عالم اسلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عالم اسلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بنگلہ دیش کے دہشت گرد؛ ماحولیات کے لیےکوشاں

on 2014-12-04

مادہ مچھلی کو پانیوں میں چھوڑنا، ترقی یافتہ ممالک میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن ترقی  پذیر ممالک میں اس سے دوہرا فائدہ لیا جا سکتا ہے۔اس کی وجوہات درج ذیل ہیں
الف:
 یہ عمل ترقی پذیر ممالک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور ویسے بھی مچھلی اور مچھلی سےپیدا کردہ اشیاء، بیف اور مٹن سے نسبتاً سستی ہوتی ہیں۔
ب:
 انسانی اور غیر انسانی استعمال سے آبی مخلوق کم ہوتی جا رہی ہیں جو فلورا میں بے ترتیبی پیدا کر کے آبی ماحولیاتی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس عمل سے پیدا شدہ خلا کو پُر کیا جا سکتا ہے۔

بنگلہ دیش کا قومی میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اس کی ذیلی طلبہ تنظیم شبر کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

 بنگلہ دیش اسلامی چھاترا شبر قیام بنگلہ دیش کے بعد مسلسل اپنے ایجنڈے پر کاربند ہے کہ ایک روشن خوشحال بنگلہ دیش کے لیے ایماندار، باصلاحیت اور محب وطن شہری تیار کرتی رہے گی۔ اس تسلسل میں 24 ستمبر سے 30 ستمبر 2014، ایک ہفتہ پر محیط مہم چلائی گئی جس کے دوران ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں مادہ مچھلی کے بچوں کوپانیوں کے اندر چھوڑا گیا۔ مرکز سے ملک بھر کے تمام ممبران کو ہدایات پر مشتمل ایک خط روانہ کیا گیا اور زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو اس کارخیر میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ تمام مقامات پر اس ضمن میں خصوصی سیمینار، ورکشاپس اور آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ اس ہفتہ کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ کیجئے


  ڈھاکہ اور ڈھاکہ ڈویژن


باریسل ڈویژن

چٹاگانگ ڈویژن

کومیلا ڈویژن

کھلنا ڈویژن



راجشاہی ڈویژن

رنگ پور ڈویژن


سہلٹ ڈویژن









مرسی: عرب دنیا کا نیلسن منڈیلا

on 2013-08-11


تحریر: توکل کرمان۔ نوبل انعام یافتہ یمنی سوشل رہنما  


فوجی شب خون کے ذریعے  مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو ہٹائے جانے کے فورا بعد میں نے  میدان رابعہ العدویہ میں  مرسی کے حق میں جاری مظاہرے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ میرا گھر یمن کے شہر صناء میں ہے لیکن عرب بہار سے امیدیں وابستہ رکھنے والے میرے جیسے بہت سے لوگ  مصر  کی  ہونے والے واقعات کے سانجھی ہیں اس لیے میں نے چاہا کہ قتل ، تشدد کے ذریعے لوگوں کو احتجاج سے روکنا اور شب خون کی مخالفت کرنے والوں  کو زنداں میں ڈالنے کے خلاف  احتجاج کروں ۔ ایسے میں ہیومن رائیٹس کارکنوں اور ممتاز سیاستدانوں کی طرف   حیران کن خاموشی  مجھے ایک جرم لگتا ہے۔  ان لوگوں نے نہ صرف  آزادی کی خلاف ورزی پر مذمت کرنے سے 
انکار کیا بلکہ شب خون  کو پر جواز بنا کر اپنی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔

میں  نے کھلا اعلان کیا کہ میں 25 جنوری 2011 ء انقلاب  کے پھل، آزادی رائے، آزادی اجتماع اور لوگوں کے ووٹ کے ذریعے اپنے حکمران چننے کے حق کے  تحفظ کے لیے میدان رابعہ العدویہ میں جانے  لگی ہوں۔ میں ، اس گرم جوشی  کی وجہ سے  شب خون کے حمایتی میڈیا کی طرف سے  زبردست مخالفانہ  کمپین کا  نشانہ بن گئی ۔ مجھے شب خون کے حمایتیوں کی طرف سے  جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی حتاکہ  جاسوسی اور مصر کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی  پر عدالتوں میں لے جانے کی دھمکی دی گئی۔

