سیاست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سیاست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ناکام کون؟

on 2013-05-21


اسلامی اسکالر- شاہ نواز فاروقی

جماعت اسلامی کو ایک بار پھر انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ کامیابی کا معاملہ ایک انگریزی محاورے کے مطابق یہ ہے کہ کامیابی کی طرح کوئی کامیاب نہیں ہوتا‘ لیکن ناکامی کا قصہ بھی یہی ہے کہ اس کی طرح کوئی ناکام نہیں ہوتا۔ کامیابی آتی ہے تو غلطی بھی ہنر بن جاتی ہے… اور آدمی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے تو ہنر بھی عیب کہلانے لگتا ہے۔ یہ دنیا عجیب جگہ ہے، یہاں کامیاب بغاوت ’’انقلاب‘‘ کہلاتی ہے، اور ناکام انقلاب کو ’’بغاوت‘‘ کہا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کامیاب نہیں ہوتی ہے تو بعض لوگ کچھ اور نہیں تو یہی کہنے لگے کہ جماعت اسلامی کو کراچی میں انتخابات کا ’’بائیکاٹ‘‘ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لیکن حق و باطل کا معرکہ عجیب ہے۔
اس معرکے میں حق کی بالادستی کی جدوجہد کرنے والے کامیاب ہوں تو بھی کامیاب ہیں اور بظاہر ناکام ہوں تو بھی کامیاب۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حق و باطل کے معرکے میں اصل چیز حق کی شہادت دینا ہے۔ جس نے حق کی شہادت دی اس کے حصے میں سعادت آئی، اور جس نے باطل کے غلبے کے لیے کام کیا وہ کامیاب ہوکر بھی ناکام ہوا۔
انسان کی فطرت ہے کہ وہ جدوجہد کرتا ہے تو کامیابی کی صورت میں اس کے ’’نتائج‘‘ بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ خواہش غلط نہیں۔ یہ سرتاپا ایک انسانی رویہ ہے۔ لیکن اپنے کام کے اچھے نتائج دیکھنے کی خواہش کرنا اور نتائج کو پوجنا دو مختلف باتیں ہیں۔ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اچھے نتیجے کی آرزو کرتے کرتے نتیجے کو پوجنے لگتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اصل چیز تو نتیجہ ہے۔ نتیجے کی پوجا کی طرف آدمی اس لیے جاتا ہے کہ دنیا میں کامیابی کا ’’سکہ‘‘ چلتا ہے۔ یہاں تک کہ کامیابی ہی ’’حق‘‘ بن جاتی ہے۔ اس غلط فہمی نے تاریخ میں بڑے ہولناک نتائج پیدا کیے ہیں۔ سرسید احمد خان برصغیر کے مسلمانوں کی بڑی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ اکثر لوگوں کو معلوم نہیں کہ سرسید انگریز پرست اور ’’بابائے جدیدیت‘‘ کیوں تھے؟ تجزیہ کیا جائے تو اس کی بنیادی وجہ انگریزوں کا غلبہ تھا۔ سرسید کو لگتا تھا کہ انگریز حق پر نہ ہوتے تو غالب کیوں ہوتے!
سرسید کو محسوس ہوتا تھا کہ انگریزوں کا غلبہ ان کی ’’عقل پرستی‘‘ کا حاصل ہے اور عقل پرستی انہیں جدیدیت نے سکھائی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے فہم کے مطابق مسلمانوں کو بھی عقل پرست اور جدید بنانے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں انہیں مذہب کے بعض تصورات رکاوٹ محسوس ہوئے تو انہوں نے بلاتکلف ان تصورات کو اٹھاکر ایک طرف رکھ دیا۔ مثلاً انہوں نے جنت اور دوزخ کا یکسر انکار تو نہ کیا، ایسا کرتے تو وہ منکرِ قرآن ہوجاتے، لیکن انہوں نے کہا کہ جنت اور دوزخ کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔ جنت اور دوزخ انسان کی ذہنی کیفیات ہیں۔ اسی طرح انہیں گمان گزرا کہ فرشتوں کا تصور بھی خلاف ِعقل ہے۔ مگر وہ فرشتوں کے تصور کا یکسر انکار نہیں کرسکتے تھے، چنانچہ انہوں نے کہا کہ فرشتے دراصل انسان کی باطنی قوتیں ہیں۔ سرسید کی یہ، اور ایسی بہت سی گمراہ کن تعبیرات انگریزوں کے غلبے اور کامیابی سے متاثر ہونے کا نتیجہ تھیں، اور سرسید کو خیال آتا تھا کہ مسلمانوں کو بھی اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ’’نتائج‘‘ پیدا کرکے دکھانے ہیں تو انہیں بھی اہلِ مغرب کی طرح سوچنا اور عمل کرنا ہوگا۔ لیکن ہمارے دین کی روایت میں ’’نتائج‘‘ کا معاملہ عجیب ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دل سے چاہتے تھے کہ اہلِ مکہ ایمان لے آئیں، لیکن ابتدائی برسوں میں آپؐ کو بہت کم کامیابی حاصل ہوئی تھی، جس کی وجہ سے آپؐ اکثر فکرمند رہتے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ہدایت دینا تمہارا کام نہیں ہے، ہدایت تو ہم ہی دیتے ہیں، تمہارا کام تو حق کو لوگوں تک پہنچا دینا ہے۔ اور بلاشبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتار اور کردار دونوں کی سطح پر بہترین انداز میں لوگوں تک حق کو پہنچایا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل کامیابی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کرتے رہے اور بالآخر سیلاب ان کی قوم کا مقدر بنا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوحؑ ناکام ہوگئے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کامیاب رہے ، البتہ ان کی قوم حق کو پہچاننے اور قبول کرنے میں ناکام ہوگئی۔ حضرت امام حسینؓ کا معاملہ تو بالکل ہی واضح ہے۔ وہ حق کی گواہی دیتے ہوئے نہ صرف یہ کہ خود شہید ہوگئے بلکہ ان کا تقریباً سارا خانوادہ ہی شہید ہوگیا۔ بظاہر دیکھا جائے تو حضرت امام حسینؓ ناکام ہوگئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ناکام تو یزید ہوا۔ حضرت امام حسینؓ کامیاب ہوئے اور ایسے کہ سید الشہداء قرار پائے۔
جماعت اسلامی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ 70 سال سے حق کی علَم بردار اور دین کے غلبے کی سب سے بڑی ترجمان ہے۔ جماعت اسلامی کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے کبھی کسی کو فرقے اور مسلک کی دعوت نہیں دی۔ جماعت اسلامی کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے کبھی کسی کو نسل، زبان، جغرافیے، ذات اور برادری کے تعصب کی جانب نہیں بلایا۔ فرد اور گروہ کامیاب ہوتے ہیں تو ان کے لیے اپنے تصور ِحق پر قائم رہنا آسان ہوتا ہے، مگر جماعت اسلامی پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے پے در پے ناکامیوں کے باوجود بھی اپنے تصورِ حق کو نہیں چھوڑا۔ حالانکہ دنیا میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں کہ مشکل حالات کا سامنا ہوتے ہی انسان اور گروہ نام اور کام کیا مذہب تک بدل لیتے ہیں۔ لیکن اللہ کے فضل و کرم سے جماعت اسلامی 70 سال پہلے جو بات کہتی تھی آج بھی وہی بات کہتی ہے۔ یہ کہنا آسان ہے، کرکے دکھانا دشوار ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہو تو کوئی جماعت 40 سال کی انتخابی ناکامیوں کو جذب کرکے اپنے تصورِ حق پر ڈٹی نہیں رہ سکتی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کمیونسٹ پارٹیاں دنیا کی بہت بڑی پارٹیاں تھیں، مگر ریاست کی قوت سے محروم ہوتے ہی وہ کہیں یکسر غائب ہو گئیں، کہیں سکڑ سمٹ کر صفر بن گئیں اور معاشرے پر ان کا کوئی نظریاتی اثر باقی نہ رہا۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ جماعت اسلامی پر انتخابی ناکامی کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی انسانوں کی جماعت ہے، وہ بھی ناکامی اور کامیابی سے متاثر ہوتی ہے، لیکن جماعت کے لوگ چند دن ناکامی کے اثر میں رہتے ہیں اور پھر معمول کی نظریاتی جدوجہد کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ غور کیا جائے تو یہ عمل تقریباً ایک معجزے کی طرح ہے۔
جماعت اسلامی نے اپنی سیاسی تاریخ میں تین بڑی انتخابی ناکامیاں دیکھی ہیں۔ پہلی ناکامی 1970ء کے انتخابات میں ہوئی۔ دوسری قاضی صاحب کے زمانے میں پاکستان اسلامی فرنٹ کی ناکامی تھی۔ اور تیسری ناکامی 2013ء کے انتخابات کی ناکامی ہے۔ ان ناکامیوں میں سب سے بڑی ناکامی 1970ء کے انتخابات کی ناکامی تھی۔ اس کی وجہ نشستوں کی تعداد نہیں، قیادت کا فرق ہے۔ مولانا مودودیؒ ان علماء میں سے تھے جن کو عہدساز کہا جاتا ہے۔ مولانا تقویٰ کا ہمالہ اور علم کا سمندر تھے، مگر ان کے دور اور ان کی قیادت میں جماعت اسلامی کو ناکامی ہوگئی۔ مگر یہ مولانا اور جماعت کی ناکامی نہیں تھی۔ یہ معاشرے کی ناکامی تھی۔ معاشرے نے حق کو پہچاننے اور قبول کرنے سے انکار کردیا۔ مولاناؒ کے تقویٰ اور علم کے فرق کے ساتھ یہی صورت حال قاضی صاحب کے زمانے میں تھی، اور یہی صورت حال سید منورحسن کے زمانے میں ہے۔ سن 2013 کے انتخابی نتائج کو دیکھا جائے تو اگر کراچی میں ایم کیو ایم دہشت کا کھیل نہ کھیلتی تو جماعت کی مجموعی انتخابی کارکردگی اور بہتر ہوسکتی تھی، لیکن وسیع تر نظریاتی منظرنامے میں یہ ایک معمولی بات ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کی باتیں عام طور پر ناکامی کے بعد کی جاتی ہیں۔ اوّل تو تحریکِ اسلامی کے ہر کارکن کو حق کے ساتھ وابستگی کے معنی ہر حال میں یاد یا مستحضر ہونے چاہئیں، لیکن ناکامی کے بعد ان کو ذہن میں تازہ کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ حق کی بالادستی کی جدوجہد کے ساتھ ہمارا تعلق متاثر نہ ہونے پائے۔ حق کے ساتھ ہمارا تعلق استوار رہے تو ناکامی بھی ہمارے لیے کامیابی ہے۔
بشکریہ: ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل

