نظریات و افکار لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
نظریات و افکار لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

تبدیلی کی سرشت اور فتویٰ جدید

on 2016-04-26


انسان کی سرشت تبدیل ہو جانا ہے، اس کے لیے اسے کسی خارجی دباؤ کی ضرورت نہیں پڑتی- مثلاً آپ کسی ایک ہی جوتے کو سالہ سال پہننے کو پسند نہیں کرتے، سال دو کے بعد ہی اسے تبدیل کرنے کی خواہش آپ میں جنم لینے لگتی ہے چاہے اس جوتے کی حالت بہتر ہی کیوں نہ ہو- اس تبدیلی پر اثر انداز ہونے والے خارجی عناصر میں آپ کی تنخواہ ہے یا آپ کا شیخ و میمن ہونا- آپ ہفتے کے سات دن اور ہر دن کے تین اوقات میں فقط روٹی کھانا پسند نہیں کرتے، اگر بہت ہی برے حالات بھی ہوں تو ہفتہ میں ایک آدھ دن آپ چاول بھی تناول کرتے ہیں- پھر خود روٹی کے ساتھ سالن کو تبدیل کرتے رہتے ہیں- آپ روز بینگن کے ساتھ روٹی کھا کے دکھائیں- ایسا تو حکماء مریضوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ صبح دوپہر شام کدو چھیل کے کچا کھانا ہے- ہم اپنے گھروں میں اپنی خواتین کو دیکھتے ہیں کہ ہر سال وہ کمرے کی سینٹنگ تبدیل کر دیتی ہیں، بیڈ بھی وہی ہوتا ہے، صوفہ بھی وہی ہوتا ہے، الماری اور شو کیس بھی وہی ہوتا ہے لیکن تبدیل ہونے کی سرشت مجبور کرتی ہے کہ کچھ آگے پیچھے کر کے ہی حلیہ بدل دیا جائے- اس کار جہاں میں باریک بینی سے جائزہ لیجئے تبدیل ہونے کی یہ اندرونی خواہش آپ کو پورے معاشرے میں نظر آئے گی- لیکن آپ نے دیکھا کہ کبھی انسان نے سوچا ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا جو طریقہ بتایا ہو انسان کی جبلت نے اسے بدلنے کی خواہش ظاہر کی ہو، خدا کو سجدہ ہی کرنا ہے نا، تو کیا مغرب میں خدا ہے مشرق میں نہیں ہوگا؟ کیوں نہ رخ بدل لیا جائے؟ چلیں ایک ہی سورۃ فاتحہ بار بار پڑھنے سے اکتاہت پیدا ہو گئی ہو، قرآن مجید تو پورا معتبر اور فصیلت والا ہے سورۃ فاتحہ کی جگہ کوئی اور سورت پڑھ لیتے ہیں؟ ایسی سوچ نہیں آتی کیوں کہ یقین ٹوٹنے لگتا ہے، تعلق کمزور ہونے لگتا ہے- یہاں دین کی تقریبا ساری ہی تعلیمات اور اعمال رکھے جا سکتے ہیں اور صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ الہام خود ایک خارجی عنصر ہے جسے ایمان کی طاقت بہم پہنچ رہی ہے، انسان کی دماغی ارتقاء سے ان کا مادی وجود بدل رہا ہے، ایسے میں شریعت کے فروع میں تبدیلی کا فطری جذبہ پیدا ہوتا ہے لیکن وہ اپنے ایمان کے بچاؤ کے لیے اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے- اور اگر ایمان پر اس کی گرفت کمزور پڑ گئی تو پھر وہ اگلا سوال کرتا ہے کہ مصافحہ درست تو پھر معانقہ بھی درست ہونا چاہیے- اور اگر لونڈی حلال تھی تو گرل فرینڈ بھی حلال کرو- اور پھر کوئی اس کو اجتہاد کا نام دے تو ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ خواہش کو پورا کرنے کا نام اجتہاد ہوگا؟ اب ہم سوچنے لگیں گے کہ کیا مذہب کو جامد بنانے والی سوچ پیدا کی جا رہی ہے- نہیں انسان کو بنانے والا خالق اپنی کاریگری سے خوب واقف ہے، اس لیے اپنی تعلیمات اور ہدایات کی روشنی میں بدلنے کی آزادی دیتا ہے لیکن اس آزادی کو خواہش کے تابع رکھنے کے بجائے ایمان کے تابع بناتا ہے- لیکن اکثر ایسا ہوا ہے کہ حد درجہ انتہا پسندی، مسلمان کو مادی وسائل جیسے لاوڈ اسپیکر کو برتنے سے بھی روکتی ہے اور حد درجہ آزاد روی، خواتین سے مصافحے کی اجازت دے دیتی ہے

