعبہ میں ایسے کئی ڈایاگونسٹک ٹولز تھے جو اپنے وقت میں نہایت معتبر مانے جاتے تھے پھر ہوا یوں کہ ان کی جگہ نئے اور جدید ٹولز نے لے لی اور وہ پرانے ٹولز معتبر سے غیر معتبر ہو گئے۔ ایسے میں اسلامی قانون ایک سخت سزا کے لیے اس سائنسی ٹول کو بنیادی شہادت کیوں مانے جو بے ثبات ہے اور اگلے ہی دن بدل جانے کی گنجائش رکھتا ہے ۔

اس مباحث کے آخری اور سب سے اہم نقطہ کی جانب بڑھتے ہیں جسے میں دانستہ عارضی طور پر چھوڑ آیا تھا یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جس کی بناء اسلامی قانون میں ڈی این اے ٹیسٹ کو کسی بھی ملک میں بنیادی شہادت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا جی ہاں اسی کی بنیاد پر یہ روشن خیال لبرلز زنا کی وکالت کے درجے پر فائز ہیں اور اسی کی بنیاد پر میں ان کم فہم اسلام پسندوں کے اس سادہ خیال اور خوش فہمی کی نفی کروں گا جو وہ فرما رہے ہیں کہ "اگر کبھی حد کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو شرعی شہادت تسلیم کرلیا گیا تو ہمارے روشن خیال طبقے کی آدھی عوام سنگسار ہوجائے گی اور باقی آدھی کوڑے کھا کر اسپتال میں پڑی ہوگی " حقیقت یہ ہے کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہی یہ روشن خیال لبرل طبقہ اٹھائے گا   آئیے پہلے یہ سمجھیں کہ اسلام میں زنا کس چیز کو کہا جاتا ہے؟ نکاح کے بغیر مباشرت کو زنا کہا جاتا ہے چاہے وہ باہمی رضامندی سے کیا جائے یا متعلقہ افراد میں سے کوئی جبر کے ساتھ کرے۔مغرب کے روشن خیال لبرلز میں باہمی رضا مندی سے کیے جانے زنا کو جرم ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ افراد کی ذاتی زندگی اور آزادی کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔لہٰذا ان کے ہاں جرم وہی ہے جس کا کیس خود مزنیہ لے کر عدالت میں پہنچ جائے۔ اسلام جرم کو بغیر کسی لاگ لپٹ کے جرم کہتا ہے  اسی لیے زنا چاہے بالرضا ہو یا بالجبر زنا ہی رہے گا چونکہ ان دونوں کے طریقہ واردات میں فرق ہے ۔ میں یہ بات پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں کہ کیا خیال کرتے کہ اس دور میں زیادہ کیسسز کس قسم کے ہوتے ہیں یہ وباء بالرضا پھیل رہی ہے یا بالجبر۔

طریقہ ہائے واردات کی نظر سے دیکھا جائے تو صاف دکھتا ہے کہ باہم رضا مندی سے کیے جانے والے اس گناہ میں کئی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں  جس میں جنسی جرثوموں کو مزنیہ کے جسم میں داخل ہونے سے روکنے کی ہرممکن کوشش کی جاتی ہے  کنڈومز کا استعمال اس کی ایک مثال ہے۔ یہ احتیاط اس لیے ضروری کہ ہمارا معاشرہ نا تو ایسے زنا اور ناحرامی بچوں کو سپورٹ نہیں کرتا ، لبرلز کے ہاں چونکہ اس سب چیزوں کو قبول کیا جاتا ہے لہٰذا وہاں احتیاط ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی شہادت ماننے کے بعد یہ احتیاط پہلے سے زیادہ ضروری سمجھی جانے لگے گی ایسے میں کسی انسانی شہادت کی بناء کیس عدالت میں پہنچتا بھی ہے تو ڈی این اے کے لیے شواہد موجود ہی نہیں ہوں گا اور اگر ہوں بھی تو متعلقہ افراد مٹا دینے میں سستی نہیں برتیں گے۔ پھر آپ بیسوں مرتبہ ڈی این ٹیسٹ کر لیں رزلٹ نیگیٹو ہی ملتے رہیں گےیہی یاسر پیرزادہ اور محمد حنیف کی خواہش ہے جو زنا کومعاشرے میں پھیلانے کا موجب ہے۔