2013 انتخابات اہم کیوں؟

on 2013-04-18


جس طرح 70ء کی دہائی میں پاکستان کے اندر سوشلزم اور اسلام کے مابین ایک جنگ کی سی صورت حال درپیش تھی حالیہ ادوار میں اس طرح اسلام اور سیکولرازم و لبرلزم کے مابین ایک کشمکش بظاہر کم ہی نظر آتی ہے  حالانکہ ایسا نہیں ہے بیسویں صدی عیسوی میں جس طرح جنگوں نے اپنے اپنے طور طریقے بدل لیے ہیں  اور ففتھ جنریشن تک جا پہنچے ہیں اسی طرح تہذیبوں اور افکار نے اپنی اثر پزیری کے دوسرے لوازم اختیار کر لیے ہیں جو بظاہر نہ تو نظر آ رہے ہوتے اور نہ کسی ایسی کشمکش کے تناظر میں دیکھائی دیتے ہیں- اسلام کو جس طرح ریاست سے جدا کرنے کیلئے چند دنوں سےحکمت عملی اپنائی گئی ہے وہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔
اس کا پہلا مظہر عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی کا عبوری حکومت کے لیے نامزدگی تھی، خوش قسمتی سے عاصمہ جہانگیر، عوام میں اپنی متنازعہ شخصیت کی بناء وفاقی عبوری حکومت کا عہدہ نہ سنبھال سکیں لیکن وہ نجم سیٹھی جسے لبرل اور سیکولر حلقوں کا قائد اعظم بھی کہا جاتا ہے، ماضی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ہاتھوں غداری کے مقدمات میں جیل کاٹ چکا ہے ، جسے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی ابھی تک غیر ملکی ایجنٹ تصور کرتی ہے ، ؐخصوصی عالمی سیکولر طاقتوں کی خواہش پر پاکستان کے اہم صوبہ ، صوبہ پنجاب کے عبوری وزیر اعلیٰ بنا دئیے گئے- نجم سیٹھی کیا کر رہے ہیں یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بسنت سے لے کر اہم دستاویزات کو اپنی چڑیا بنانے تک کون سا ایسا کام ہے جسے وہ اپنا ٹاسک سمجھ کر نہیں کر رہے؟
دوسرا مظہر اس وقت نظر آیا جس وقت مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے بیک وقت جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ کرنے سے معذرت کر لی، پاکستان میں واحد مضبوط اسلام پسندوں کی طاقت کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے یہ بہت ضروری تھا - مصر اور ترکی میں اسلام پسندوں کی حکومت آ جانے کے بعد عالمی سیکولر طاقتوں کو پاکستان سے خطرہ محسوس ہونے لگا ہے اس خدشے کا اظہار وائٹ ہاؤس میں پیش گئی ایک خصوصی رپورٹ میں بھی کیا گیا۔اگرچہ ان حالات میں یہاں کے اسلام پسندوں کے لیے بہت کم جگہ ہے لیکن اگر انہیں تھوڑا سا موقع فراہم کیا گیا تو مستقبل میں ان کے لیے عوامی دل جتنا بہت آسان ہو جائے گا اس لیے اس کا سدباب ضروری سمجھا جا رہا ہے
تیسرا مظہر 62، 63 کے گونج کا چڑھاؤ اور پھر اتار ہے، ایمان دار اور نیک قیادت کا شور اٹھا اور پھر خاموشی سے بیٹھ گیا، الیکشن کمشن کی نااہل اور نا تجربہ کار ذمہ داروں کی وجہ سے پاکستانی تاریخ میں پہلی بار 62، 63 کی خوشبو سے یہ الیکشن معطر ہوتے ہوتے رہ گئے لیکن اس کو دوبارہ کتابوں میں بند رکھنے میں امریکی سفیر کی سیکرٹری الیکشن کمشن سے ملاقات بہت اہم ثابت ہوئی کیونکہ اس کسوٹی پر شائد سیکولر اور لبرل حلقہ کسی صورت پورا نہیں اتر سکتا تھا۔ اور ملک میں موجود اسلام پسند طبقہ فائدہ اٹھا کر اسلام آباد پہنچ جاتا۔
چوتھا مظہر مذہب کے نام ووٹ مانگنے پر پابندی لگانا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو تین کی قید کی سزا۔ اسلامی جمہوری پاکستان میں روشن خیالی کے نام پر، سیکولر ازم کی بنیاد پر اور کنسرٹس کا انعقاد کروا کر ووٹ مانگنے پر پابندی نہیں لگائی گئی بلکہ اس تشخص کی بنیاد پر ووٹ مانگنے پر پابندی لگا دی گئی ہے جس پر قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے پاکستان کی تشکیل "مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ" کا نعرہ لگا کر کی حالانکہ ان حالات میں بھی دیگر اسلامی و مذہبی جماعتیں موجود تھیں، اس سے بھی صاف نظر آتا ہے کہ اس پابندی کا مقصد اسلام پسندوں کا راستہ روکنا ہے
دوسری طرف جماعت اسلامی اور دیگر اسلامی جماعتوں کو خطرے کا احساس ہو رہا ہے ۔ سید منور حسن نے جس کا اظہار منصورہ میں ہونے والی پریس کانفرنس میں بھی کیا کہ ہونے والے الیکشن پر عالمی استعمار اور اسٹیبلشمنٹ حاوی ہو رہا ہے۔ لیکن یہ کیمپ سیکولرازم کی ان کوششوں کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی اختیار کرے گا یا نہیں؟ بدقسمتی سے یہ حلقہ ایک دوسرے سے دور اور بد ظن ہے ۔۔۔۔۔۔ قاضی حسین احمد اگر کچھ دیر اور ہم میں موجود ہوتے تو عالمی استعمار کے مقابلے میں ایک بڑی دیوار کھڑی کر نے کی صلاحیت اور تجربہ رکھتے تھے لیکن افسوس اس وقت اس سیکولرازم کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے اور پاکستان میں اسلام کے سیاسی نظام کا جنازہ تیار کیا جا رہا ہے