فکر مودودیؒ: ایک مباحثہ

on 2016-03-20

پہلا حصہ
بعض احباب، مودودیؒ اور جنابِ غامدی کے خلاف اہل مدارس کا ردعمل دیکھ کر دونوں کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیتے ہیں، اہل مدارس کا ایک مخالفانہ مزاج ہے کہ جس سے اختلاف پیدا ہوا اس کیخلاف فتوے تراشے، اس کے نام کے ہجوں پر تحقیق کر کے مقدمات تیار کیے اور کچھ کثر رہ گئی تو مخالف کی تحریروں سے چھوٹے چھوٹے فقرے نکال کر انہیں خلافِ شریعت اور خلاف اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی- یہ مزاج برصغیرمیں باپ دادا کی وراثت کی طرح جاری و ساری ہے، ہمارے نوجوان طبقہ علماء کو بڑے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہیے کہ اس مزاج نے انہیں کیا دیا ہے اورکیا لیا ہے-
علم چاہے دنیا کا ہو یا دین کا، کسی کی میراث نہیں ہے، اور اللہ کا پیغام تو ہرانسان کے لیے عام ہے، وہ خود سمجھے، مختلف علمی سرمایے سے معاونت حاصل کرے یا براہ راست اہل مدارس سے رہنمائی لے، یہ انسان پر منحصر ہے، لہٰذا مدارس سے باہر بھی مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ اٹھ سکتے ہیں جو دین کو خلوص اور انہماک سے پڑھیں، سمجھیں اور دوسروں کو سمجھائیں، کیونکہ مسلمانوں کے علمی سلسلے کا زخیرہ مدارس میں موجود ہے وہ زبان بذبان اور سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں تک منتقل بھی ہو رہا ہے، اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ کوئی آزاد مسلمان فہم میں حد درجہ کمی پیشی کا شکار ہے تو انہیں دلائل و برہان اور تقویٰ و خشیت الہیٰ کے ساتھ سمجھانا چاہیے-
یہیں وہ آزاد مسلمان جو مدارس کے بجائے اپنی کوششوں سے دین کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہیں، انہیں بھی یہ احساس رکھنا ہوگا کہ روایت سے انحراف کا رویہ تحقیقی اور علمی رویہ نہیں ہے، آپ روایت کو دریا بُرد کر کے نئے سرے سے دین کی تشریح کا بیڑا اٹھانے کی کوشش نہیں کر سکتے اور کریں بھی گے تو وہ سواد اعظم میں قبول نہیں ہو سکے گی- تاریخ اسلام میں ایسے کئی نیک اور صالح شخصیات گزری ہیں جنہوں نے یہ کوشش کر کے دیکھ لی، آج ان میں سے چند ایک کے نام ہی باقی ہیں- اسلام نے جو زبان اور الفاظ چنے وہ اپنے وقت میں مروج تھے، یہی وجہ ہے قرآن مجید عرب کے بدوں کو بھی ویسے ہی سمجھ میں آیا جیسے پڑھے لکھوں کو آیا- وقت بدلتے بدلتے لفظ اپنے اصل مطالب کھو بیٹھتے ہیں یا بدل جاتے ہیں، وقت کے مفہوم تک پہنچے کے لیے ہمیں روایت کا ہی سہارا درکار ہوتا ہے، اس کا قطعاً مطلب نہیں کہ روایتی آراء سے باہر سوچا ہی نہیں جا سکتا اور اجتہاد کے دروازے بند دینا چاہیے، لیکن یہ سب کچھ اس سہارے کے بغیر آپ کو کہیں سے کہیں اٹھا کر پھینک سکتا ہے-