ایسے میں اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ فیصلہ قابل تحسین ہے جس میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی شہادت ماننے سے انکار کر کے انسانی شہادت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔  یہاں یہ بات سمجھنے کے لائق ہے کہ اسلامی قانون و تعزیرات میں ہمیشہ اس بناء پر سزائیں سنائی جاتی ہیں کہ جرم کا سدباب ہو، جرم کو پھیلنے سے روکا جائے اور جرم کا پرچار نہ کیا جائے ، وہ مجرم کو اس کے جرم کی سزا صرف اس لیے نہیں دیتا کہ اس نے جرم کیا ہے بلکہ وہ معاشرے کے باقی افراد کو پیغام بھی دیتا ہے کہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں۔ زنا کے معاملے میں بھی وہ اسی اصول کو مدنظر رکھتا ہے اسی لیے وہ ایسے تمام کیسسز کا پنڈورا نہیں کھولتا جب تک وہ جرم معاشرے کی نظر میں نہ آ جائے اور چار فرد اسے دیکھ نہ لیں، لیکن روشن  خیال لبرلز کے ہاں متعلقہ افراد چاہے وہ زانی ہو یا مزنیہ، اور جرم تو بالجبر ہے 
جب تک معاشرے میں ننگے نہ ہوں جائیں، بچہ بچہ زنا کے لفظ سے واقف نہ ہو جائے مجرموں کو سزا دینے کا راگ الاپاجاتا ہے
نوٹ: یاسر پیرزادہ صاحب سے کچھ باقی فیصلوں پر بھی اپنی روشن خیال 'تاریکی نظر' فرمائی ہے۔ کچھ دنوں میں ان کا جواب بھی آپ ساجد قلم پر دیکھ سکیں گے۔    

آؤ اجتہاد کریں!

on 2013-06-02

 اجتہاد اور تقلید  ہر دور اور ہر علاقے میں موضوع سخن رہا ہے۔ ناکام اور شکست خوردہ اقوام نئے راستوں اور طریقوں پر غور کرنے کے لیے اس مباحث میں ضرور پڑتی ہیں اسی لیے ہمارے یہاں آج کل اجتہاد کا بخار بہت سے لوگوں کو چڑھا ہوا ہے اور شاید اپنی ناکامی کا کلی ذمہ دار اپنے اس استتباط کو قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ساکن نظریات، زمانے کی تیز رفتاری کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کا حق ہر ایرے غیرے کو نہیں کہ جب اس کا دل چاہے اٹھ کھڑا ہو اور اپنے من کی خواہش کو بجھا لے۔ وہیں یہ بھی ضروری نہیں وہ زمانے کے ساتھ چلنے کے لیے زمانے کی چال چلا جائے۔

میں اس ضمن میں ایک دلچسپ صورت حال کی طرف لیے چلتا ہوں۔ "پردہ" کا معاملہ اجتہاد کے حوالے کافی اچھالا جاتا ہے۔ ایک طبقہ یہ کہہ رہا ہے کہ اسلام کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ یہ پردہ ہے اس سلسلے میں تھوڑی نرمی کر لی جائے نقاب کو اتار کر صرف سر کے ڈھاپنے پر ہی اکتفا کر لیا جائے تو اسلام دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگے اور چند سالوں میں اس دنیا پر چھا جائے وہیں یہ سوچ بھی پیدا ہو رہی ہے کہ اسلام نے یہ چادر عورت کو صرف ایک حکم کے طور پر ہی نہیں چڑھائی بلکہ وہ اسے زمانے کی بری نظروں سے اور ہوس سے بچانے کے لیے پردے کا حکم دیتا ہے۔ چونکہ اب زمانے میں ایسا ہیجان پہلے سے زیادہ اور بڑھ گیا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس عمل میں مزید سخت ہوا جائے تاکہ جو مقصد ہے وہ پورا ہو سکے۔

اب ایک مسلمان جو اسلام کی ترقی بھی چاہتا ہے اور اسلام کے مقصد کو بھی پورا کرنا چاہتا ہے وہ کہاں جائے؟۔ کس اجتہادی سوچ کو برحق کہے اور کس کو نفس کی خواہش قرار دے؟۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اس سلسلے میں رہنمائی کرتے ہیں

بزرگان سلف کے اجتہادات نہ تو اٹل قانون قرار دئیے جا سکتے ہیں اور نا سب کے سب دریا برد کر دینے کے لائق ہیں۔ صحیح اور معتدل مسلک یہی ہے کہ ان میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے مگر صرف بقدر ضرورت اور اس شرط کے ساتھ کہ جو رد و بدل بھی کیا جائے تو دلائل شرعیہ کی بناء پر کیا جائے۔ نیز نئی ضروریات کے لیے نیا اجتہاد کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ اس اجتہاد کا ماخذ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہو اور یہ اجتہاد وہ لوگ کریں جو علم و بصیرت کے ساتھ اتباع و اطاعت بھی رکھتے ہوں۔ رہے وہ لوگ جو زمانہ جدید کے رجحانات سے مغلوب ہو کر دین میں تحریف کرنا چاہتے ہیں، تو ان کا حق اجتہاد کو تسلیم کرنے سے قطعی انکار ہی کیا جا سکتا ہے۔(رسائل مسائل (دوم)۔ صفحہ )186