وجہ کی تلاش میں

on 2013-04-13

تحریک انصاف اور ن لیگ کی جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ نہ ہو سکنے پر مختلف آراء ہیں، جوں جوں وقت گزر رہا ہے ویسے ویسے چیزیں میچور ہوتی اور کھل کر نظر آنا شروع ہو رہی ہیں۔ تحریک انصاف میں موجود قیادت کسی بھی حتمی بات کی طرف نشان دہی نہیں کر پا رہی کہ آخر وہ کون سی وجہ تھی جس کی وجہ سے جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ عمران خان کی پرانی خواہش کے باوجود نہ ہو سکی اور خود عمران خان صاحب کمیٹی کی تشکیل کے بعد کوئی واضع موقف پیش نہیں کر پائے اور دل پسند جماعت ہونے کے باوجود جماعت اسلامی سے اتحاد نہ ہو سکنے پر کوئی بیان جاری نہیں کر پا رہے پھر دوسری طرف شاہ محمود قریشی، عمران اسماعیل اور شیریں مزاری کا جماعت اسلامی سے نظریاتی اختلاف کے بناء روز اول سے اس ایڈجسٹمنٹ پر اعتراض تو سمجھ میں آتا ہے جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کی کمیٹی نے منصورہ نہ جانے کا فیصلہ کیا اگرچہ جماعت اسلامی کے اصرار پر وہ دوبارہ تشریف لے گئے لیکن ایڈجسٹمنٹ کے اگلے صفحے کی جانب بڑھنے کے بجائے کتاب بند کرنے کے لیے - پھر اس کمیٹی نے پارٹی کو ان مذاکرات سے آگاہ کرنا بھی ضروری کیوں نہیں سمجھا؟ جس کا کھلا اشارہ اسد عمر کے بیان کی صورت میں آیا ، اسد عمر کے بارے یہ سوچا جاتا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر بولتے ہیں ، کوئی فالتو بات نہیں کرتے لیکن اپنی کم علمی کی بنیاد پر آخر انہوں خاموشی اختیار کرنا کیوں ضروری نہیں سمجھا؟ اور جواب دیا بھی تو یوں دیا کہ پارٹی کے پاس پہلے ہی ہر حلقے میں اچھے امیدوار موجود ہیں اس لیے وہ جماعت اسلامی سے اتحاد ضروری نہیں سمجھتی- میں حیران ہوں کہ آخر ایڈجسٹمنٹ نہ ہو سکنے کی اصلی وجہ کیا ہے جس کو چھپانے کے لیے اسد عمر جیسے فرد نے ایک فالتو بات کہہ دی۔ حالانکہ وہی تحریک انصاف سندھ میں فنکشنل لیگ، پنجاب میں نواب آف بہاولپور جیسے چھوٹے گروپس اور کے پی کے میں ایسے افراد کی تلاش میں ہے جو الیکشن میں معاون ہو سکیں-

دوسری طرف ن لیگ کی صورت حال بھی تحریک انصاف سے مختلف نہیں ہے ، شہباز شریف کی دلی خواہش تھی کہ جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ ہو جائے تو آسانی کے ساتھ یہ الیکشن جیت سکتے ہیں لیکن چند سیٹس کی قربانی دینے کی بجائے پورے پاکستان میں تمام سیٹس کو مشکلات میں ڈالنا پسند کر لیا، ان کی طرف سے کچھ واضع بیان یوں آیا کہ اس بار ن لیگ نے الیکشن حکمت عملی اپنائی ہے کہ وہ کو ایک لبرل اور معتدل پارٹی کے طور پر منوانا چاہتی ہے اس لیے مذہبی جماعتوں سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کی جائے گی اور ساتھ میں جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ نہ ہو سکنے کی وجہ کچھ یوں بتائی جا رہی ہے کہ پارٹی میں نئے آنے والے امیدواروں کے بعد ن لیگ کے لیے سیٹس کا مسئلہ پہلے ہی گھمبیر ہو چکا ہےاس لیے وہ اتحاد نہیں کر پائے گی۔

تحریک انصاف اور ن لیگ میں بظاہر بہت اختلاف اور تناؤ موجود رہا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ کے معاملے میں دونوں میں حد درجہ مماثلت پائی جاتی ہے، دونوں کے پاس اچھے امیدوار موجود ہیں، دونوں مذہبی پارٹیوں سے اتحاد کو گناہ کبیرہ خیال کر رہی ہیں- میں اسی وجہ کی تلاش میں ہوں