اس سارے پس منظر کے ساتھ ہم سب کو مودودیؒ اور جنابِ غامدی میں فرق قائم رکھنا چاہیے، مودودیؒ روایتی نہیں تھے جیسا کہ جنابِ غامدی بیان کرتے ہیں کہ وہ ابتدا میں مجتہدانہ فکر رکھتے تھے لیکن جلد ہی اہل مدارس کی مخالف سے روایتی عالم دین بن گئے اور نہ وہ اس قدر جدت پسندی کے قائل تھے جیسا کہ اہل مدارس کی غالب اکثریت انکے بارے رائے موجود ہے کہ انہوں نے دین کی نئی تشریح کر کے مودودیت کا فرقہ بنانے کی کوشش کی- مودودیؒ ان دونوں آراء کے درمیان ٹھہرتے ہیں، جہاں انہوں نے محسوس کیا کہ ایک پہلو میں دنیا بہت بدل چکی ہے، لوگوں کو الٹے پیر نہیں چلایا جا سکتا تو انہوں نے اجتہادی قوت استعمال کر کے مسلمانوں کو نیا راستہ دیا، اور جہاں محسوس کیا کہ روایت آراء کے ساتھ تعلق قابل فخر ہوسکتا ہے انہوں نے کھل کر اسے اپنی تحریر کا حصہ بنایا، وہ خود کہتے ہیں کہ 
"بزرگان سلف کے اجتہادات نہ تو اٹل قانون قرار دئیے جا سکتے ہیں اور نا سب کے سب دریا برد کر دینے کے لائق ہیں۔ صحیح اور معتدل مسلک یہی ہے کہ ان میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے مگر صرف بقدر ضرورت اور اس شرط کے ساتھ کہ جو رد و بدل بھی کیا جائے تو دلائل شرعیہ کی بناء پر کیا جائے۔ نیز نئی ضروریات کے لیے نیا اجتہاد کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ اس اجتہاد کا ماخذ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہو اور یہ اجتہاد وہ لوگ کریں جو علم و بصیرت کے ساتھ اتباع و اطاعت بھی رکھتے ہوں۔ رہے وہ لوگ جو زمانہ جدید کے رجحانات سے مغلوب ہو کر دین میں تحریف کرنا چاہتے ہیں، تو ان کا حق اجتہاد کو تسلیم کرنے سے قطعی انکار ہی کیا جا سکتا ہے۔رسائل مسائل (دوم)۔ صفحہ 186"
رہی بات مودودیؒ اور جنابِ غامدی کے تعلق کی تو وہ ہے استدلال کے استعمال کا، لیکن یہاں بھی دو مختلف راستے کے راہی بن جاتے ہیں- استدلال اگر علم کلام میں بولے تو مودودیؒ بنتا ہے اور اگر استدلال، فیصلہ ساز بن جائے تو جنابِ غامدی کی شکل اختیار کر لیتا ہے