اجتہاد میں اتباع و اطاعت کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق مقصد سے ہوتا ہے  اور جب مقصد فوت ہو جائے تو ہم کس چیز اور خیال کی ترقی کا سوچتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو پھونک پھونک کر ۔ بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہیں یہ بھی ضروری نہیں کہ علم و فکر اور مقصد و اطاعت کے ساتھ جو اجتہاد ۔
کیا جائے اس میں لازمی طور پر ایک ہی رائے سامنے آئے

نبی مہربانﷺ نےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو کسی مہم پر روانہ کیا اور فرمایا کہ فلاں مقام پر جا کر نماز عصر ادا کرنا۔ کٹھن راستے کی وجہ سے نماز عصر کا وقت اس جگہ سے پہلے ہی آگیا سوال پیدا ہوا کہ کیا نماز ادا کر لی جائے یا اس مقام تک پہنچا جائے۔ کچھ اصحاب نے وہیں ادا کی اور کچھ نے اس مقام پر پہنچ کر۔ واپسی پر یہ مسئلہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں پیش ہوا تاکہ برحق ہونے کا فیصلہ ہو سکے۔ نبی مہربانﷺ نے کسی کو غلط نہیں کہا بلکہ دونوں کی تصویب فرمائی اگرچہ جواز اور عدم جواز موجود تھا۔ لیکن دونوں مقصد و اطاعت اور منشائے شریعہ کے عین مطابق تھے لہٰذا اس اختلاف کونبی مہربانﷺ نے قبول فرمایا بلکہ رحمت قرار دیا

 آج بھی اگر ہم اسلام کی آفاقیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اجتہاد کے اصل شعور کو اجاگر کرنا ہو گا۔ سید مودودی ؒ کے مطابق ہر دور میں اجتہاد کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے ایک ہاتھ میں تلوار ہو، دوسرے ہاتھ میں قرآن و سنت نبوی اور نظر اسلام (پورے مقصد کے ساتھ) کی نشاۃ ثانیہ پر ہو لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ہاتھ اور پاؤں مغربی تہذیب و فکر میں ڈوبے ہوئے ہیں ، ہماری نظر لبرل اور سیکولر لوگوں کی تنقید پر ہے اور ہم اسلام کی ترقی کے لیے اجتہاد پر زور دے رہے ہیں۔
۔  