نجم سیٹھی: قوم کے لیے نیا تحفہ

on 2013-04-05

پنجاب کی وزارت اعلیٰ  کے لیے نئے نام کی نوید سنتے ہی مجھے سخت حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ دل کو سخت صدمہ پہنچا کہ جیسے دل کی دھڑکن  کچھ رک سی گئی ہو اور زبان سے یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ شاید اس قوم کی قسمت ہی اللہ نے کچھ ایسی لکھ دی ہے لیکن دوسری طرف محسوس ہوا کہ اتنے خوش قسمت لوگ بھی اس قوم میں موجود ہیں کہ حکمرانوں کی فہرست میں جن کا کوسوں دور تک نام و نشان تک نہ دکھائی دیتا ہو حکومتی ایوانوں کی کنجیاں سنبھالنے کی پردھان کا قرعہ ان کے نام نکل آتا ہو ۔ اک ایسا فرد کہ جس کے کارناموں پر نظر ڈالی جائے تو اس کا ٹھکانہ کسی جیل کی تنگ کوٹھری یا پھانسی گھاٹ نظر آتا ہے اس کا مقدر بادشاہت ٹھہرے، شاید اس سرزمین پر  گنگا ہی الٹے رخ بہتی ہے یا شاید میری آنکھوں کا فریب ہے کہ ہر چیز الٹی ہی نظر آتی ہے۔
تو لیجیے اس ملک کے باسیوں تمہاری قسمت  میں ایک اور اچھوتی شخصیت کا تحفہ بھی لکھا تھا کہ جس کے کارناموں کا اثر رہتی دنیا تک تیرے خون میں گردش کرتا رہے گا اور اس کا نام ہے" نجم سیٹھی"۔ ان کارناموں سے آپ کے دل کو سکون ملے گا یا سکوت طاری ہو جائے گا یہ تو آپ ہی جانیں آئیے ذرا آپ کو اس اچھوتی شخصیت کے اچھوت کارناموں سے روشناس کرواتے ہیں۔
1969ء کی بات ہے کہ جن دنوں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کرنے کے لیے مشرقی پاکستان کے کیمونسٹ، مارکسٹ اور نیشنلسٹ شخصیات کی جانب سے انگلینڈ اور بھارت میں بیٹھکیں جاری تھیں، ان دنوں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور انہی نظریات کے حامل 25 طلبہ انگلینڈ میں جمع ہوئے جو کہ انگلینڈ کے اداروں میں زیر تعلیم تھے ان میں ایک نوجوان کا نام نجم سیٹھی تھا، ان نوجوانوں نے مغربی پاکستان کو بھی توڑ کر  دو آزاد ریاستیں، پختونستان اور گریٹر بلوچستان بنانے کا پلان تیار کیا اور پھر اس کے لیے روز و شب محنت کرنا شروع کر دی بعد میں یہ 25 طلبہ "لندن گروپ" کے نام سے مشہور ہوئے، جب مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تو ان نوجوانوں کو مزید آشیر باد حاصل ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اس دور اقتدار کے دوران بلوچستان میں نیشنلسٹ عوامی پارٹی نے حکومت قائم کی،  ۔ اس دوران لندن گروپ کے چار یا پانچ ممبران پاکستان پہنچے ،صوبائی نیشنلسٹ پارٹی اور مغربی استعماری قوتوں کے سائے تلے ان نوجوانوں نے اپنے عزائم میں آگے بڑھتے ہوئے گوریلا وار کا آغاز کیا کیونکہ اس نظریات کے حامل لوگ خونی یا سرخ انقلاب کا راستہ اختیار کرتے ہیں اس عرصہ  بلوچستان میں عسکری کاروائیوں کے دوران  ان چاریا پانچ میں سے دو  کراچی منتقل ہوئے، ان دو میں ایک نجم سیٹھی کی ذمہ داری گوریلا وار کے لیے فنڈ ریزنگ تھی اور  ایک انجینئر کا روپ دھارے  کراچی سے کوئٹہ کی جانب ایک آرمی ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے جہاں جا کر انہوں نے کسی حکومتی اور آرمی کے تعمیراتی پراجیکٹ کا سروے کرناتھی  کیونکہ وہ کچھ سرکاری پروجیکٹس کے لیے ایک کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہے تھےاس دوران مخبری پر ان کے کچھ  ساتھیوں  کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیااور تسلسل میں نجم سیٹھی کو  کوئٹہ سے گرفتار کر کے حیدر آباد جیل  میں منتقل کر دیا گیا۔ بھٹو حکومت نے ان کی تحقیق کے لیے حیدر آباد ٹربیونل قائم کیا ، کیس چلا اور نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا دی گئی اس دوران اس گوریلا وار کے سینکڑوں لیڈروں کو گرفتار کیا گیا۔ ضیاء الحق کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے ذوالفقار علی بھٹو  کے تمام کاموں کو ختم کرتے ہوئے اس گوریلا وار کے تمام لوگوں کے لیے عام معافی کا علان کر کے رہا کر دیا جو کہ ایک سنگین غلطی تھی ، اس غلطی کی وجہ سے آج بھی بلوچستان میں گوریلا وار جاری ہے ان رہا شدہ افراد نے انداز بدل کر کام جاری رکھا لیکن محتاط ہو کر نجم سیٹھی نے ایک جرنلسٹ کا کردار اپنا لیا۔ 1984ء میں نجم سیٹھی نے ایک کتاب اپنے اخبار میں شائع کی ،یہ کتاب کیمونسٹ، سوشلسٹ اور نیشنلسٹ نظریات کے مطابق لکھی گئی  جس وجہ سے ضیاء الحق  حکومت نے ان کو جیل میں ڈال دیا لیکن کچھ عرصہ بعد رہا کر دئیے گئے۔
1996ء میں جب صدر فاروق خان لغاری نے پیپلز پارٹی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تو عبوری حکومت میں نجم سیٹھی کو وفاقی محتسب کی ذمہ داری سونپ دی گئی اور انہوں نے  بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف فائلیں تیار کئیں، انہی فائیلوں کی روشنی میں  عبوری حکومت کے بعد بننے والی نواز شریف کی حکومت میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کیس چلا، پھر 1999ء میں انڈیا کے اندر تقریر کرتے ہوئے اس صحافی نما شخصیت نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی جس پر اس وقت بھارت میں متعین پاکستانی  ہائی کمشنر  اشرف قاضی  نے  حکومت پاکستان کو نجم سیٹھی کی تقریر  بھیجتے ہوئے  پاکستان مخاف قرار دیا اس کے نتیجے میں نجم سیٹھی پر غداری کا مقدمہ دائر ہوا جیل میں بند کر دئیے گئے۔ غالب امکان تھا کہ ان کو اس بار سخت سزا دی جائے گی جس میں موت کی سزا بھی خارج از امکان نہیں تھی لیکن کچھ ہی دنوں میں ایک امریکن وفد خصوصی طور پر اسلام آباد پہنچا اور نجم سیٹھی کو رہا کر دیا گیا۔