دوسرا حصہ
مسلمانوں کی زندگیوں میں جس طرح امام غزالیؒ نے ایک نیا جادو بھر دیا تھا اور جس طرح امام شاہ ولی اللہؒ نے ایک سحر پھونک دیا تھا، اسی طرح دنیا بھر کے مسلمانوں کے سامنے امام سید مودودیؒ نے ایک نئی دنیا پیدا کر دی تھی، اسی لیے انہیں اسلامی علمی تاریخ کی عبقری شخصیت کہا جاتا ہے، مجھے کبھی کبھی بہت دکھ ہوتا ہے کہ ان کی علمی تحریک کو وہ تسلسل نصیب نہیں ہو سکا جو ہمارے ہاں باقی علمی شخصیات کے ضمن میں رواں ہے- اس بابت اگر ہمارے ہاں کسی دینی علمی تحریک کی مثال پیش کی جائے تو دیوبند کی روایتی علمی تحریک ہے جو ایک تسلسل کے ساتھ موجود ہے لیکن بدقسمتی سے یہ اس مزاج اور طرزاستدلال سے موافق نہیں جو سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے ہاں پایا جاتا ہے، البتہ سلسلہ فراہی ان کے مزاج سے موافق ہے، حمید الدین فراہیؒ بظاہر مولانا شبلیؒ کے شاگرد تھے لیکن انہوں نے دین کو ایک نئی تعبیردی، اگرچہ یہ تعبیر بڑی تعداد میں مسلمانوں کو اپنی جانب مائل نہیں کرسکی لیکن بہرحال اس میں ایک تسلسل برقرار رہا ہے، مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اس کو پکڑا، یہیں سید مودودیؒ منظرنامے پر ابھرتے ہیں، چونکہ آپ غیر معمولی شخصیت تھے، مزاج کی مناسبت سے مولانا امین احسن اصلاحیؒ، سید مودودیؒ کے ساتھ آ ملے، سترہ سالہ رفاقت کے بعد سلسلہ فراہی ایک مرتبہ پھرعلیحدہ ہوکر اپنی پٹڑی پر چل پڑا، لیکن اس کے تسلسل میں پاکستان کے اندر دوسری بڑی شخصیت جاوید احمد صاحب غامدی کو بھی ابتداء میں جماعت اسلامی کی آغوش حاصل رہی لیکن ظاہر ہے مزاج کا اتفاق، طرز استدلال کو پس پشت نہیں ڈال سکتا، نتیجتاً طرزاستدلال سے پیدا ہونے والے فروع میں فرق آنے پر یہ بھی جماعت اسلامی سے ٹوٹ گئے، جناب غامدی کے بعد ان کے شاگردوں کی تعداد درجنوں میں ہے اس بحث سے قطع نظر کہ ان کے اثرات پڑھی لکھی کمیونٹی پر کس قدر محدود رہے ہیں لیکن یہ زندہ علمی تحریک ہے جس کی وجوہات موضوع بحث نہیں- اصولی طور پر فکرِ مودودیؒ کے تسلسل میں غیر معمولی شخصیت کوئی میسر آئی تو وہ خرم جاہ مرادؒ کی تھی، ان کے علاوہ ان کی فکر سے تحریک لینے والی عظیم شخصیات کی تعداد برصغیر یا دنیا بھر میں ہزاروں میں ہے، کیونکہ سید مودودیؒ کا متن اردو زبان میں موجود ہے اس لیے یہ امید رکھی جانی چاہیے تھی کہ ان کا تسلسل قائم رہتا لیکن ایسا نہیں ہوا، ان کے اٹھنے کے بعد ان کے پیروؤں کو جن مسائل نے گھیرا، وہ اس میں الجھ کر رہ گئے، اور کچھ انہیں پکڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرنے بھی لگے تو وہ ان کے الفاظ میں نئے مفاہیم تلاش کرنے سرگرم رہے
ویسے تو یہ بات سید مودودیؒ سے منسوب کی جاتی ہے کہ ان کی فکر کو تیسری نسل بہتر طریقے سے سمجھ پائے گی، یہ بات مبنی برحقیقت لگتی ہے جب ہم عالمی منظرنامے پر ہونے والی تبدیلیوں اور ان کی وجہ سے ہر ملک اور بالخصوص اسلامی ممالک پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں، ان کے لٹریچر کے پس منظر میں ان کی فکر کی ضرورت پہلے سے زیادہ پیدا ہو رہی ہے- لہذا ضروری ہو گیا ہے کہ ایک بار پھر ان علمی ورثہ میں غوطہ زن ہوا جائے اور ان کے مزاج کی چاشنی اور طرز استدلال کی روشنی سے نئی دنیا کے تمام مسائل کو پڑھا اوراسلامی حل تجویز کیا جائے