ناکام کون؟

on 2013-05-21


اسلامی اسکالر- شاہ نواز فاروقی

جماعت اسلامی کو ایک بار پھر انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ کامیابی کا معاملہ ایک انگریزی محاورے کے مطابق یہ ہے کہ کامیابی کی طرح کوئی کامیاب نہیں ہوتا‘ لیکن ناکامی کا قصہ بھی یہی ہے کہ اس کی طرح کوئی ناکام نہیں ہوتا۔ کامیابی آتی ہے تو غلطی بھی ہنر بن جاتی ہے… اور آدمی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے تو ہنر بھی عیب کہلانے لگتا ہے۔ یہ دنیا عجیب جگہ ہے، یہاں کامیاب بغاوت ’’انقلاب‘‘ کہلاتی ہے، اور ناکام انقلاب کو ’’بغاوت‘‘ کہا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کامیاب نہیں ہوتی ہے تو بعض لوگ کچھ اور نہیں تو یہی کہنے لگے کہ جماعت اسلامی کو کراچی میں انتخابات کا ’’بائیکاٹ‘‘ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لیکن حق و باطل کا معرکہ عجیب ہے۔
اس معرکے میں حق کی بالادستی کی جدوجہد کرنے والے کامیاب ہوں تو بھی کامیاب ہیں اور بظاہر ناکام ہوں تو بھی کامیاب۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حق و باطل کے معرکے میں اصل چیز حق کی شہادت دینا ہے۔ جس نے حق کی شہادت دی اس کے حصے میں سعادت آئی، اور جس نے باطل کے غلبے کے لیے کام کیا وہ کامیاب ہوکر بھی ناکام ہوا۔
انسان کی فطرت ہے کہ وہ جدوجہد کرتا ہے تو کامیابی کی صورت میں اس کے ’’نتائج‘‘ بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ خواہش غلط نہیں۔ یہ سرتاپا ایک انسانی رویہ ہے۔ لیکن اپنے کام کے اچھے نتائج دیکھنے کی خواہش کرنا اور نتائج کو پوجنا دو مختلف باتیں ہیں۔ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اچھے نتیجے کی آرزو کرتے کرتے نتیجے کو پوجنے لگتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اصل چیز تو نتیجہ ہے۔ نتیجے کی پوجا کی طرف آدمی اس لیے جاتا ہے کہ دنیا میں کامیابی کا ’’سکہ‘‘ چلتا ہے۔ یہاں تک کہ کامیابی ہی ’’حق‘‘ بن جاتی ہے۔ اس غلط فہمی نے تاریخ میں بڑے ہولناک نتائج پیدا کیے ہیں۔ سرسید احمد خان برصغیر کے مسلمانوں کی بڑی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ اکثر لوگوں کو معلوم نہیں کہ سرسید انگریز پرست اور ’’بابائے جدیدیت‘‘ کیوں تھے؟ تجزیہ کیا جائے تو اس کی بنیادی وجہ انگریزوں کا غلبہ تھا۔ سرسید کو لگتا تھا کہ انگریز حق پر نہ ہوتے تو غالب کیوں ہوتے!
سرسید کو محسوس ہوتا تھا کہ انگریزوں کا غلبہ ان کی ’’عقل پرستی‘‘ کا حاصل ہے اور عقل پرستی انہیں جدیدیت نے سکھائی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے فہم کے مطابق مسلمانوں کو بھی عقل پرست اور جدید بنانے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں انہیں مذہب کے بعض تصورات رکاوٹ محسوس ہوئے تو انہوں نے بلاتکلف ان تصورات کو اٹھاکر ایک طرف رکھ دیا۔ مثلاً انہوں نے جنت اور دوزخ کا یکسر انکار تو نہ کیا، ایسا کرتے تو وہ منکرِ قرآن ہوجاتے، لیکن انہوں نے کہا کہ جنت اور دوزخ کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔ جنت اور دوزخ انسان کی ذہنی کیفیات ہیں۔ اسی طرح انہیں گمان گزرا کہ فرشتوں کا تصور بھی خلاف ِعقل ہے۔ مگر وہ فرشتوں کے تصور کا یکسر انکار نہیں کرسکتے تھے، چنانچہ انہوں نے کہا کہ فرشتے دراصل انسان کی باطنی قوتیں ہیں۔ سرسید کی یہ، اور ایسی بہت سی گمراہ کن تعبیرات انگریزوں کے غلبے اور کامیابی سے متاثر ہونے کا نتیجہ تھیں، اور سرسید کو خیال آتا تھا کہ مسلمانوں کو بھی اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ’’نتائج‘‘ پیدا کرکے دکھانے ہیں تو انہیں بھی اہلِ مغرب کی طرح سوچنا اور عمل کرنا ہوگا۔ لیکن ہمارے دین کی روایت میں ’’نتائج‘‘ کا معاملہ عجیب ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دل سے چاہتے تھے کہ اہلِ مکہ ایمان لے آئیں، لیکن ابتدائی برسوں میں آپؐ کو بہت کم کامیابی حاصل ہوئی تھی، جس کی وجہ سے آپؐ اکثر فکرمند رہتے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ہدایت دینا تمہارا کام نہیں ہے، ہدایت تو ہم ہی دیتے ہیں، تمہارا کام تو حق کو لوگوں تک پہنچا دینا ہے۔ اور بلاشبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتار اور کردار دونوں کی سطح پر بہترین انداز میں لوگوں تک حق کو پہنچایا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل کامیابی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کرتے رہے اور بالآخر سیلاب ان کی قوم کا مقدر بنا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوحؑ ناکام ہوگئے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کامیاب رہے ، البتہ ان کی قوم حق کو پہچاننے اور قبول کرنے میں ناکام ہوگئی۔ حضرت امام حسینؓ کا معاملہ تو بالکل ہی واضح ہے۔ وہ حق کی گواہی دیتے ہوئے نہ صرف یہ کہ خود شہید ہوگئے بلکہ ان کا تقریباً سارا خانوادہ ہی شہید ہوگیا۔ بظاہر دیکھا جائے تو حضرت امام حسینؓ ناکام ہوگئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ناکام تو یزید ہوا۔ حضرت امام حسینؓ کامیاب ہوئے اور ایسے کہ سید الشہداء قرار پائے۔
جماعت اسلامی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ 70 سال سے حق کی علَم بردار اور دین کے غلبے کی سب سے بڑی ترجمان ہے۔ جماعت اسلامی کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے کبھی کسی کو فرقے اور مسلک کی دعوت نہیں دی۔ جماعت اسلامی کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے کبھی کسی کو نسل، زبان، جغرافیے، ذات اور برادری کے تعصب کی جانب نہیں بلایا۔ فرد اور گروہ کامیاب ہوتے ہیں تو ان کے لیے اپنے تصور ِحق پر قائم رہنا آسان ہوتا ہے، مگر جماعت اسلامی پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے پے در پے ناکامیوں کے باوجود بھی اپنے تصورِ حق کو نہیں چھوڑا۔ حالانکہ دنیا میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں کہ مشکل حالات کا سامنا ہوتے ہی انسان اور گروہ نام اور کام کیا مذہب تک بدل لیتے ہیں۔ لیکن اللہ کے فضل و کرم سے جماعت اسلامی 70 سال پہلے جو بات کہتی تھی آج بھی وہی بات کہتی ہے۔ یہ کہنا آسان ہے، کرکے دکھانا دشوار ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہو تو کوئی جماعت 40 سال کی انتخابی ناکامیوں کو جذب کرکے اپنے تصورِ حق پر ڈٹی نہیں رہ سکتی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کمیونسٹ پارٹیاں دنیا کی بہت بڑی پارٹیاں تھیں، مگر ریاست کی قوت سے محروم ہوتے ہی وہ کہیں یکسر غائب ہو گئیں، کہیں سکڑ سمٹ کر صفر بن گئیں اور معاشرے پر ان کا کوئی نظریاتی اثر باقی نہ رہا۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ جماعت اسلامی پر انتخابی ناکامی کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی انسانوں کی جماعت ہے، وہ بھی ناکامی اور کامیابی سے متاثر ہوتی ہے، لیکن جماعت کے لوگ چند دن ناکامی کے اثر میں رہتے ہیں اور پھر معمول کی نظریاتی جدوجہد کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ غور کیا جائے تو یہ عمل تقریباً ایک معجزے کی طرح ہے۔
جماعت اسلامی نے اپنی سیاسی تاریخ میں تین بڑی انتخابی ناکامیاں دیکھی ہیں۔ پہلی ناکامی 1970ء کے انتخابات میں ہوئی۔ دوسری قاضی صاحب کے زمانے میں پاکستان اسلامی فرنٹ کی ناکامی تھی۔ اور تیسری ناکامی 2013ء کے انتخابات کی ناکامی ہے۔ ان ناکامیوں میں سب سے بڑی ناکامی 1970ء کے انتخابات کی ناکامی تھی۔ اس کی وجہ نشستوں کی تعداد نہیں، قیادت کا فرق ہے۔ مولانا مودودیؒ ان علماء میں سے تھے جن کو عہدساز کہا جاتا ہے۔ مولانا تقویٰ کا ہمالہ اور علم کا سمندر تھے، مگر ان کے دور اور ان کی قیادت میں جماعت اسلامی کو ناکامی ہوگئی۔ مگر یہ مولانا اور جماعت کی ناکامی نہیں تھی۔ یہ معاشرے کی ناکامی تھی۔ معاشرے نے حق کو پہچاننے اور قبول کرنے سے انکار کردیا۔ مولاناؒ کے تقویٰ اور علم کے فرق کے ساتھ یہی صورت حال قاضی صاحب کے زمانے میں تھی، اور یہی صورت حال سید منورحسن کے زمانے میں ہے۔ سن 2013 کے انتخابی نتائج کو دیکھا جائے تو اگر کراچی میں ایم کیو ایم دہشت کا کھیل نہ کھیلتی تو جماعت کی مجموعی انتخابی کارکردگی اور بہتر ہوسکتی تھی، لیکن وسیع تر نظریاتی منظرنامے میں یہ ایک معمولی بات ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کی باتیں عام طور پر ناکامی کے بعد کی جاتی ہیں۔ اوّل تو تحریکِ اسلامی کے ہر کارکن کو حق کے ساتھ وابستگی کے معنی ہر حال میں یاد یا مستحضر ہونے چاہئیں، لیکن ناکامی کے بعد ان کو ذہن میں تازہ کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ حق کی بالادستی کی جدوجہد کے ساتھ ہمارا تعلق متاثر نہ ہونے پائے۔ حق کے ساتھ ہمارا تعلق استوار رہے تو ناکامی بھی ہمارے لیے کامیابی ہے۔
بشکریہ: ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل

مسئلہ ریاست کے اختیار کا

on 2013-05-17



سچی بات ہے ہم مخصوص "مائنڈ سیٹ" سے باہر سوچنے کے عادی ہی نہیں، ہم خود کو اسلام پسند کہلانے پر بہت خوشی محسوس کرتے ہیں لیکن اسلام کے حوالے سے ہر بات ہمیں ہی بری لگنے لگی ہے- یہ حقیقت ہے کہ آپ اسلام کے نام پر کوئی کام نہیں کر سکتے، اس کے پیچھے طالبانی سوچ ہو گی اور وہ ضرور جاہل زدہ ہو گا اور اگر وہی کام کسی یورپی ملک میں کر لیا جائے اور اسے مذہبی ٹرمز کے بجائے معاشرتی اور سائنسی زبان دے دی جائے تو ہم بے چوں و چراں قبول کر لیں گے کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اصل استدلال صرف لبرل ازم اور سیکولر ازم کے پاس ہے۔ آپ کے سامنے زندہ مثالیں موجود ہیں جب اسلام کے نام پر، بد اخلاقی، بے حیائی اور اباحیت کے خلاف کوئی ریاست یا گروہ اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق حل تلاش کرتا ہے اور اس کے نفاذ کا سوچتا ہے تو شور اٹھتا ہے کہ یہ ریاست کا کام نہیں ہے یہ ادارے کا کام نہیں ہے لیکن ویسا ہی کام اگر سیکولر اور لبرل فرانس کے اندر ، ترکی اور تیونس کے اندر سیکورٹی مسائل کے خلاف(نظری اعتبار سے) ریاست اور ادارے حجاب پر پابندی لگاتے ہیں تو اسے ریاست کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔

اگر کوئی ادارہ پاکستان کے اندر معاشرتی مسائل کی بناء پر کوئی قد غن لگاتا ہے تو اس کے خلاف شور اٹھتا ہے حتیٰ کہ اسے اسلام کے خلاف سمجھا جاتا ہے لیکن ایک یورپی ملک (نام یاد نہیں، امید ہے دی نیوز ٹرائب پر آپ نے بھی پڑھا ہو گا ) میں مردوں میں بڑھتی ہوئی 'لسٹ' اور شہوانیت سے عورت کو محفوظ کرنے کے لیے عورتوں پر یہ پابندی لگائی جاتی ہے کہ وہ پبلک مقامات پر تنگ لباس پہن کر مت آئیں اور جب نکلیں تو مکمل لباس کے ساتھ باہر آئیں جو ضرور پنڈلیوں کو کور کرتا ہو ۔ سوال ہے کہ اس وقت یہ شخصی آزادی کہاں گم ہو گئی؟ ریاست لوگوں کے کپڑوں اور چلنے پھرنے پر کیوں چڑھ دوڑی؟ اور اس سے بڑا سوال کہ وہ سب لوگ کہاں گم ہو گئے جو اسلام کے معاملے میں ریاست کی حدیں مقرر کر رہے ہوتے ہیں۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی سوچا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ شخصی آزادی  کو ڈسپلن کے قدموں میں اس وقت قتل کر دینا ضروری سمجھا جاتا ہے اور جو ادارہ اپنی جو بھی یونیفام مقرر کر دے اس پر عملدرآمد فرض ہوتا ہے  ورنہ آپ اس ادارے میں داخل ہونے کا حق نہیں رکھتے   لیکن اگر کوئی ادارہ اپنے ادارے کے تعلیمی وقار اور معاشرتی فلاح کے لیے کوئی اسلامی شق لاگو کرے تو اسے انسانی حقوق کے خلاف اور جبر کے رویے کے طور پر لیا جاتا ہے۔


دراصل ایک مخصوص "مائنڈ سیٹ' ہے جو افراد کو ذمہ داری سے بری کرتے ہوئے ریاست اور اداروں کو سونپتا ہے اور جب ریاست آگے بڑھتی ہے تو اس سے پکڑ کر فرد کی پاکٹ میں ڈال دیتا ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ آپ کچھ کر سکتے ہیں تو تبلیغی جماعت کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن معاشرے کو بدلنے کا خواب چھوڑ دیں۔ حالانکہ "اسلامی ریاست" میں مولانا مودودیؒ نے ہی کہا ہے کہ انفرادی انقلاب ، سیاسی انقلاب کے بغیر ناپائیدار ہے۔ انفرادی طور پر آپ اس کو خیر کی دعوت دیتے رہیں دیتے رہیں اور اس کے نتیجے میں بغیر کسی جبر کے وہ داڑھی اور ٹوپی پر راضی ہو جائے لیکن اسے اس معاشرے میں چھوڑ دیں جہاں ریاست "اسلامک ائنوائرمینٹل کنڈیشنز" کو اپنی ذمہ داری ہی نا سمجھتی ہو ۔ وہ اس معاشرے میں 4 دن بھی اپنے پورے عمل کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا۔ کھینچ تانی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور ایمان مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کی تکرار شروع ہو جائے گی -