کیونکہ اس پورے طبقے کو چونکہ پاکستان کے خلاف استعماری قوتوں کی ہمیشہ سے حمایت حاصل رہی ہے اور پاکستان میں موجود ایسے نظریات کا حامل طبقہ خصوصی طور پراسٹیبلشمنٹ اور آرمی میں موجود ایسا طبقہ ایسے نظریات کی سپورٹ کرتا آیا ہے- ہر ایسے کارنامے کے بعد جہاں ان کو واقعی سزا ہونا تھی یہ سرخرو ہو کر نکلتے رہےاور پھر پرویز مشرف کا دور شروع ہوا تو ایسے لوگوں کی چاندنی ہو گئی-
استعماری قوتیں اپنی سازشوں کو کامیا ب بنانے کے لیے میڈیا کو ایک اہم ہتھیار کے طور پہ استعمال کرتی ہیں اورمسلم آبادیوں میں موجود ایسے نظریات کی حامل شخصیات ان کے لیے قیمتی جواہرات سے بھی بڑھ کر قیمتی ہوا کرتی ہیں جو کہ اسلام پسند طبقہ کو ہر موقع اور ہر جگہ پر بدنام اور ناکام کرنے کے لیے میڈیا کے ذریعے اپنی پوری قوت استعمال کرتی ہیں – جو شخصیات ان مقاصد کی تکمیل میں آگے آگے رہتی ہیں ان کی حوصلہ افزائی کے لیے اور ان کو تقویت دینے کے لیے ان کو بین الاقوامی ایوا رڈز اور انعامات سے نوازا جاتا ہے اور اس کام کے لیے آزادئ اظہار اور میڈیا کی آزادی کا خود ساختہ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے-
جب مشرف نے مغربی استعماری قوتوں کی جنگ میں شاہ سے زیادہ شاہ کی وفا داری کا کام اپنے ذمہ لیا تو اپنے مغربی آقاؤں کے مشوروں پر پاکستان میں پرائیویٹ میڈیا کو لانچ کیا جس کا آغاز جیو ٹی وی سے ہوا اور جس نے اپنے آغاز سے آج تک اپنے ایجنڈا کی تکمیل میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی- نجم سیٹی کی چڑیا بھی اسی فضا میں پروا ز کرتی رہی- اپنے ہم نظریات کی حامل اسٹیبلشمنٹ، آرمی اور دیگر عہدوں پر موجود اہم شخصیات کے ذریعہ اہم معلومات تک رسائی حاصل رہی جس کو نجم کی چڑیا مختلف پروگرامات میں گاتی رہی اور نجم ایک اچھا پیش گو، معتبر جرنلسٹ اور صحافی کے طور پر مشہور ہوتا گیا- اس کام کے سلسلہ میں استعماری آقاؤں نے ان کی حوصلہ افزائی اور اس کام کو تقویت دینے کے لیے مختلف ایوارڈز سے نوازا اور اس وقت یہ واحد جرنلسٹ اور صحافی ہیں جو کہ اپنے اس شعبہ میں تین اہم انٹر نیشنل ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں اور دیکھا دیکھی زرداری کے ماتحت حکومت پاکستان نے بھی "ہلال پاکستان" کے ایورڈ سے نوزا ہے-
نجم سیٹھی اپنے ہم نظریات کی نظر میں ہی ایک ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے اسلامائزیشن کے ہر نقطہ اور نظریہ کی ہمیشہ اور ہر جگہ مخالفت کی ہے – مشرف کی اسلام مخالف پالیسیوں کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی ہے- لال مسجد کے بے گناہ بچوں اور بچیوں کو شہید کروانے کے لیے جو فضا بنائی گئی تھی اس میں بھی نجم کا اہم کردار شامل ہے – 2008 سے ان کی اہمیت اور بھی بڑھتی چلی گئی اور آج بھی لندن گروپ سے متعلقہ افراد زندہ ہیں اور بعد میں شامل ہونے والے کچھ افراد جو ابھی تک زندہ ہیں جرنلسٹ اور  انسانی حقوق کے نمائندے اور تجزیہ کار کی حیثیت سے اپنے مقاصد کی تکمیل کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہی افراد نے نجم سیٹھی  کے بارے ذہنوں کی آب یاری کی ہے اور آج کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ  پیپلز پارٹی کا بندہ ہے،کوئی کہتا ہے ن لیگ کا بند ہ ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اس کا تعلق ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ہے، ان تمام میں اس کے ہم خیال لوگ ضرور موجود ہیں لیکن اصل قدر مشترک اس سب کے تعلق دار استعماری قوتوں کے مقاصد ہیں جو نجم سیٹھی کی ہر دور میں پشت پناہی کرتے آ رہے ہیں- اور اسی لیےہی جیسے جیسے بلوچستان ایشو دوبارہ سے اہمیت پکڑتا جا رہا ہے ویسے ہی ایسے لوگوں کا گراف بھی بڑھتا جا رہا ہے- ایسے کارناموں پر   نظر دوڑائی جائے توواضع طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وہ کون سی قدر مشترک ہے جس  پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کل تک تو  ایک دوسرے کے پیش کردہ   ناموں  پر مخالفت کر رہی تھیں اور اچانک اس نام پر دونوں کا گہرا اتفاق ہو گیا وہ قدر مشترک ایک سیکولر ایجنڈا ہے  تو دوسرا استعماری قوتوں کی زیادہ سے زیادہ خوشنودی حاصل کرنا۔اسی طرح کا پلان وفاقی حکومت میں بھی لانے کا تیار ہوا لیکن عاصمہ جہانگیر کی شخصیت کے متنازعہ ترین پہلو ابھر کر سامنے آ گئے اور اس وجہ سے پلان کا یہ حصہ کامیاب نہ ہو سکا لیکن پنجاب میں نجم سیٹھی کی پراسرا رشخصیت  کے تاثر   نے اس کام کو آسان کر دیا آج  اس حوالے سے مغرب بھی خوش، دونوں پارٹیاں بھی خوش  اور ملک میں موجود اسلام دشمن طبقہ بھی خوش، لیکن دکھ بھری بات تو یہ ہے کہ اس ملک و قوم کی خوشی اور خوشحالی کا دور شروع  بھی ہو گا یا ہر آنے والا تحفہ ایک سے بڑھ کر ایک نکلتا رہے گا اور  اس وطن عزیز کو مزید تاریک اندھیرے میں دھکیلتا رہے گا۔