تیسراحصہ
ویسے تو یہ دانشوری کا زمانہ ہے، ایک اینٹ اٹھاؤ، نیچے سے درجنوں اسکالرز نکلیں گے، لیکن پُراثر دانش وری تو ٹویٹر کا اکاؤنٹ ہے، جو اپنے زورِ الفاظ سے فیورٹ بھی لیتا ہے، ری ٹویٹ بھی پاتا ہے اور یہ کیفیت اس پر تسلسل کے ساتھ طاری رہے تو فالورز بھی چوکھے بنا لیتا ہے- دانشوری بھی اپنے مزاج اور طرزاستدلال کی قوت سے اپنی راہ بناتی ہے، نہ کہ روتی اور بلکتی ہے کہ مجھے اختیار فیصلہ عطاء کیا جائے- اس میں بھی بہت سی ایسی دانشوریاں بھی بڑا مقام حاصل کر لیتی ہیں جو حقیقاً فریب کا خول پہنے ہوئے ہوتی ہیں ، یہ زیادہ عرصہ نہیں چل پاتیں اور ایک دن خودبخود اس خول میں شگاف پڑتے نظر آنے لگتے ہیں-
جماعت اسلامی کے حوالے سے قحطِ الرجال کا ذکر چل رہا ہے اور تخصیص کے ساتھ اس کی وجوہات پر مسئلہ اٹکا ہوا ہے، بہت سے فاضل احباب یہ رائے رکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی میں بطور تنظیم غور و فکر کرنے والوں کی گنجائش موجود نہیں ہے، قرین گمان ہے یہ بات صد فیصد درست ہو گی کیونکہ جماعت کی تنظیم بارے میری معلومات عموماً سطحی قسم کی ہیں- باوجود یہ چیز کسی پُرخلوص علمی شخصیت کی راہ کا اٹکاؤ نہیں ہے الا یہ کہ جماعت اسلامی کا فورم اس سے کھینچ لیا جائے- اس طرح کی مثالیں بھی ہمارے سامنے موجود ہیں، پہلی مثال جو مولانا مودودیؒ کی حیات میں دیکھی گئی وہ جنابِ غامدی کی ہے اور اس عہد میں جاوید اکبر انصاری کی مثال دی جا سکتی ہے- لیکن ان کی وجوہات بڑی جاندار اور دلچسپ ہیں، اور قحط الرجال کی ایک بڑی وجہ بھی-
ہمارے پاس مولانا مودودیؒ کا پورا لٹریچر موجود ہے، جب ہم مولانا کے مزاج کی بات کرتے ہیں، تو اس سے مراد ہوتا ہے کہ وہ عقل کو اپیل کرے گا، فکر کو جھنجھوڑے گا، عمل پر مائل کرے گا اور جب ہم ان کے طرزِ استدلال کی بات کرتے ہیں تو وہ ہے نیا اسلوب جس کی بنیاد میں استدلال کوٹ کوٹ کر بھرا ہے، وہ مرہم بھی ہے اور نشتر بھی ہے، وہ باغی بھی ہے اور محبت کا ہالا بھی ہے- ہم میں اکثر بشمول اس آنگن میں موجود میں حلقہِ دانشور ان کے بارے درست رائے قائم نہیں کر پاتا اور درست رائے باندھ بھی لے تو قائم نہیں رکھ پاتا- ہم میں بہت سے انہیں ایک مجتہد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور بہت سے روایت کو استدلال کی طاقت فراہم کرنے والی شخصیت قرار دیتے ہیں- یہی کچھ جاوید احمد صاحب غامدی یا جاوید اکبر صاحب انصاری کے معاملے میں ہوتا ہے، 
جنابِ غامدی تو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ شروع کے ادوار میں مولانا مودودیؒ کا فکری لہجہ وہ نہیں تھا جو بعد میں بن گیا، وہ مجتہد سے روایتی بن گئے اور اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ مولانا علمائے کرام کی طرف سے ہونے والی تنقید پر بدل گئے- غامدی صاحب کی یہ خواہش تھی کہ مولانا کے قلم سے تسلسل کے ساتھ اجتہادی افکار ابھرتے رہتے جیسا کہ ان کے ہاں پیدا ہوتے رہتے ہیں، دوسری طرف جاوید اکبر انصاری صاحب مزاج تو وہی رکھتے لیکن مکمل طور پر روایتی ہیں، مجتہدانہ سوچ ان کو چھو کر بھی نہیں گزری، یہی وجہ کہ وہ مولانا کے کیے ہوئے اجتہادات کو بھی حرف غلط کی مٹا دینے کی بات کرتے ہیں، خاص کر سیاست کے ضمن میں وہ جمہوریت اور سیاست میں کئے جانے والے سمجھوتوں کے خلاف بولتے رہتے ہیں اور اس پر ایک کتابچہ بھی لکھا ہے-
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، جیسا کہ مزاج اور طرز استدلال میں واضع ہے کہ نہ انہیں قطعیت کے ساتھ مجتہد قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ قطعیت کے ساتھ روایتی مفکر کہا جا سکتا ہے، ان کا مسلک اعتدال کا ہے، نہ تو وہ غامدی ہیں اور نہ انصاری ہیں وہ صرف سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہیں- اور شاید جماعت اسلامی کا اسٹیج اسی کو چجتا ہے جو اس اعتدال کو قائم رکھتے ہوئے، مولانا مودودیؒ کے مزاج اور طرزِاستدلال کے مطابق نئے سوالات کے جواب تلاش کرتا ہے- پھر وہ کہیں مولانا سے آگے اجتہاد کرتا نظر آئے گا تو کہیں مولانا سے پیچھے روایت کو تھامتا دکھائی دے گا، اس حسنِ اعتدال کے ساتھ جماعت اسلامی کا فورم اس کے لیے ٹویٹر کا اکاؤنٹ ہے- میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں اسے رونا اور بلکنا نہیں پڑے گا چاہے اسے جماعت قبول کر لے یا نہ کرے- لیکن تاحال فکرِ مودودیؒ کو وہ تسلسل نصیب نہیں ہو سکا جو ہمارے ہاں باقی علمی شخصیات کے ضمن میں رواں ہے