4 اگست  کو میں اپنی دوست اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر آف وومن جرنلسٹس ودآؤٹ چین ، بشریٰ السیرابی کے ساتھ قاہرہ ایئرپورٹ پر اتری  تاکہ میں اپنے مقصد کو پورا کر سکوں  میرے دماغ میں تمام ممکنہ مناظر موجود تھے، میرا خیال تھا کہ  مصری اتھارٹی مجھے مصر میں داخل ہونے دے گی اور بعد میں سڑک پر  میں  نشانہ بنوں گی اور اس سے زیادہ ہوا تو مجھے گرفتار، قتل یا عدالت میں گھسیٹا جائے گا۔
یہ میرا پر جوش سفر تھا لیکن یہ  ختم نہ ہوا جیسا میں چاہتی تھی اورسچ کہا جائے تو نہ ہی شروع ہوا ۔ ائرپورٹ پر  آتے ہی میں ویزا پراسس  کی تکمیل کے لیے لائن میں لگ گئی، تھوڑی دیر میں ائرپورٹ کے افسر نے مجھے پہچان لیا اور  مجھے  سپیشل کاؤنٹر پر جانے کو کہا جہاں میں نے  ڈپلومیٹک پاسپورٹس کی تمام  چیکنگ کو پاس کر لیا۔

اسی لمحے ہنگامہ شروع ہو گیا  افسروں کے فون بجنے لگے اور ایک افسر کی سرگوشی تو میں نے اپنے کانوں سے سنی جو کہہ رہا تھا کہ " توکل آ گئی ہے، توکل آ گئی ہے، ہم اسے داخل نہیں ہونے دیں گے" اس نے ایسے کہا جیسے میں خطرناک ترین شخص تھی۔
مصری افسروں نے مجھے اطلاع دی کہ ہم تمہیں مصر میں داخل نہیں ہونے دے سکتے اور جلد ہی آپ کو اسی جہاز سے واپس یمن ڈی پورٹ کر دیا جائے گا جس پر آپ آئی ہیں ، اتھارٹی  مجھے اس کی کوئی واضع وجہ بتانے سے قاصر رہی اور کہا کہ آپ ہم سے بہتر جانتی ہیں کہ آپ کو کیوں ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے اور  میرا نام   سیکورٹی باڈی کے کہنے پر بلیک لسٹ کر دیا گیا۔

بدقسمتی سے میرے لیے ممکن نہیں کہ میں مظاہرین کے شانہ بشانہ میدان رابعہ العدویہ کے باہر کھڑے ہو کر ان کے ساتھ  نعرے لگا سکوں۔  ہمیں  جمہوریت، انصاف اور قابل فخر زندگی کا حق مانگنے والے لوگوں کے کھڑے ہونے میں شرم محسوس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔  مصر کی حالیہ حکومت نے مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر کو اپنے عہدہ سے ہٹایا ہے، 60 فیصد مصری عوام کی رائے سے بنے ہوئے دستور کو کالعدم کر دیا ہے اور اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ فریڈم و جسٹس پارٹی کو مصر کی سیاست سے مکمل طور پرنکال دیا ہے۔ مصر کے مستقبل کے بارے  سوچنے والے کے پاس محدود آپشنز ہیں یا تو ہم  سماجی اقدار اور جمہوریت کی بات کریں یا  مارشل لاء،  
ظلم وستم اور  جبر کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ 

Morsy Is the Arab World's Mandela کا اردو ترجمہ و تدوین

مصر پر "ٹائم" کا سرورق

on 2013-07-12


مشہور امریکی میگزین "ٹائم" نے کہا ہے کہ مصر میں جو کچھ ہوا وہ یہ ہے کہ فوج نے ایک منتخب جمہوری صدرڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ الٹ دیا اور ایک نئے مارشل لاء کا نفاذ ہوا ہے۔ آج مصر میں ایک طرف "دنیا کے بد ترین جمہوریت پسند" ہیں تو دوسری طرف میدان رابعہ العدویہ میں "دنیا کے عظیم ترین مظاہرین" ہیں۔