اس صورت حال میں مولانا مودودیؒ، سید قطب شہیدؒ اور امام القرضاوی کی مختلف آراء سے ایک معقول چیز نکلتی ہے کہ ریاست کا ہرگز کام نہیں کہ کسی پر زبردستی پردہ چڑھا دے اور داڑھیاں نکال کھینچے لیکن ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ "اسلامک انوئرمینٹل کنڈیشنز" پیدا کرے تاکہ خیر معاشرے میں پروان چڑھے اور بدی کو گھٹن محسوس ہو۔ اور اس سلسلے میں کوئی قدغن لگانا ضروری سمجھے تو لگا دے -

پردہ انسان کا انفرادی معاملہ ہے لیکن ایک عورت کا یہ حق کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ شہر کے لوگوں کو دیدار عام کرواتی پھرے اور مجموعی طور پر معاشرے میں جنسی انتشار پیدا کرے، اسے کونسا حق ہے کہ اپنی آزادی کی بنیاد پر لوگوں کی زندگی کو لاچار کرتی پھرے ۔ رہ سہہ کے اس کو آپ یہی جواز مہیا کر سکتے ہیں کہ جن کو خطرہ محسوس ہو وہ آنکھیں بند کر لے جیسے ٹماٹر مہنگے ہو جائیں تو ٹماٹر کھانا چھوڑ دے۔ پردے کو حوالے سے دو فوائد گنوائے جاتے ہیں ایک تو وہ اس عورت کو معاشرے کی بری نظروں سے محفوظ رکھتا ہے دوسرا معاشرے کو عورت کے حسن کے کرشمے سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اب یہاں تک تو عورت کو آزادی ہے کہ چاہے تو اپنی فکر کرے یا نا کرے لیکن معاشرے کے حوالے سے یہ اسلامی ریاست اور اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسے محفوظ رکھیں۔



اس فکری اور عملی کشمکش کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں ریاست سے اختیار سلب کرنے کے بجائے ریاست کو بالغ نظری کے ساتھ تمام حق دینا چاہیے لیکن اس کے استعمال میں احتیاط برتنا ریاست کا کام ہو ۔جہاں انتشار پھیلنے کا خطرہ ہو، کسی فتنہ کے سر اٹھانے کی بو محسوس کی جا رہی ہو یا یہ اختیار بے سود اور بے فائدہ ہو وہاں حکمت کے تحت افراد پر چھوڑا جا سکتا ہے لیکن جہاں یہ بطور مسائل کے حل اور معاشرتی بھلائی کے ضروری ہو وہاں ریاست کو پورا پورا حق حاصل ہو کہ وہ اپنی رعایا پر کوئی قانون نافذ کر دے۔