مودودیؒ، غامدی اور اہل مدارس

on 2016-03-16


بعض احباب، مودودیؒ اور جنابِ غامدی کے خلاف اہل مدارس کا ردعمل دیکھ کر دونوں کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیتے ہیں، اہل مدارس کا ایک مخالفانہ مزاج ہے کہ جس سے اختلاف پیدا ہوا اس کیخلاف فتوے تراشے، اس کے نام کے ہجوں پر تحقیق کر کے مقدمات تیار کیے اور کچھ کثر رہ گئی تو مخالف کی تحریروں سے چھوٹے چھوٹے فقرے نکال کر انہیں خلافِ شریعت اور خلاف اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی- یہ مزاج برصغیرمیں باپ دادا کی وراثت کی طرح جاری و ساری ہے، ہمارے نوجوان طبقہ علماء کو بڑے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہیے کہ اس مزاج نے انہیں کیا دیا ہے اورکیا لیا ہے-
علم چاہے دنیا کا ہو یا دین کا، کسی کی میراث نہیں ہے، اور اللہ کا پیغام تو ہرانسان کے لیے عام ہے، وہ خود سمجھے، مختلف علمی سرمایے سے معاونت حاصل کرے یا براہ راست اہل مدارس سے رہنمائی لے، یہ انسان پر منحصر ہے، لہٰذا مدارس سے باہر بھی مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ اٹھ سکتے ہیں جو دین کو انہماک سے پڑھیں، سمجھیں اور دوسروں کو سمجھائیں، کیونکہ مسلمانوں کے علمی سلسلے کا زخیرہ مدارس میں موجود ہے وہ زبان بذبان اور سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں تک منتقل بھی ہو رہا ہے، اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ کوئی آزاد مسلمان فہم میں کمی پیشی کا شکار ہے تو انہیں دلائل و برہان اور تقویٰ و خشیت الہیٰ کے ساتھ سمجھانا چاہیے-
یہیں وہ آزاد مسلمان جو مدارس کے بجائے اپنی کوششوں سے دین کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہیں، انہیں بھی یہ احساس رکھنا ہوگا کہ روایت سے انحراف کا رویہ تحقیقی اور علمی رویہ نہیں ہے، آپ روایت کو دریا بُرد کر کے نئے سرے سے دین کی تشریح کا بیڑا اٹھانے کی کوشش نہیں کر سکتے اور کریں بھی گے تو وہ سواد اعظم میں قبول نہیں ہو سکے گی- تاریخ اسلام میں ایسے کئی نیک اور صالح شخصیات گزری ہیں جنہوں نے یہ کوشش کر کے دیکھ لی، آج ان میں سے چند ایک کے نام ہی باقی ہیں- اسلام نے جو زبان اور الفاظ چنے وہ اپنے وقت میں مروج تھے، یہی وجہ ہے قرآن مجید عرب کے بدوں کو بھی ویسے ہی سمجھ میں آیا جیسے پڑھے لکھوں کو آیا- وقت بدلتے بدلتے لفظ اپنے اصل مطالب کھو بیٹھتے ہیں یا بدل جاتے ہیں، وقت کے مفہوم تک پہنچے کے لیے ہمیں روایت کا ہی سہارا درکار ہوتا ہے، اس کا قطعاً مطلب نہیں کہ روایتی آراء سے باہر سوچا ہی نہیں جا سکتا اور اجتہاد کے دروازے بند دینا چاہیے، لیکن یہ سب کچھ اس سہارے کے بغیر آپ کو کہیں سے کہیں اٹھا کر پھینک سکتا ہے-
اس سارے پس منظر کے ساتھ ہم سب کو مودودیؒ اور جنابِ غامدی میں فرق قائم رکھنا چاہیے، مودودیؒ روایتی نہیں تھے جیسا کہ جنابِ غامدی بیان کرتے ہیں کہ وہ ابتدا میں مجتہدانہ فکر رکھتے تھے لیکن جلد ہی اہل مدارس کی مخالف سے روایتی عالم دین بن گئے اور نہ وہ اس قدر جدت پسندی کے قائل تھے جیسا کہ اہل مدارس کی غالب اکثریت انکے بارے رائے موجود ہے کہ انہوں نے دین کی نئی تشریح کر کے مودودیت کا فرقہ بنانے کی کوشش کی- مودودیؒ ان دونوں آراء کے درمیان ٹھہرتے ہیں، جہاں انہوں نے محسوس کیا کہ ایک پہلو میں دنیا بہت بدل چکی ہے، لوگوں کو الٹے پیر نہیں چلایا جا سکتا تو انہوں نے اجتہادی قوت استعمال کر کے مسلمانوں کو نیا راستہ دیا، اور جہاں محسوس کیا کہ روایت آراء کے ساتھ تعلق قابل فخر ہوسکتا ہے انہوں نے کھل کر اسے اپنی تحریر کا حصہ بنایا، وہ خود کہتے ہیں کہ 
"بزرگان سلف کے اجتہادات نہ تو اٹل قانون قرار دئیے جا سکتے ہیں اور نا سب کے سب دریا برد کر دینے کے لائق ہیں۔ صحیح اور معتدل مسلک یہی ہے کہ ان میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے مگر صرف بقدر ضرورت اور اس شرط کے ساتھ کہ جو رد و بدل بھی کیا جائے تو دلائل شرعیہ کی بناء پر کیا جائے۔ نیز نئی ضروریات کے لیے نیا اجتہاد کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ اس اجتہاد کا ماخذ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہو اور یہ اجتہاد وہ لوگ کریں جو علم و بصیرت کے ساتھ اتباع و اطاعت بھی رکھتے ہوں۔ رہے وہ لوگ جو زمانہ جدید کے رجحانات سے مغلوب ہو کر دین میں تحریف کرنا چاہتے ہیں، تو ان کا حق اجتہاد کو تسلیم کرنے سے قطعی انکار ہی کیا جا سکتا ہے۔رسائل مسائل (دوم)۔ صفحہ 186"
رہی بات مودودیؒ اور جنابِ غامدی کے تعلق کی تو وہ ہے استدلال کے استعمال کا، لیکن یہاں بھی دو مختلف راستے کے راہی بن جاتے ہیں- استدلال اگر علم کلام میں بولے تو مودودیؒ بنتا ہے اور اگر استدلال، فیصلہ ساز بن جائے تو جنابِ غامدی کی شکل اختیار کر لیتا ہے-