سیاسی کچھڑی

on 2013-03-29

الیکشن کا علان ہوتے ہی سیاسی ہلچل مچ گئی ہے پرانے ڈیروں پر پھر سے بڑی بڑی چارپائیاں سجا کر رونقیں بحال اور شام کی بیٹھک بیٹھنا شروع ہو چکی ہے ، ہر امیدوار نے شادی غمی کا موقع چھوڑنا، گناہ کبیرہ سمجھ لیا ہے، کارنر میٹنگز روز کا معمول بن چکا ہے قصہ المختصر عوام کی موسم بہار شروع ہو چکی ہے دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحادوں اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے رابطے تیز ہو گئے ہیں ساتھ ہی ساتھ سیاسی گھوڑوں کی رفتار میں بھی اضافہ دیکھنے میں نظر آ رہا ہے سر دست آج میں آپ کو پاکستان کی چند ایسی جماعتوں کی سیاسی گری کے مناظر دکھانا چاہوں گا جو آنے والے انتخابات میں اہم حصہ قرار دی جا رہی ہیں

مسلم لیگ ن: سیاسی طور پر منجھی ہوئی پارٹی کے لیے دو ہزار تیرہ کے انتخابات ایک بہت بڑا چیلینج بن چکے ہیں، ایک طرف عمران خان کی بتائی جانے والی سونامی سونامے کا رخ دھار رہی ہے تو دوسری طرف پس پردہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے، بعض تجزیہ نگار تو اول الزکر بھی اسی کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں، مسلم لیگ ن کی کوشش ہے کہ حسب معمول اس انتخابات میں بھی مذہبی ووٹ اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے، اسی خیال پر وہ تمام پارٹیوں اور گروہوں سے اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہےاس لسٹ میں جمعیت اہلحدیث، اہلسنت والجماعت، سنی کونسل اور جماعت اسلامی کے علاوہ چند چھوٹے غیر سیاسی گروہ موجود ہیں لیکن اس لسٹ کی سب سے بڑی جماعت ، جماعت اسلامی سے معاملات کو نہایت اہمیت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ، جماعت اسلامی ، مسلم لیگ ن کے لیے اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اگر اس کی ایڈجسٹمنٹ تحریک انصاف سے ہوتی ہے تو یہ دونوں جماعتیں مسلم لیگ ن کے لیے سردرد بن سکتی ہیں جس کے موثر علاج کے لیے، نواز شریف کو مولانا فضل الرحمن کی ضرورت محسوس ہو گی ، لیکن جماعت اسلامی اس بار چار پانچ سیٹوں پر راضی نہیں ہے ، وہ صرف لاہور کی ساتھ ساتھ پورے بنجاب سے اپنا حق مانگ رہی ہے اور تا حال مذاکرات چل رہے ہیں ہے

تحریک انصاف: جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی کی موجودگی کے باوجود تحریک انصاف ایک نئی پارٹی ہے جو باقاعدہ طور پر اپنے موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ پہلی بار میدان میں اتر رہی ہے لیکن اس سے پہلے عمران خان کو جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سابقہ انتخانات میں ایک سیٹ مل چکی ہے ۔ آنے والے انتخابات میں روز اول سے عمران خان سیاسی جماعتوں سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی مخالفت کرتے آئے ہیں اور مسلم لیگ ن کے معاملے میں تو وہ خاصہ شدت پسندانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں لیکن عمران خان نے ہمیشہ جماعت اسلامی کو اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے موزوں سمجھا ہے حال ہی میں سید منور حسن اور عمران خان کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے ملاقات ہوئی اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن تحریک انصاف اس نیوز کانفرنس کے بعد دو واضع حصوں میں بٹ چکی ہے ایک دھڑا عمران خان کی قیادت میں جماعت اسلامی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا خواہاں ہے اور اس دھڑے میں جاوید ہاشمی اور اعجاز چوہدری جیسے رہنما موجود ہیں دوسرا دھڑا شاہ محمودقریشی کی قیادت میں اس فیصلے کے خلاف چل رہا ہے اس میں عمران اسماعیل، شیریں مزاری بھی شامل ہیں، شاہ محمود قریشی نے اس سلسلے میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اس ضمن میں مخالف دھڑے کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ایسی سیٹوں پر امیدواران کا علان کر دیا گیا ہے جہاں پر جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما کھڑے ہوتے ہیں جن میں لیاقت بلوچ، نعمت اللہ خان، میاں محمد اسلم، شبیر احمد خان اور ڈاکٹر وسیم اختر شامل ہیں - اپنی ٹاپ ون سیٹس پر تحریک انصاف کے آ جانے کے بعد جماعت اسلامی کے حلقوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے، اگر عمران خان نے سمجھداری کا مظاہرہ نہ کیا تو وہ اکیلے رہ سکتے ہیں جس کا فائدہ براہ راست پی پی پی اور مسلم لیگ ن کو ہو گا-

جماعت اسلامی : مسلم لیگ ن یا تحریک انصاف کے لیے جماعت اسلامی کلید فتح کی حیثیت رکھتی ہے ، لیکن جماعت اسلامی ، سید منور حسن کی قیادت میں نہایت سمجھداری کے ساتھ کھیلنا چاہ رہی ہے اسی لیے اس نے تمام جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے آپشن کھلے رکھے ہوئے ہیں، ہر پارٹی کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اپنی رپورٹس جمع کروائے گی اور ان رپورٹس سے کوئی نتجہ اخذ کیا جائے گا۔ مسلم لیگ ن ان کو ماضی کی طرح چند سیٹیں نواز کر حمایت لینا چاہتی ہے لیکن جماعت اسلامی شائد اس بار ایسا نہیں کر نا چاہتی، تحریک انصاف نے ایک طرف کمیٹی اور دوسری طرف امیدواران کو جماعت اسلامی کے اہم حلقوں سے سامنے لا کر اسے بد ظن کر رہی ہے۔ قاضی حسین احمد اور سید منور حسن کی عمران خان سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن اس محبت کا صلہ جماعت اسلامی وصول کرتے نظر نہیں آ رہی۔ اگر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ، اس سے ایڈجسٹمنٹ کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو جماعت اسلامی کو مجموعی ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، لیکن کے پی کے میں کسی بھی پارٹی سے اتحاد کر کے حکومت بنانےکی صلاحیت پیدا کر چکی ہے۔

پی پی پی : آصف علی زرداری کی ظاہری قیادت میں پیپلز پارٹی، اس انتخابات میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہی انتخابات میں اترے گی، کے پی کے میں عوامی نیشنل پارٹی اور سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد کرے گی جبکہ بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام ف سے اتحاد کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا-

پاکستانی قوم پر ایک قرض!