"ٹائم" دنیا بھر میں مشہور اور پڑھا جانے والا میگزین ہے، یہ دنیا کی مختلف زبانوں میں چھپتا ہے، اس کے تازہ شمارے کے سر ورق پر میدان رابعہ العدویہ میں موجود ڈاکٹر محمد مرسی اور قانون کی حمایت میں بیٹھے مظاہرین کی تصویر ہے جسے دو برابر حصوں میں سرخ اور سفید رنگوں سے تقسیم کیا گیا ہے۔ سفید رنگ میں "دنیا کے عظیم ترین مظاہرین" لکھا ہے جبکہ سرخ رنگ جو خون اور تشدد کو ظاہر کرتا ہے پر"دنیا کے بدترین جمہوریت پسند" لکھا گیا ہے جو٦٠ سال بعد مصر کو نصیب ہونے والی جمہوریت کا گلہ گھونٹنے کا سبب بنے جس کے نتیجے میں سینکڑوں پر امن لوگ خون میں نہا گئے۔

بائیں جانب لکھا "دنیا کے عظیم ترین مظاہرین" ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو ایک جمہوری حکومت کے خاتمے پر کروڑوں کی تعداد میں میدان رابعہ العدویہ اور ملک بھر میں پرامن مظاہرے کر رہے ہیں، وہ مصر سے آمریت کی جڑوں کو اکھاڑ دینا چاہتے ہیں ، ملک کو جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھانا چاہتے ہیں اور ڈاکڑ محمد مرسی کی واپسی چاہتے ہیں۔

میگزین نے دونوں فقرات کا نتجہ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کا فیصلہ سڑکوں کو محسوس کیا جا سکتا ہے کہ آخر کار میدان رابعہ العدویہ کے مظاہرین فتح یاب ہوں گے۔


میں وہیں یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ "ٹائم میگزین" کا تجزیہ امریکہ کی حکومت سے یکسر مختلف ہے جس نے مارشل لاء کی مخالفت کرنے کے بجائے کہا کہ یہ مارشل لاء ہے ہی نہیں بلکہ جمہوریت کی طرف ایک قدم ہے اور حکومت جلد عوامی نمائندوں کے پاس ہو گی اس سے واضع ہے کہ امریکہ مصر کے مارشل لاء کی مکمل حمایت کرتا ہے

30 جون 2013ء - مصر کے دو میدان

on 2013-06-30

دو سے تین ملین افراد کا یہ اجتماع، کوئی حج کا نظارہ نہیں اور نہ کوئی محفل ذکر و نعت کا منظر ہے۔ یہ اخوان المسلمون مصر کے نوجوانوں اور ہم نواؤں کا اجتماع ہے جو قاہرہ کی ایک مشہور مسجد الرابعہ العدویہ کے سامنے گذشتہ جمعہ سے موجود ہے۔ پر امن اتنا کہ سڑک کنارے لگے پودے ان سے تنگ نہیں ہیں، صاف ستھرا اتنا کہ صبح اٹھ ہر شخص اپنے جگہ کی صفائی کرتا ہے اور سارے اجتماع کا کوڑا ایک جگہ جمع کر دیا جاتا ہے اور وہ بلدیہ کی گاڑی اٹھا کر لے جاتی ہے، انتہائی منظم کہ ان کی خواتین اجتماع میں آتے ہوئے کھانا ساتھ لاتی ہیں لیکن مجال کہ اپنے گھر والوں سے ملنا مشکل ہو جائے۔