پاکستان میں سیکولرزم کا ہمہ وقتی بحران

on 2016-02-28

درآمد شدہ نظریات جب کسی اجنبی معاشرے میں آتے ہیں تو پہلا مسئلہ جو انہیں درپیش آتا ہے وہ اپنی پروڈکٹ کا نام اور خصائص کو مقامی زبان میں پیش کرنے کا ہے، ظاہر ہے ایک ایسا شہر جس میں سب گنجے آباد ہوں، اس کے بازار میں کنگھے کے نام سے کوئی چیز نہیں بک سکتی، چہ جائیکہ کنگھے کا نام بدل کر بال اگانے والا آلہ رکھ دیا جائے اور زور زور سے ہاکری کی جائے کہ روزانہ تین وقت اسے گنجے سروں پر پھیرا جائے تو آہستہ آہستہ بال اگنا شروع ہو جائیں گے، ایسی پروڈکٹ کیسے نہیں بکے گی، جب تک لوگ اس کو آزما کر دیکھ نہیں لیں گے اور دوسروں کو بتائیں گے نہیں تب تک گنجوں کے شہر میں ایسی دکانوں پر ایک عارضی رش لگ جائے گا، بعینہ اسی طرح کا معاملہ مغرب کی پروڈکٹ سیکولرزم کے ساتھ درپیش آتا ہے جب وہ مغربی معاشرے سے مسلمان معاشرے میں آتی ہے تو اسے اپنی اصطلاح اور مفہوم کا ایسا بحران گھیر لیتا ہے جو وقتی اور ہنگامی نہیں ہوتا ہے۔

ایک مسلمان معاشرے میں سیکولرزم اپنے اصل اصطلاح اور مفہوم کے ذریعے تواسلامی مارکیٹ کے تقاضے پورے کرنے سے رہی کیونکہ جب بھی اسلامی مارکیٹ میں 'دنیا' کے نام سے 'لااسلام' اور 'لادین' چیز بکنے کے لیے آئے گی ،گاہک اسے خریدنے کے بجائے کراہت اور نفرت کا اظہار کرنے لگیں گے، عجب نہیں کہ چند اس دکان کو بھی ڈھا دینے کا مطالبہ کرنے لگیں جو اسلام کو کاٹ کر کچھ بیچنا چاہتی ہو ،اس اسلام کو جو غارِ حرا سے اٹھ کر دنیا سے مخاطب ہوا تھا ۔لہٰذا مسلمان معاشروں کے سیکولر دانشوروں نے سوچا کہ اس پورے سیاسی فلسفے کا لیبل بدل کر ایسا معقول سا نام رکھ دیا جائے جسے سن کر مسلمان گاہک کم ازکم ان کی بات سننے اور خریدنے کی جانب مائل تو ہو سکے لیکن بدقسمتی سے اسکے علمبردار سیکولرزم کے لیےسوائے اس کے لفظی مطلب 'دنیا'کے اردو میں کوئی اصطلاح پیش کرنے میں آج تک ناکام رہے ہیں جونہ صرف اسکا متبادل ہو بلکہ اس کی اصل تعریف کی سرخی بھی بن سکے، محض 'دنیا' بنانے کی اس کوشش کے باوجود یہ فقط ' دنیا' نہیں ہے بلکہ 'دنیا' بنانے کے ایسے نظریات ہیں جس میں اسلام کی 'آخرت' بنانے کی قطعاً کوئی گنجائش نہ ہوـ عرب دنیا میں بھی سیکولرزم کو اسی بحران کا سامنا رہتاہے جہاں اس کے لیے ہمت کر کے کہیں عِلمانیہ اور کہیں علمانیہ کی اصطلاحیں پیش کی گئیں ۔عِلمانیہ کے معنی سائنس اور عِلم سے متعلقہ نظریات تھے اس لیے اس معنی و مفہوم کا اطلاق کسی صورت سیکولرزم پر نہیں کیا جا سکتا تھا ، علمانیہ اس کا درست لفظی مطلب تھا جو اردو میں دنیا سے متعلق یا دنیاوی کا ہم معنی ہے-

معنی و مفہوم کے اس ہمہ وقتی بحران کی بنیادی وجہ یہ تھی یورپ کے اندر ایسے دانشوروں کو ایک ایسا مذہب ملا جو اس دنیا سے ماوراء ایک عقیدہ رکھتا تھا اور انسان کی دنیاوی زندگی کے ارتقاء کا ازلی دشمن تھا ۔یہ دشمنی سیکولرزم سے پہلے وہ اسلام سے بھی برت چکا تھا جب مسلمانوں نے اسپین میں عیسائیوں کوعربی اعداد کی تعلیم دی تو عیسائیت نے اسے مذہبی جرم تصور کیا، اور مسلمانوں کی علمی ترقی کو فتوحات کے بعد کے سانحات میں شمار کیا گیا ۔لہذا عیسائی مذہب کی ماروائے دنیا نظریات کے ردعمل میں دنیا کا نظریہ پیش کیا گیا اور تعریف یہ کی گئی جو مذہب ہمیں نہیں کرنے دیتا وہ ہم کریں گے، مطلب ہم اپنی اجتماعی اور عملی زندگی کی ساری کاوشیں دنیاوی زندگی کی تعمیر و ترقی میں لگائیں اور مذہب ان تمام شعبوں سے خارج کر دیں گے، یہی منظرنامہ سیکولرزم کےبنیادی فلسفے میں کارفرما تھا اور اسی سے نکلے ہوئے معنی، مفہوم اور تشریح ہمیں مغرب کی ڈکشنریوں اور ان سائیکلوپیڈیاز میں ملتے ہیں۔