میں لکھنا نہیں چاہتا تھا ، مجھے معلوم ہے کہ میرے عزیزوں میں کسی کا دل دکھے گا اور کسی کا جگر تڑپے گالیکن کیا کروں کچھ موضوع بہت ضدی ہوتے ہیں لوگوں کے احساسات سے لاپرواہ ، ہوا کی روش کے الٹ اور نتائج سے بے نیاز – میرے مہربان کبھی کبھی اس بے رنگ سے موضوع پر جاذب نظر سبز رنگ پینٹ کر کے     دکھاتے تھے اور کہتے تھے کتنا پیارا لگ رہا ہے اور میں چند لفظوں کا تبادلہ کر کے رک سا جاتا
جی ہاں میرا موضوع وہ امید ہے جسے سونامی کا نام دے کر ڈرانے کا کام لیا جاتا ہے اس نے پاکستان کے بچے بچے کے آنگن میں امید کا چراغ روشن کر کے خوش نما مستقبل کےسبز باغ دکھاۓ نوجوان اس کی زد میں آ ئے کہ ایم اے پاس دماغ بھی کچھ کام نہ آ ئے اور اس آس نے یوں دلوں میں جڑ پکڑی کہ بینزی بیٹر (ایسا اسپرے جس سےغیر ضروری جڑی بوٹیوں کا صفایا کیا جاتا ہے ) کا اسپرے بھی کر لو تو پھلنے پھولنے لگے لیکن ابھی چند ماہ ہی گزرے کہ دھند چھٹنے لگی اور مطلع صاف ہو رہا ہے نظر آرہا ہے کہ جس نے پاکستان کے سیاسی گند کو صاف کرنے کا نعرہ لگایا تھا اس نے مزید اس کو پراگندہ کر دیا ہے
آج اس امید کا حال اس پودے کا سا ہے کہ جسے آپ روزانہ خون پسینہ دیتے ہوں ، اپنے آئیڈیاز کی کھاد دیتے ہوں اور جسے صبح شام دشمن نما مخالفوں کی تپش سے بچاتے ہوں صرف اور صرف اس یقین پر کہ بڑا ہوگا تو میٹھے اور لذیز پھل دے گا لیکن ہوا کچھ یوں کہ جوں جوں یہ پودا بڑھنے لگا پھلوں کے پھول کی کونپلوں کے بجاۓ نوک دار کانٹوں کے مسام نظر آنے لگے سوچئے اس وقت ایک بے لوث کارکن کی صورت حال کسی ہپاٹائٹس کے مریض جیسی ہوتی ہے جسے اچانک پتا چلا ہو کہ اسے یہ مرض لاحق ہو چکا ہے پھر یاد آتا ہے کہ ایک نادان سی سوچ دل و دماغ پر دھند کی طرح چھا جاۓ تو ہم کس حد تک بہہ جاتے ہیں اور کھلی آنکھوں کے آگے بھی اندھیرا سا ہو جاتا ہے  ، بس مجھے یہ بتا دیجئے کہ اقتدار کا لالچ اس قدر منہ زور کیوں ہوتا ہے کہ اچھے اور برے کا فرق مٹ جاتا ہے اور لیڈروں کو اپنے قول و عمل کی سیاہی بھی نظر آنا بند ہو جاتی ہے ، دوستوں ذرا سوچو کیا ایسی امیدوں اور لیڈروں کو ، چوروں اور لٹیروں کو، جاگیرداروں اور وڈیروں کو ، گیلانیوں اور زرداریوں کو ،  حاجیوںاورشریفوں کو ، بھتہ خور دہشت گردوں اور فطرانہ خوروں کو، لبرز اور روشن خیالوں کو گھر میں پڑے مرے ہوۓ چوہے سے زیادہ اہمیت دینا چاہے ؟ جسے آپ فوراّ اٹھا کے باہر پھینک آتے ہیں
چلیں کہ سوچوں کو بدل ڈالیں”سب چور ہیں ” کو دماغ سے نکال دیں کیوں کہ اللہ کی زمین کبھی بھی نیک اور صالح لوگوں سے بانجھ نہیں رہی ، ہر دور میں موسیٰ اور فرعون موجود رہے ہیں بس ہماری آنکھیں ہیں کہ دیکھ نہیں پاتی ورنہ مکہ کا وہ عظیم شخص جس پر میرے اور آپ کے ماں باپ قربان، امانت اور سچائی میں پورے عرب میں مشہور و ممتاز، اپنے پیروکاروں کی گنتی ایک دو سے شروع نہ کرتا- آئیے پاکستانی سیاست کے نیک اور پاکیزہ صفت لوگوں کو تلاش کرنے نکلتے ہیں جن پر ایمانداری رشک کرتی ہو، پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک سابق صوبائی وزیر کی سچی کہانی پڑھی تو دل تڑپ اٹھا کہ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی اور ہم دن میں  بیسیوں بار کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست گند کا ملغوبہ ہے  لیکن وہ محب وطن صوبائی وزیر جس کا نام اس پر نہیں لکھا تھا جرمنی کے دورہ پر جاتا ہے سیکرٹری لیول کا عہدیدار ہمراہ ہے جاتے ہی اپنے زمانہ طالب علمی کے ایک دوست کو کال کی  اور اسی کی وساطت سے ایک مقامی مسجد میں پڑاؤ ڈال لیا، سارا دن سرکاری مصروفیات چلتی رہتیں اور رات مسجد میں گزرتی یوں محض پانچ سو یورو میں یہ دورہ مکمل ہو گیا لیکن اس قوم پر ایک بھاری  قرض چڑھا گئے کہ ان اور ان جیسوں کو شائد اس عمل سے پہچان لے ، کیا ہم ان کو پہچان سکتے ہیں؟ اور یہ قرض اتار سکتے ہیں؟ جب تک یہ قرض نہیں اترے گا یہ پاکستان بحرانوں میں گھرا رہے گا۔ 
   Contact: www.facebook.com/SaijdQalam