2013 انتخابات اہم کیوں؟

on 2013-04-18


جس طرح 70ء کی دہائی میں پاکستان کے اندر سوشلزم اور اسلام کے مابین ایک جنگ کی سی صورت حال درپیش تھی حالیہ ادوار میں اس طرح اسلام اور سیکولرازم و لبرلزم کے مابین ایک کشمکش بظاہر کم ہی نظر آتی ہے  حالانکہ ایسا نہیں ہے بیسویں صدی عیسوی میں جس طرح جنگوں نے اپنے اپنے طور طریقے بدل لیے ہیں  اور ففتھ جنریشن تک جا پہنچے ہیں اسی طرح تہذیبوں اور افکار نے اپنی اثر پزیری کے دوسرے لوازم اختیار کر لیے ہیں جو بظاہر نہ تو نظر آ رہے ہوتے اور نہ کسی ایسی کشمکش کے تناظر میں دیکھائی دیتے ہیں- اسلام کو جس طرح ریاست سے جدا کرنے کیلئے چند دنوں سےحکمت عملی اپنائی گئی ہے وہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔
اس کا پہلا مظہر عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی کا عبوری حکومت کے لیے نامزدگی تھی، خوش قسمتی سے عاصمہ جہانگیر، عوام میں اپنی متنازعہ شخصیت کی بناء وفاقی عبوری حکومت کا عہدہ نہ سنبھال سکیں لیکن وہ نجم سیٹھی جسے لبرل اور سیکولر حلقوں کا قائد اعظم بھی کہا جاتا ہے، ماضی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ہاتھوں غداری کے مقدمات میں جیل کاٹ چکا ہے ، جسے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی ابھی تک غیر ملکی ایجنٹ تصور کرتی ہے ، ؐخصوصی عالمی سیکولر طاقتوں کی خواہش پر پاکستان کے اہم صوبہ ، صوبہ پنجاب کے عبوری وزیر اعلیٰ بنا دئیے گئے- نجم سیٹھی کیا کر رہے ہیں یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بسنت سے لے کر اہم دستاویزات کو اپنی چڑیا بنانے تک کون سا ایسا کام ہے جسے وہ اپنا ٹاسک سمجھ کر نہیں کر رہے؟
دوسرا مظہر اس وقت نظر آیا جس وقت مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے بیک وقت جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ کرنے سے معذرت کر لی، پاکستان میں واحد مضبوط اسلام پسندوں کی طاقت کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے یہ بہت ضروری تھا - مصر اور ترکی میں اسلام پسندوں کی حکومت آ جانے کے بعد عالمی سیکولر طاقتوں کو پاکستان سے خطرہ محسوس ہونے لگا ہے اس خدشے کا اظہار وائٹ ہاؤس میں پیش گئی ایک خصوصی رپورٹ میں بھی کیا گیا۔اگرچہ ان حالات میں یہاں کے اسلام پسندوں کے لیے بہت کم جگہ ہے لیکن اگر انہیں تھوڑا سا موقع فراہم کیا گیا تو مستقبل میں ان کے لیے عوامی دل جتنا بہت آسان ہو جائے گا اس لیے اس کا سدباب ضروری سمجھا جا رہا ہے
تیسرا مظہر 62، 63 کے گونج کا چڑھاؤ اور پھر اتار ہے، ایمان دار اور نیک قیادت کا شور اٹھا اور پھر خاموشی سے بیٹھ گیا، الیکشن کمشن کی نااہل اور نا تجربہ کار ذمہ داروں کی وجہ سے پاکستانی تاریخ میں پہلی بار 62، 63 کی خوشبو سے یہ الیکشن معطر ہوتے ہوتے رہ گئے لیکن اس کو دوبارہ کتابوں میں بند رکھنے میں امریکی سفیر کی سیکرٹری الیکشن کمشن سے ملاقات بہت اہم ثابت ہوئی کیونکہ اس کسوٹی پر شائد سیکولر اور لبرل حلقہ کسی صورت پورا نہیں اتر سکتا تھا۔ اور ملک میں موجود اسلام پسند طبقہ فائدہ اٹھا کر اسلام آباد پہنچ جاتا۔
چوتھا مظہر مذہب کے نام ووٹ مانگنے پر پابندی لگانا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو تین کی قید کی سزا۔ اسلامی جمہوری پاکستان میں روشن خیالی کے نام پر، سیکولر ازم کی بنیاد پر اور کنسرٹس کا انعقاد کروا کر ووٹ مانگنے پر پابندی نہیں لگائی گئی بلکہ اس تشخص کی بنیاد پر ووٹ مانگنے پر پابندی لگا دی گئی ہے جس پر قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے پاکستان کی تشکیل "مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ" کا نعرہ لگا کر کی حالانکہ ان حالات میں بھی دیگر اسلامی و مذہبی جماعتیں موجود تھیں، اس سے بھی صاف نظر آتا ہے کہ اس پابندی کا مقصد اسلام پسندوں کا راستہ روکنا ہے
دوسری طرف جماعت اسلامی اور دیگر اسلامی جماعتوں کو خطرے کا احساس ہو رہا ہے ۔ سید منور حسن نے جس کا اظہار منصورہ میں ہونے والی پریس کانفرنس میں بھی کیا کہ ہونے والے الیکشن پر عالمی استعمار اور اسٹیبلشمنٹ حاوی ہو رہا ہے۔ لیکن یہ کیمپ سیکولرازم کی ان کوششوں کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی اختیار کرے گا یا نہیں؟ بدقسمتی سے یہ حلقہ ایک دوسرے سے دور اور بد ظن ہے ۔۔۔۔۔۔ قاضی حسین احمد اگر کچھ دیر اور ہم میں موجود ہوتے تو عالمی استعمار کے مقابلے میں ایک بڑی دیوار کھڑی کر نے کی صلاحیت اور تجربہ رکھتے تھے لیکن افسوس اس وقت اس سیکولرازم کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے اور پاکستان میں اسلام کے سیاسی نظام کا جنازہ تیار کیا جا رہا ہے