آکسفورڈ ڈکشنری میں سیکولر لفظ کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے:

1- دنیوی یا مادی یعنی دینی یا روحانی نہ ہو جیسے لادینی تربیت، لادینی فن یا موسیقی، لادینی اقتدار و حکومت جو کلیسا کی حکومت سے متضاد یا مخالف ہے۔

2- یہ رائے کہ دین (مذہب) کو اخلاق و تربیت کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے۔

لوبسٹر کی ڈکشنری آف ماڈرن ورلڈ میں سیکولرزم کی تشریح کرتے ہوئے لکھا گیا ہے:

1- دنیوی روح یا دنیوی رجحانات وغیرہ بالخصوص اصول و عمل کا ایسا نظام جس میں ایمان اور عبادت کی ہر صورت کو رد کر دیا گیا ہو۔

2- یہ عقیدہ کہ مذہب اور کلیسائی احکامات کا امور مملکت اور تربیت عامہ میں کوئی دخل نہیں ہے۔

لوبسٹرز نیو ورلڈ ڈکشنری آف دی امریکن لینگویج میں سیکولرزم کا مطلب یہ لکھا گیا ہے

سیکولرزم عقائد اور اعمال کا ایسا نظام ہے جو دینی (مذہبی) عقیدے کی ہر صورت نفی کرتا ہو۔

اب ذرا انسائیکلوپیڈیاز میں سیکولرزم کی تشریحات ملاحظہ فرمائیں۔

انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا لکھتا ہے:

سیکولرزم ایک ایسی اجتماعی تحریک کا نام ہے جس کا اصل ہدف لوگوں کی توجہ امور آخرت کے اہتمام سے ہٹا کر صرف دنیا کو ان کی توجہ کا مرکز بناتا تھا، کیونکہ قرون وسطیٰ میں لوگ دنیا سے کنارہ کشی کا شدید رجحان رکھتے تھے اور دنیا سے بے رغبت ہو کر خدا اور آخرت کی فکر میں منہمک رہتے تھے، اس رجحان کے بالمقابل انسانی جذبہ اور رجحان کے بروئے کار لانے کے لیے سیکولرزم وجود میں آیا اور دورِ نشاۃ ثانیہ میں لوگوں نے انسانی اور ثقافتی سرگرمیوں اور دنیا کے مرغوبات کے حصول میں زیادہ دلچسی کا اظہار شروع کر دیا- سیکولرزم کی جانب یہ پیش قدمی تاریخ جدید کے تمام عرصے میں دین ( مسیحیت) سے متضاد تحریک کی حیثیت میں آگے بڑھتی اور ارتقاء حاصل کرتی رہی۔

انسائیکلولوپیڈیا آف امریکانا سیکولرزم کی تشریح ان الفاظ میں کرتاہے:

سیکولرزم ایک ایسا اخلاقی نظام ہے جس کی بنیاد پند و نصائح کے اصولوں پر رکھی گئی ہو اور جو الہامی مذہب پر انحصار نہ رکھتا ہو، سیکولرزم تمام اہم سوالات مثلاً خدا کے وجود اور روح کے غیر فانی ہونے وغیرہ پر بحث و تمحیص کا حق دیتا ہے-

یہ سیکولرزم کے وہ مفہوم اور تشریحات ہیں جو نہ صرف مغرب کی مرتب کی گئیں ڈکشنریز اور لکھی گئے ہر انسائیکلوپیڈیا میں ملتی ہیں بلکہ اس حوالے سے لکھی گئی ہر چھوٹی بڑی کتاب میں اسی بنیاد پر نظریات اٹھائے گئے ہیں جس میں دین (مذہب) کی تعلیمات اور کسی بھی قسم کا کردار نہ ہو، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیکولرزم ، لادینیت کا معنی و مفہوم رکھتا ہے۔ اسی لیے مسلمان معاشرے میں سیکولرزم ایک ہمہ وقتی بحرانی کیفیت سے دوچار ہو جاتا ہے سیکولرزم اس بحران پر قابو پانے سے قاصر ہے، یہی وجہ ہے مسلمان معاشروں میں سیکولرزم پر یقین رکھنے والے پیروکار ہمیشہ تعداد میں کم ہی رہے ہیں- ایک ایسا انسان جو اسلام کے ہوتے ہوئے سیکولرزم کو قبول کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو گویا یہ معنی و مفہوم کا بحران ، ایک مسلمان کا دینی بحران بن جاتا ہے۔ یہ کیفیت اتنہائی کمزور اور نامطمئن ہوتی ہے کہ ایک انسان بیک وقت مسلمان بھی ہو اور نا مسلمان بھی، وہ اس کیفیت میں غیرارادی طور پر زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا، وہ زیادہ عرصے تک مسلمان نہیں رہ سکتا ہے یا پھر زیادہ عرصے تک سیکولر نہیں رہ سکتا-