میدان رابعہ العدویہ کا ایک منظر


لیکن یہ چوبیس گھنٹے وہاں کرتے کیا ہیں؟ آہ! مجھے بتاتے ہوئے رشک آنے لگتا ہے اپنا دعویٰ ایمانی ہیچ لگنے لگتا ہے، آہ یہ حج کا نظارہ نہیں اور نہ کوئی محفل ذکر و نعت ہے، یہ رمضان المبارک کے شب و روز نہیں۔ آنکھ کھلتی ہے تو نماز تہجد کی تیاری ہوتی ہے کون بڑا کون چھوٹا سب با جماعت کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر اذکار کا دور ہوتا ہے فجر کی جماعت کھڑی ہو جاتی ہے۔ نماز کے بعد گلے میں لٹکے چھوٹے چھوٹے قرآن کریم کے نسخے کھل جاتے ہیں۔ دیر تک تلاوت کی آوازیں آتی رہتے ہیں اتنے میں گھروں سے ناشتہ پہنچنے لگتا ہے کچھ کے لیے مرکزی کھانے کا انتظام ہے بغیر کسی ہلچل کے یہ مرحلہ گزرتا ہے ۔ قائدین آتے ہیں تقاریر کرتے ہیں، اجتماع نعرے بھی لگاتا ہے ، ڈاکٹر محمد مرسی سے اپنی محبت کا اعادہ بھی کرتا ہے، اپنی اس محبت کے جواز "قانون شریعہ" کے حق میں بھی بولتا ہے، جان قربان کرنے کا عزم بھی کرتا ہے۔ اسٹیج سے خاموشی ہوتی ہے تو سب دوبارہ اذکار کا دور شروع کر دیتے ہیں، کوئی رو رو کر دعائیں مانگ رہا ہے، کوئی قرآن مجید کھولے تلاوت میں مشغول ہے، کوئی تسبیع پر ورد کر رہا ہے، یہ حج کا نظارہ نہیں اور نہ کوئی محفل ذکر و نعت ہے، یہ رمضان المبارک کے شب و روز نہیں۔ نماز کے اوقات میں صفیں جم جاتی ہیں، فارغ اوقات میں دعائیں اور اذکار ہوتا ہے ۔ مختلف اوقات میں قائدین تقاریر کرتے ہیں اور ان میں جذبات کو بھر دیتے ہیں۔
یہیں سے تھوڑی دور تحریر اسکوائر ہے یہاں بھی ایک مجمع موجود ہے ایک لڑکی جو انہی کا حصہ ہے مجمع کے درمیان سے نکل کر دوسری طرف جانا چاہتی ہے لیکن اسے راستہ نہیں دیا جا رہا۔ وہ جانے پر بضد ہے تو اسے ہاتھوں پر اٹھا کر دوسری طرف جانے کی آفر کی جاتی ہے پھر ایک دو ہاتھ نہیں بیسیوں نوجوان ہاتھوں سے گزرتی وہ دوسری طرف کمال مہارت و محبت سے پہنچا دی جاتی ہے۔ اس مجمع میں لڑکیاں بھی ہیں لڑکے بھی ہیں، عورتیں اور مرد بھی ساری رات غل غپاڑہ کرتے ہیں، چیختے چلاتے ہیں، سیٹیاں بجاتے ہیں، راتوں کو اپنی گرل فرینڈز کی گود میں سر رکھ کے لیٹتے ہیں۔ تحریر اسکوائر پھر تحریر کلب کا منظر پیش کرنے لگتا ہے ۔ یہ لوگ اپنے سے چند گز پر موجود صداراتی محل میں موجود مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو اقتدار سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقابلہ میدان رابعہ العدویہ میں موجود اجتماع سے ہے القیوم ہو ، اسکندریہ ہو منصورہ ہو ان لوگوں سے گلیوں بازاروں کو لوٹا ہے جگہ جگہ اخوانیوں کے جسموں سے لہو پیا ہے لیکن 30 جون 2013ء شام کے چار بجنے کو ہیں لیکن ان کی ہمت نہیں ہو رہی کہ صدارتی محل پر دھاوا بول سکیں کیونکہ ان کا مقابلہ میدان رابعہ العدویہ میں موجود اجتماع سے ہے جو دعائیں مانگ رہے ہیں

اے ہمارے رب! تو غنی ہے ہم فقیر ہیں
تو طاقت ور ہے ہم کمزور ہیں
جہانوں میں کوئی سپر پاور نہیں سوائے تیری ذات کے
اے ہمارے رب!
اے ہمارے رب!
اے ہمارے رب!
ہمارے لیے اپنی تدبیر فرما۔۔۔۔ ہمارے لیے اپنی چال چل ۔ ہماری مدد فرما